دنیا کے ستم یاد نہ اپنی ہی وفا یاد

دنیا کے ستم یاد نہ اپنی ہی وفا یاد شعر نمبر 1 دنیا کے ستم یاد نہ اپنی ہی وفا یاد اب مجھ کو نہیں کچھ بھی محبت کے سوا یاد مشکل الفاظ کے معانی: ستم: ظلم، ناانصافی، سختیاں۔ وفا: نبھانا، پیار میں ثابت قدمی۔ سوا: علاوہ، بغیر۔ مفہوم: شاعر کہتا ہے کہ میں محبت

دنیا کے ستم یاد نہ اپنی ہی وفا یاد

دنیا کے ستم یاد نہ اپنی ہی وفا یاد دنیا کے ستم یاد نہ اپنی ہی وفا یاد اب مجھ کو نہیں کچھ بھی محبت کے سوا یاد میں شکوہ بلب تھا مجھے یہ بھی نہ رہا یاد شاید کہ مرے بھولنے والے نے کیا یاد چھیڑا تھا جسے پہلے پہل تیری نظر نے اب

اُداسی، بے دِلی، آشفتہ حالی میں کمی کب تھی(تشریح)

اُداسی، بے دِلی، آشفتہ حالی میں کمی کب تھی رگھوپتی سہائے فراق گورکھپوری اردو غزل کے وہ معتبر نام ہیں جنہوں نے غزل کی روایتی فرسودگی کو ختم کر کے اس میں ایک نئی روح پھونکی۔ زیرِ نظر غزل بارہویں جماعت کے نصاب کا ایک اہم حصہ ہے، جس میں شاعر نے اپنی داخلی کیفیات،

اُداسی، بے دِلی، آشفتہ حالی میں کمی کب تھی(غزل)

اُداسی، بے دِلی، آشفتہ حالی میں کمی کب تھی اُداسی، بے دِلی، آشفتہ حالی میں کمی کب تھی ہماری زندگی! یارو ہماری زندگی کب تھی علائق سے ہُوں بیگانہ ولیکن اے دلِ غمگِیں تجھے کچھ یاد تو ہوگا، کسی سے دوستی کب تھی حیاتِ چند روزہ بھی، حیاتِ جاوِداں نِکلی ! جو کام آئی جہاں

اے ہم سخن وفا کا تقاضا ہے اب یہی( تشریح)

اے ہم سخن وفا کا تقاضا ہے اب یہی( تشریح) شعر نمبر 1: اے ہم سخن وفا کا تقاضا ہے اب یہی میں اپنے ہاتھ کاٹ لوں تو اپنے ہونٹ سی مشکل الفاظ کے معنی: ہم سخن: ساتھ گفتگو کرنے والا، دوست۔ تقاضا: مطالبہ، ضرورت۔ ہونٹ سینا: خاموشی اختیار کرنا۔ مفہوم: اے میرے دوست! موجودہ

اے ہم سخن وفا کا تقاضا ہے اب یہی( غزل)

اے ہم سخن وفا کا تقاضا ہے اب یہی( غزل) اے ہم سخن وفا کا تقاضا ہے اب یہی میں اپنے ہاتھ کاٹ لوں تو اپنے ہونٹ سی کن بے دلوں میں پھینک دیا حادثات نے آنکھوں میں جن کی نور نہ باتوں میں تازگی بول اے مرے دیار کی سوئی ہوئی زمیں میں جن

دل میں اک لہر سی اٹھی ہے ابھی ( تشریح)

دل میں اک لہر سی اٹھی ہے ابھی شعر نمبر 1: دل میں اک لہر سی اٹھی ہے ابھی کوئی تازہ ہوا چلی ہے ابھی مشکل الفاظ کے معنی: لہر: موج، خیال کا جوش، تڑپ۔ تازہ ہوا: خوشگوار جھونکا، یادِ یار۔ مفہوم: میرے دل میں اچانک ایک تڑپ اور یاد کی لہر پیدا ہوئی ہے،

نہ تخت و تاج میں نے لشکر و سپاہ میں ہے

نہ تخت و تاج میں نے لشکر و سپاہ میں ہے شعر نمبر 1: نہ تخت و تاج میں، نے لشکر و سپاہ میں ہے جو بات مردِ قلندر کی بارگاہ میں ہے مشکل الفاظ کے معانی: تخت و تاج: بادشاہت، سیاسی اقتدار۔ سپاہ: فوج، عسکری قوت۔ مردِ قلندر: درویش، وہ انسان جو دنیاوی حرص

نہ تخت و تاج میں نے لشکر و سپاہ میں ہے(غزل)

نہ تخت و تاج میں نے لشکر و سپاہ میں ہے نہ تخت و تاج میں نے لشکر و سپاہ میں ہے جو بات مرد قلندر کی بارگاہ میں ہے صنم کدہ ہے جہاں اور مرد حق ہے خلیل یہ نکتہ وہ ہے کہ پوشیدہ لا الہ میں ہے وہی جہاں ہے ترا جس کو

نہ گیا کوئی عدم کو دل شاداں لے کر(تشریح)

نہ گیا کوئی عدم کو دل شاداں لے کر(تشریح) شعر نمبر 1: نہ گیا کوئی عدم کو دلِ شاداں لے کر کیا کیا نہ گئے حسرت و ارماں لے کر مشکل الفاظ کے معانی: عدم: موت، وہ جگہ جہاں کچھ نہ ہو، آخرت۔ دلِ شاداں: خوش دل، مسرور دل۔ حسرت و ارماں: ادھوری خواہشات، نا