نظم سراغ راہرو از جوش ملیح آبادی

نظم سراغ راہرو از جوش ملیح آبادی درج ذیل میں جوش ملیح آبادی کی نظم “سراغِ راہرو” کا جامع تعارف، الفاظ کے معانی، مفہوم اور تفصیلی تشریح پیش ہے۔ شاعر کا تعارف: شبیر حسن خاں نام، پہلے شبیرؔ تخلص کرتے تھے پھر جوشؔ اختیار کیا۔ 1898 ء میں ملیح آباد میں پیدا ہوئے۔ ان کے

نظم سراغ راہرو از جوش ملیح آبادی

نظم سراغ راہرو از جوش ملیح آبادی جوش ملیح آبادی کا تعارف: شبیر حسن خاں نام، پہلے شبیرؔ تخلص کرتے تھے پھر جوشؔ اختیار کیا۔ 1898 ء میں ملیح آباد میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد بشیر احمد خاں بشیرؔ، دادا محمد احمد خاں احمدؔ اور پردادا فقیر محمد خاں گویاؔ معروف شاعر تھے۔ اس

خدا سرسبز رکھے اس چمن کو مہرباں ہوکر

خدا سرسبز رکھے اس چمن کو مہرباں ہوکر حضرت اکبر الہ آبادی کی یہ خوبصورت نظم فطرت کی عکاسی اور معرفتِ الٰہی کا ایک حسین امتزاج ہے۔ ذیل میں  شاعر کا تعارف اور اشعار کی مفصل تشریح پیش ہے۔ شاعر کا تعارف: اکبر الہ آبادی اکبر الہ ابادی ہندوستانی زبان اور ہندوستانی تہذیب کے بڑے

خدا سرسبز رکھے اس چمن کو مہرباں ہوکر

خدا سرسبز رکھے اس چمن کو مہرباں ہوکر اکبر الہ آبادی کا تعارف : اکبر الہ ابادی ہندوستانی زبان اور ہندوستانی تہذیب کے بڑے مضبوط اور دلیر شاعر تھے۔ ان کے کلام میں شمالی ہندوسان میں رہنے بسنے والوں کی تمام ذہنی و اخلاقی قدروں ، تہذیبی کارناموں ، سیاسی تحریکوں ،اور حکومتی کارروائیوں کے

ہونٹوں پہ کبھی ان کے مرا نام ہی آئے

ہونٹوں پہ کبھی ان کے مرا نام ہی آئے اردو ادب کی مایہ ناز شاعرہ اداؔ جعفری کی یہ غزل تغزل، حزن اور وفاداری کی خوبصورت مثال ہے۔ ذیل میں ان کا تعارف اور غزل کی مکمل تشریح پیش ہے۔ تعارفِ شاعرہ: اداؔ جعفری اداؔ جعفری (1924–2012) اردو ادب کی پہلی معتبر اور مستند شاعرہ

ہونٹوں پہ کبھی ان کے مرا نام ہی آئے

ہونٹوں پہ کبھی ان کے مرا نام ہی آئے ادا جعفری (22 اگست 1924ء – 12 مارچ 2015ء) اردو کی پہلی صاحبِ دیوان شاعرہ، جنہیں “خاتونِ اول” کہا جاتا ہے، بدایوں میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے 12 برس کی عمر میں شاعری شروع کی، نسائی حسیت اور جدتِ لہجہ ان کی پہچان تھی۔ ان کے

لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں

لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں بہادر شاہ ظفر کی یہ غزل اردو ادب کا وہ شاہکار ہے جو محض شاعری نہیں بلکہ ایک گرتے ہوئے عہد کی سسکی اور ایک بے بس بادشاہ کے دل کی پکار ہے ۔  اس غزل کی مکمل تشریح، معانی اور مفہوم درج ذیل ہے ۔ شاعر

لگتا نہیں ہے دل میرا اجڑے دیار میں

لگتا نہیں ہے دل میرا اجڑے دیار میں شاعر کا تعارف: بہادر شاہ ظفر ابو المظفر سراج الدین محمد بہادر شاہ ظفر (1775ء – 1862ء) مغلیہ سلطنت کے آخری تاجدار تھے۔ وہ ایک رحم دل انسان، صوفی منش بزرگ اور اردو کے مایہ ناز شاعر تھے۔ ان کا دورِ حکومت سیاسی طور پر انتہائی کمزور

دہن پر ہیں ان کے گماں کیسے کیسے

دہن پر ہیں ان کے گماں کیسے کیسے یہ خواجہ حیدر علی آتش کی ایک شاہکار غزل ہے جو لکھنوی دبستانِ شاعری کی جمالیات اور تصوف کے امتزاج کا بہترین نمونہ ہے۔ ذیل میں اس غزل کے تمام اشعار کی تفصیلی تشریح، معانی اور مفہوم درج ہیں۔ شعر نمبر 1 دہن پر ہیں ان کے

دہن پر ہیں ان کے گماں کیسے کیسے

دہن پر ہیں ان کے گماں کیسے کیسے دہن پر ہیں ان کے گماں کیسے کیسے کلام آتے ہیں درمیاں کیسے کیسے زمین چمن گل کھلاتی ہے کیا کیا بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے تمہارے شہیدوں میں داخل ہوئے ہیں گل و لالہ و ارغواں کیسے کیسے بہار آئی ہے نشہ میں جھومتے ہیں