فقیرانہ آئے صدا کر چلے

فقیرانہ آئے صدا کر چلے میر تقی میر اردو شاعری کے وہ آفتاب ہیں جنہیں “خدائے سخن” کہا جاتا ہے۔ ان کی شاعری میں جو سوز و گداز اور سادگی ہے، وہ کسی اور کے ہاں ملنا محال ہے۔ آپ کی فرمائش کے مطابق اس شاہکار غزل کی مکمل تشریح پیشِ خدمت ہے۔ شعر نمبر

فقیرانہ آئے صدا کر چلے

فقیرانہ آئے صدا کر چلے فقیرانہ آئے صدا کر چلے کہ میاں خوش رہو ہم دعا کر چلے جو تجھ بن نہ جینے کو کہتے تھے ہم سو اس عہد کو اب وفا کر چلے شفا اپنی تقدیر ہی میں نہ تھی کہ مقدور تک تو دوا کر چلے پڑے ایسے اسباب پایان کار کہ

تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا

تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا خورشید میں بھی اس ہی کا ذرہ ظہور تھا ہنگامہ گرم کن جو دل ناصبور تھا پیدا ہر ایک نالے سے شور نشور تھا پہنچا جو آپ کو تو میں پہنچا خدا کے تئیں معلوم اب ہوا

تجاہل تغافل تساہل کیا

تجاہل تغافل تساہل کیا تجاہل تغافل تساہل کیا ہوا کام مشکل توکل کیا نہیں تاب لاتا دل زار اب بہت ہم نے صبر و تحمل کیا زمین غزل ملک سی ہو گئی یہ قطعہ تصرف میں بالکل کیا جنوں تھا نہ مجھ کو نہ چپ رہ سکا کہ زنجیر ٹوٹی تو میں غل کیا نہ

گل کو ہوتا صبا قرار اے کاش

گل کو ہوتا صبا قرار اے کاش شاعر کا تعارف: میر تقی میر میر تقی میر کو “خدائے سخن” اور “شہنشاہِ غزل” کہا جاتا ہے۔ ان کی شاعری غم، سوز و گداز اور سادگی و پرکاری کا حسین مجموعہ ہے۔ شعر نمبر :1 گل کو ہوتا صبا قرار کاش رہتی اک آدھ دن بہار کاش مشکل

جس سر کو غرور آج ہے یاں تاجوری کا

جس سر کو غرور آج ہے یاں تاجوری کا شعر نمبر 1: جس سر کو غرور آج ہے یہاں تاجوری کا کل اس پہ یہیں شور ہے پھر نوحہ گری کا مشکل الفاظ کے معانی: تاجوری: بادشاہت، سر پر تاج ہونا۔ نوحہ گری: ماتم کرنا، رونا دھونا۔ غرور: تکبر، گھمنڈ۔ مفہوم: آج جس شخص کو اپنی

جس سر کو غرور آج ہے یاں تاجوری کا

جس سر کو غرور آج ہے یاں تاجوری کا جس سر کو غرور آج ہے یاں تاجوری کا کل اس پہ یہیں شور ہے پھر نوحہ گری کا شرمندہ ترے رخ سے ہے رخسار پری کا چلتا نہیں کچھ آگے ترے کبک دری کا آفاق کی منزل سے گیا کون سلامت اسباب لٹا راہ میں