لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں

لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں بہادر شاہ ظفر کی یہ غزل اردو ادب کا وہ شاہکار ہے جو محض شاعری نہیں بلکہ ایک گرتے ہوئے عہد کی سسکی اور ایک بے بس بادشاہ کے دل کی پکار ہے ۔  اس غزل کی مکمل تشریح، معانی اور مفہوم درج ذیل ہے ۔ شاعر

لگتا نہیں ہے دل میرا اجڑے دیار میں

لگتا نہیں ہے دل میرا اجڑے دیار میں شاعر کا تعارف: بہادر شاہ ظفر ابو المظفر سراج الدین محمد بہادر شاہ ظفر (1775ء – 1862ء) مغلیہ سلطنت کے آخری تاجدار تھے۔ وہ ایک رحم دل انسان، صوفی منش بزرگ اور اردو کے مایہ ناز شاعر تھے۔ ان کا دورِ حکومت سیاسی طور پر انتہائی کمزور

رسمِ جفا کامیاب ، دیکھئیے، کب تک رہے

رسمِ جفا کامیاب ، دیکھئیے، کب تک رہے شعر نمبر 1 رسمِ جفا دیکھیے کامیاب کب تک رہے حبِّ وطن مست خواب دیکھیے کب تک رہے مشکل الفاظ کے معانی: رسمِ جفا: ظلم و ستم کا طریقہ/رواج۔ حبِّ وطن: وطن سے محبت کا جذبہ۔ محوِ خواب: نیند میں ڈوبا ہوا، غافل۔ مفہوم: دیکھنا یہ ہے

کسی کو دے کے دل کوئی نوا سنجِ فغاں کیوں ہو( تشریح)

کسی کو دے کے دل کوئی نوا سنجِ فغاں کیوں ہو شعر نمبر 1 (مطلع) کسی کو دے کے دل کوئی نوا سنجِ فغاں کیوں ہو نہ ہو جب دل ہی سینے میں تو پھر منہ میں زباں کیوں ہو مشکل الفاظ: نوا سنجِ فغاں (آہ و زاری کرنے والا)، زباں ہونا (بولنے کی طاقت

کسی کو دے کے دل کوئی نوا سنجِ فغاں کیوں ہو(غزل)

کسی کو دے کے دل کوئی نوا سنجِ فغاں کیوں ہو کسی کو دے کے دل کوئی نواسنج فغاں کیوں ہو نہ ہو جب دل ہی سینے میں تو پھر منہ میں زباں کیوں ہو وہ اپنی خو نہ چھوڑیں گے ہم اپنی وضع کیوں چھوڑیں سبک سر بن کے کیا پوچھیں کہ ہم سے

بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا( تشریح)

بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا شعر نمبر 1 (مطلع) بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا مشکل الفاظ: بس کہ (چونکہ)، دشوار (مشکل)، میسر (دستیاب/ممکن)، انساں ہونا (اخلاق و آدمیت کے اعلیٰ درجے پر فائز ہونا)۔ مفہوم: چونکہ دنیا میں کسی بھی کام کا

بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا(غزل)

بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا گریہ چاہے ہے خرابی مرے کاشانے کی در و دیوار سے ٹپکے ہے بیاباں ہونا وائے دیوانگی شوق کہ ہر دم مجھ کو آپ جانا ادھر اور آپ ہی حیراں ہونا جلوہ

داستان تیاری میں باغ کی از میر حسن ( شعر 33 تا 39)

داستان تیاری میں باغ کی از میر حسن ( شعر 33 تا 39) شعر نمبر 33 کیا قاعدے سے شروع کلام پڑھانے لگے علم اس کو تمام مفہوم: شہزادے نے باقاعدہ اصول و ضوابط (قاعدے) سے کلام کا آغاز کیا اور اساتذہ اسے تمام ضروری علوم سکھانے لگے۔ تشریح: میر حسن بیان کرتے ہیں کہ

داستان تیاری میں باغ کی از میر حسن ( شعر 25 تا 32)

داستان تیاری میں باغ کی از میر حسن ( شعر 25 تا 32) شعر نمبر 25 سبزہِ کوہ پر سایہِ ابرِ تر گرے مینہ تو موتی جھڑیں فرش پر مفہوم: پہاڑ کے سبزے پر نمناک بادلوں کا سایہ ہے اور جب بارش برستی ہے تو یوں لگتا ہے جیسے فرش پر موتی جھڑ رہے ہوں۔