شکوہ بند نمبر 16

شکوہ بند نمبر 16 یہ شکایت نہیں ، ہیں اُن کے خزانے معمور نہیں محفل میں جنہیں بات بھی کرنے کا شعور قہر تو یہ ہے کہ کافر کو ملیں حُور و قصور اور بیچارے مُسلماں کو فقط وعدہء حُور اب وہ الطاف نہیں ، ہم پہ عنایات نہیں بات یہ کیا ہے کہ پہلی

شکوہ بند نمبر 15

شکوہ بند نمبر 15 بُت صنم خانوں میں کہتے ہیں مُسلماں گئے ہے خُوشی اُن کو کہ کعبے کے مسلمان گئے منزلِ دَہر سے کعبے کے حدی خوان گئے اپنی بغلوں میں دبائے ہُوئے قُرآن گئے خندہ زن کُفر ہے ، احساس تجھے ہے کہ نہیں ؟ اپنی توحید کا کُچھ پاس تجھے ہے کہ

شکوہ بند نمبر 14

شکوہ بند نمبر 14 اُمتیں اور بھی ہیں ، اُن میں گنہگار بھی ہیں عجز والے بھی ہیں ، مستِ مئے پندار بھی ہیں ان میں کاہل بھی ہیں ، غافل بھی ہیں ، ہُشیار بھی ہیں سینکڑوں ہیں کہ ترے نام سے بیزار بھی ہیں رحمتیں ہیں تری اغیار کے کاشانوں پر برق گِرتی

شکوہ بند نمبر 13

شکوہ بند نمبر 13 صفحہ ء دہر سے باطل کو مٹایا ہم نے نوعِ انساں کو غلامی سے چُھڑایا ہم نے ترے کعبے کو جبینوں سے بسایا ہم نے ترے قرآن کو سینوں سے لگایا ہم نے پِھر بھی ہم سے یہ گِلہ ہے کہ وفادار نہیں ہم وفادار نہیں ، تُو بھی تو دلدار

شکوہ بند نمبر 12

شکوہ بند نمبر 12 محفلِ کون و مکاں میں سحروشام پھرے مئے توحید کو لے کر صفتِ جام پھرے کوہ میں ، دشت میں لے کر ترا پیغام پھرے اور معلوم ہے تجھ کو کبھی ناکام پھرے؟ دشت تو دشت ہیں دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے! بحرِ ظُلمات میں دوڑا دئیے گھوڑے ہم نے

شکوہ بند نمبر 11

 شکوہ بند نمبر 11 آگیا عین لڑائی میں اگر وقتِ نماز قبلہ رُو ہو کے زمیں بوس ہوئی قومِ حجاز ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز بندہ و صاحب و مُحتاج و غنی ایک ہوئے! تیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے

شکوہ بند نمبر 10

شکوہ بند نمبر 10 کون سی قوم فقط تیری طلبگار ہوئی؟ اور تیرے لئے زحمت کشِ پیکار ہوئی؟ کس کی شمشیرِجہانگیر جہاندار ہوئی؟ کس کی تکبیر سے دنیا تیری بیدار ہوئی؟ کس کی ہیبت سے صنم سہمے ہوئے رہتے تھے؟ مُنہ کے بل گر کے ھُوَاللہُ اَحَد کہتے تھے؟

شکوہ بند نمبر 9

شکوہ بند نمبر 9 تُو ہی کہہ دے کہ اُکھاڑا درِ خیبر کس نے؟ شہر قیصر کا جو تھا اس کو کیا سر کس نے؟ توڑے مخلوقِ خداوندوں کے پیکر کس نے؟ کاٹ کر رکھ دیئے کفار کے لشکر کس نے؟ کس نے ٹھنڈا کیا آتشکدہء ایراں کو ؟ کس نے پھر زندہ کیا تذ

شکوہ بند نمبر 8

شکوہ بند نمبر 8 ٹل نہ سکتے تھے اگر جنگ میں اَڑ جاتے تھے پاؤں شیروں کے بھی میداں سے اُکھڑ جاتے تھے تُجھ سے سرکش ہوا کوئی ، تو بگڑ جاتے تھے تیغ کیا چیز ہے ہم توپ سے لڑ جاتے تھے نقش توحید کا ہر دل میں بٹھایا ہم نے زیرِ خنجر بھی

شکوہ بند نمبر 7

شکوہ بند نمبر 7 ہم جو جیتے تھے تو جنگوں کی مُصیبت کے لئے اور مرتے تھے ترے نام کی عظمت کے لئے تھی نہ کچھ تیغ زنی اپنی حکومت کے لئے سر بکف پھرتے تھے کیا دہر میں دولت کے لئے؟ قوم اپنی جو زرومال جہاں پر مرتی بُت فروشی کے عوض بُت شکنی