جلال آتش و برق و سحاب پیدا کر

جلال آتش و برق و سحاب پیدا کر اسرار الحق مجاز کی یہ نظم “نوجوان سے خطاب” اردو ادب میں انقلابی اور ترقی پسند شاعری کا ایک شاہکار ہے۔ اس میں شاعر نے نوجوانوں کو روایتی عشق و مستی سے نکال کر عمل، جدوجہد اور سماجی تبدیلی کی طرف راغب کیا ہے۔ ذیل میں ہر

جلال آتش و برق و سحاب پیدا کر

جلال آتش و برق و سحاب پیدا کر جلال آتش و برق و سحاب پیدا کر اجل بھی کانپ اٹھے وہ شباب پیدا کر ترے خرام میں ہے زلزلوں کا راز نہاں ہر ایک گام پر اک انقلاب پیدا کر صدائے تیشۂ مزدور ہے ترا نغمہ تو سنگ و خشت سے چنگ و رباب پیدا

نظم سراغ راہرو از جوش ملیح آبادی

نظم سراغ راہرو از جوش ملیح آبادی درج ذیل میں جوش ملیح آبادی کی نظم “سراغِ راہرو” کا جامع تعارف، الفاظ کے معانی، مفہوم اور تفصیلی تشریح پیش ہے۔ شاعر کا تعارف: شبیر حسن خاں نام، پہلے شبیرؔ تخلص کرتے تھے پھر جوشؔ اختیار کیا۔ 1898 ء میں ملیح آباد میں پیدا ہوئے۔ ان کے

نظم سراغ راہرو از جوش ملیح آبادی

نظم سراغ راہرو از جوش ملیح آبادی جوش ملیح آبادی کا تعارف: شبیر حسن خاں نام، پہلے شبیرؔ تخلص کرتے تھے پھر جوشؔ اختیار کیا۔ 1898 ء میں ملیح آباد میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد بشیر احمد خاں بشیرؔ، دادا محمد احمد خاں احمدؔ اور پردادا فقیر محمد خاں گویاؔ معروف شاعر تھے۔ اس

خدا سرسبز رکھے اس چمن کو مہرباں ہوکر

خدا سرسبز رکھے اس چمن کو مہرباں ہوکر حضرت اکبر الہ آبادی کی یہ خوبصورت نظم فطرت کی عکاسی اور معرفتِ الٰہی کا ایک حسین امتزاج ہے۔ ذیل میں  شاعر کا تعارف اور اشعار کی مفصل تشریح پیش ہے۔ شاعر کا تعارف: اکبر الہ آبادی اکبر الہ ابادی ہندوستانی زبان اور ہندوستانی تہذیب کے بڑے

خدا سرسبز رکھے اس چمن کو مہرباں ہوکر

خدا سرسبز رکھے اس چمن کو مہرباں ہوکر اکبر الہ آبادی کا تعارف : اکبر الہ ابادی ہندوستانی زبان اور ہندوستانی تہذیب کے بڑے مضبوط اور دلیر شاعر تھے۔ ان کے کلام میں شمالی ہندوسان میں رہنے بسنے والوں کی تمام ذہنی و اخلاقی قدروں ، تہذیبی کارناموں ، سیاسی تحریکوں ،اور حکومتی کارروائیوں کے

زمیں سے رشتۂ دیوار و در بھی رکھنا ہے

زمیں سے رشتۂ دیوار و در بھی رکھنا ہے   شعر نمبر 1 زمین سے رشتہ دیوار و در بھی رکھنا ہے اسی میں اپنا کوئی نام و بر بھی رکھنا ہے مشکل الفاظ کے معانی: دیوار و در: گھر، مکان، ٹھکانہ۔ رشتہ: تعلق، واسطہ۔ نام و بر (نام و نشاں): پہچان، اپنی موجودگی کا

زمیں سے رشتۂ دیوار و در بھی رکھنا ہے

زمیں سے رشتۂ دیوار و در بھی رکھنا ہے زمیں سے رشتۂ دیوار و در بھی رکھنا ہے سنوارنے کے لیے اپنا گھر بھی رکھنا ہے ہوا سے آگ سے پانی سے متصل رہ کر انہیں سے اپنی تباہی کا ڈر بھی رکھنا ہے مکاں بناتے ہوئے چھت بہت ضروری ہے بچا کے صحن میں

تجاہل تغافل تساہل کیا

تجاہل تغافل تساہل کیا شعر نمبر 1 تجاہل، تغافل، تساہل کیا ہوا کام مشکل، توکل کیا مشکل الفاظ کے معانی: تجاہل: جان بوجھ کر انجان بننا، دانستہ بے خبری۔ تغافل: غفلت برتنا، لاپرواہی، بے التفاتی۔ تساہل: سستی کرنا، دیر کرنا، غفلت کرنا۔ توکل: اللہ پر بھروسہ کرنا، معاملے کو اللہ کے سپرد کر دینا۔ مفہوم:

تجاہل تغافل تساہل کیا

تجاہل تغافل تساہل کیا تجاہل تغافل تساہل کیا ہوا کام مشکل توکل کیا نہیں تاب لاتا دل زار اب بہت ہم نے صبر و تحمل کیا زمین غزل ملک سی ہو گئی یہ قطعہ تصرف میں بالکل کیا جنوں تھا نہ مجھ کو نہ چپ رہ سکا کہ زنجیر ٹوٹی تو میں غل کیا نہ