جلال آتش و برق و سحاب پیدا کر

جلال آتش و برق و سحاب پیدا کر اسرار الحق مجاز کی یہ نظم “نوجوان سے خطاب” اردو ادب میں انقلابی اور ترقی پسند شاعری کا ایک شاہکار ہے۔ اس میں شاعر نے نوجوانوں کو روایتی عشق و مستی سے نکال کر عمل، جدوجہد اور سماجی تبدیلی کی طرف راغب کیا ہے۔ ذیل میں ہر

جلال آتش و برق و سحاب پیدا کر

جلال آتش و برق و سحاب پیدا کر جلال آتش و برق و سحاب پیدا کر اجل بھی کانپ اٹھے وہ شباب پیدا کر ترے خرام میں ہے زلزلوں کا راز نہاں ہر ایک گام پر اک انقلاب پیدا کر صدائے تیشۂ مزدور ہے ترا نغمہ تو سنگ و خشت سے چنگ و رباب پیدا

نظم اسلامی مساوات از الطاف حسین حالی تشریح

نظم اسلامی مساوات از الطاف حسین حالی تشریح الطاف حسین حالی کا تعارف : خواجہ الطاف حسین حالی اردو ادب کے پہلے ریفارمر اور بہت بڑے محسن ہیں۔وہ بیک وقت  شاعر،نثر نگار،نقّاد صاحب طرز سوانح نگار اور مصلح قوم  ہیں جنھوں نے ادبی اور معاشرتی سطح پر زندگی کے بدلتے ہوئے تقاضوں کو محسوس کیا

نظم اسلامی مساوات از الطاف حسین حالی

نظم اسلامی مساوات از الطاف حسین حالی الطاف حسین حالی کا تعارف: خواجہ الطاف حسین حالی اردو ادب کے پہلے ریفارمر اور بہت بڑے محسن ہیں۔وہ بیک وقت  شاعر،نثر نگار،نقّاد صاحب طرز سوانح نگار اور مصلح قوم  ہیں جنھوں نے ادبی اور معاشرتی سطح پر زندگی کے بدلتے ہوئے تقاضوں کو محسوس کیا اور ادب

خدا سرسبز رکھے اس چمن کو مہرباں ہوکر

خدا سرسبز رکھے اس چمن کو مہرباں ہوکر حضرت اکبر الہ آبادی کی یہ خوبصورت نظم فطرت کی عکاسی اور معرفتِ الٰہی کا ایک حسین امتزاج ہے۔ ذیل میں  شاعر کا تعارف اور اشعار کی مفصل تشریح پیش ہے۔ شاعر کا تعارف: اکبر الہ آبادی اکبر الہ ابادی ہندوستانی زبان اور ہندوستانی تہذیب کے بڑے

خدا سرسبز رکھے اس چمن کو مہرباں ہوکر

خدا سرسبز رکھے اس چمن کو مہرباں ہوکر اکبر الہ آبادی کا تعارف : اکبر الہ ابادی ہندوستانی زبان اور ہندوستانی تہذیب کے بڑے مضبوط اور دلیر شاعر تھے۔ ان کے کلام میں شمالی ہندوسان میں رہنے بسنے والوں کی تمام ذہنی و اخلاقی قدروں ، تہذیبی کارناموں ، سیاسی تحریکوں ،اور حکومتی کارروائیوں کے

پہنچتا ہے ہر اک مے کش کے آگے دور جام اس کا

پہنچتا ہے ہر اک مے کش کے آگے دور جام اس کا مولانا ظفر علی خان کا مختصر تعارف: ناقوس سے غرض ہے نہ مطلب اذاں سے ہے مجھ کو اگر ہے عشق تو ہندوستاں سے ہے ظفر علی خان کی شخصیت کے کئی پہلو ہیں ۔ وہ شاعر بھی تھے ،مدیر بھی اور آزادی

پہنچتا ہے ہر اک مے کش کے آگے دور جام اس کا

پہنچتا ہے ہر اک مے کش کے آگے دور جام اس کا مولانا ظفر علی خان کا مختصر تعارف: ناقوس سے غرض ہے نہ مطلب اذاں سے ہے مجھ کو اگر ہے عشق تو ہندوستاں سے ہے ظفر علی خان کی شخصیت کے کئی پہلو ہیں ۔ وہ شاعر بھی تھے ،مدیر بھی اور آزادی

ہونٹوں پہ کبھی ان کے مرا نام ہی آئے

ہونٹوں پہ کبھی ان کے مرا نام ہی آئے اردو ادب کی مایہ ناز شاعرہ اداؔ جعفری کی یہ غزل تغزل، حزن اور وفاداری کی خوبصورت مثال ہے۔ ذیل میں ان کا تعارف اور غزل کی مکمل تشریح پیش ہے۔ تعارفِ شاعرہ: اداؔ جعفری اداؔ جعفری (1924–2012) اردو ادب کی پہلی معتبر اور مستند شاعرہ

ہونٹوں پہ کبھی ان کے مرا نام ہی آئے

ہونٹوں پہ کبھی ان کے مرا نام ہی آئے ادا جعفری (22 اگست 1924ء – 12 مارچ 2015ء) اردو کی پہلی صاحبِ دیوان شاعرہ، جنہیں “خاتونِ اول” کہا جاتا ہے، بدایوں میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے 12 برس کی عمر میں شاعری شروع کی، نسائی حسیت اور جدتِ لہجہ ان کی پہچان تھی۔ ان کے