خطاب بہ جوانان اسلام

خطاب بہ جوانان اسلام کبھی اے نوجواں مسلم! تدبر بھي کيا تو نے علامہ اقبال کی یہ نظم ان کے مجموعہ کلام ’بانگِ درا‘ سے ماخوذ ہے، جس میں انہوں نے مسلمان نوجوانوں کو ان کے شاندار ماضی کی یاد دلا کر حال کی پستی سے نکلنے کا درس دیا ہے۔ شعر نمبر 1 کبھي

کبھي اے نوجواں مسلم! تدبر بھي کيا تو نے

کبھي اے نوجواں مسلم! تدبر بھي کيا تو نے کبھي اے نوجواں مسلم! تدبر بھي کيا تو نے وہ کيا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا تجھے اس قوم نے پالا ہے آغوش محبت ميں کچل ڈالا تھا جس نے پائوں ميں تاج سر دارا تمدن آفريں خلاق آئين جہاں داري

جب عشق سکھاتا ہے آداب خود آگاہی(تشریح)

جب عشق سکھاتا ہے آداب خود آگاہی شعر نمبر 1 جب عشق سکھاتا ہے آدابِ خود آگاہی کھلتے ہیں غلاموں پر اسرارِ شہنشاہی مشکل الفاظ کے معانی: آدابِ خود آگاہی: اپنی ذات کو پہچاننے کے طریقے، معرفتِ نفس۔ اسرارِ شہنشاہی: بادشاہی کے راز، حکمرانی کے گر۔ عشق: یہاں عشق سے مراد اللہ اور اس کے

جواب شکوہ از علامہ اقبال

جوابِ شکوہ علامہ محمد اقبال کی شہرہ آفاق نظم جواب شکوہ کے تمام بند  حاضر ہیں ۔۔۔۔۔۔ دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے پر نہیں ، طاقتِ پرواز مگر رکھتی ہے قدسی الاصل ہے، رفعت پہ نظر رکھتی ہے خاک سے اُٹھتی ہے ، گردُوں پہ گذر رکھتی ہے عشق تھا فتنہ