شکوہ بند نمبر 6

شکوہ بند نمبر 6 تھے ہمیں ایک ترے معرکہ آراؤں میں خُشکیوں میں کبھی لڑتے کبھی دریاؤں میں دیں اذانیں کبھی یورپ کے کلیساؤں میں کبھی افریقہ کے تپتے ہوئے صحراؤں میں شان آنکھوں میں نہ جچتی تھی جہانداروں کی کلمہ پڑھتے تھے ہم چھاؤں میں تلواروں کی

شکوہ بند نمبر 5

شکوہ بند نمبر 5 بَس رہے تھے یہیں سلجوق بھی ، تُورانی بھی اہلِ چیں چین میں ، ایران میں ساسانی بھی اسی معمورے میں آباد تھے یُونانی بھی اسی دنیا میں یہودی بھی تھے نصرانی بھی پر ترے نام پہ تلوار اُٹھائی کس نے؟ بات جو بگڑی ہوئی تھی وہ بنائی کس نے؟

شکوہ بند نمبر 4

شکوہ بند نمبر 4 ہم سے پہلے تھا عجب تیرے جہاں کا منظر کہیں مسجود تھے پتھر کہیں معبود شجر خُوگرِ پیکرِ محسوس تھی انساں کی نظر مانتا پھر کوئی اَن دیکھے خدا کو کیونکر؟ تجھ کو معلوم ہے لیتا تھا کوئی نام ترا؟ قوتِ بازوئے مُسلم نے کیا کام ترا

شکوہ بند نمبر 3

شکوہ بند نمبر 3 تھی تو موجود ازل سے ہی تری ذات قدیم پُھول تھا زیب چمن ، پر نہ پریشاں تھی شمیم شرطِ انصاف ہے ، اے صاحبِ الطافِ عمیم بُوئے گُل پھیلتی کس طرح جو ہوتی نہ نسیم ہم کو جمیعتِ خاطر یہ پریشانی تھی ورنہ امت تری محبوب کی دیوانی تھی

شکوہ بند نمبر 2

شکوہ بند نمبر 2 ہے بجا شیوہ تسلیم میں مشہور ہیں ہم قصہء درد سناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہم سازِ خاموش ہیں ، فریاد سے معمور ہیں ہم نالہ آتا ہے اگر لب پہ تو معذور ہیں ہم اے خدا ! شکوہ ء اربابِ وفا بھی سن لے خُوگرِ حمد سے تھوڑا سا گلہ

شکوہ بند نمبر 1

شکوہ بند نمبر 1 کیوں زیاں کار بنوں سود فراموش رہُوں؟ فکرِ فردا نہ کروں ، محوِ غمِ دوش رہوں نالے بلبل کے سنوں ، اور ہمہ تن گوش رہوں ہمنوا ! میں بھی کوئی گُل ہوں کہ خاموش رہوں جُرات آموز مری تابِ سخن ہے مجھ کو شکوہ اللہ سے خاکم بدہن ہے مجھ

قتل حسین اصل میں مرگِ یزید ہے

قتل حسین اصل میں مرگِ یزید ہے یہ شعر غلط العام ہے اسے عام طور پر اقبال سے منسوب کیا جاتا ہے حالانکہ یہ شعر اقبال کا نہیں بلکہ مولانا محمد علی جوہر کا ہے ۔ قتل حسین اصل میں مرگِ یزید ہے اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد مولانا محمد علی جوہر

نظم آمد صبح از میر انیس

نظم آمد صبح از میر انیس مرثیہ : مرثیہ عربی زبان کا لفظ ہے جو لفظ رثی سے مشتق ہے۔ رثی کے معانی ہیں مردے پر رونا ، آہ و زاری کرنا۔“ یہ صنف عربی شاعری میں رائج تھی۔ عزیزوں اور بزرگ ہستیوں کی موت پر رنج والم کے جذبات سے لبریز جو اشعار کہے

سو مشہور اشعار

آج کی اس پوسٹ میں ہم ” سو مشہور اشعار” کے بارے میں پڑھیں گے ۔ یہ اشعار مختلف شعراء کے ہیں ۔ یہ اشعار ایک سند کا درجہ رکھتے ہیں ۔ یہ اشعار زبان زدِ عام ہو چکے ہیں اور ان میں سے اکثر بطور ضرب المثل یا روز مرہ کی گفتگو میں بطور