خوش خصال و خوش خیال و خوش خبر، خیرالبشرﷺ

خوش خصال و خوش خیال و خوش خبر، خیرالبشرﷺ حفیظ تائب کی یہ نعت اردو نعت گوئی کے جدید دور کا ایک شاہکار ہے۔ ذیل میں آپ کی ہدایت کے مطابق اس کا مکمل علمی و ادبی جائزہ اور تشریح پیش ہے: شاعر کا تعارف: حفیظ تائب حفیظ تائب (1931-2004) کا اصل نام عبدالحفیظ تھا۔

خوش خصال و خوش خیال و خوش خبر، خیرالبشرﷺ

خوش خصال و خوش خیال و خوش خبر، خیرالبشرﷺ حفیظ تائب کا مختصر تعارف : حفیظ تائب (1931-2004) کا اصل نام عبدالحفیظ تھا۔ آپ عصرِ حاضر میں اردو اور پنجابی نعت گوئی کا ایک نہایت معتبر اور بلند پایہ نام ہیں۔ آپ کو “مجددِ نعت” بھی کہا جاتا ہے کیونکہ آپ نے نعت کو روایتی

سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا

سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا خواجہ حیدر علی آتش اردو زبان کے ان شعراء میں سے ہیں جن کے کلام میں وقار، خودداری اور صوفیانہ رنگ نمایاں ہے۔ ان کی یہ غزل ان کے مخصوص رنگِ تغزل کی عکاس ہے، جس میں محبوب کے حسن، دنیا کی بے ثباتی اور صوفیانہ

سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا

سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا کہتی ہے تجھ کو خلق خدا غائبانہ کیا کیا کیا الجھتا ہے تری زلفوں کے تار سے بخیہ طلب ہے سینۂ صد چاک شانہ کیا زیر زمیں سے آتا ہے جو گل سو زر بکف قاروں نے

کچھ غلط بھی تو نہیں تھا میرا تنہا ہونا

کچھ غلط بھی تو نہیں تھا میرا تنہا ہونا شعر نمبر 1 شعر: کچھ غلط بھی تو نہیں تھا میرا تنہا ہونا آتش و آب کا ممکن نہیں یکجا ہونا مشکل الفاظ کے معانی: تنہا ہونا: اکیلا رہ جانا ملن: ملاپ، یکجا ہونا صورت: طریقہ، رستہ ممکن: جو ہو سکے مفہوم: شاعر کہتا ہے کہ

کچھ غلط بھی تو نہیں تھا میرا تنہا ہونا

کچھ غلط بھی تو نہیں تھا میرا تنہا ہونا کچھ غلط بھی تو نہیں تھا میرا تنہا ہونا آتش و آب کا ممکن نہیں یک جا ہونا سرِ صحرا تو عناصر بھی بھٹک جاتے ہیں اس سفر میں کسے راس آئے گا دریا ہونا کیسے بھوُلوں، وہ شبِ ہجر کے سنّاٹے میں خشک پتّے کا

داستان تیاری میں باغ کی از میر حسن( شعر 9 تا 16)

داستان تیاری میں باغ کی از میر حسن ( شعر 9 تا 16) شعر نمبر 9 بنی سنگِ مرمر سے چوپڑ کی نہر گئی چار سو اس کے پانی کی لہر مفہوم: باغ میں سنگِ مرمر سے بنی ہوئی چوپڑ کی شکل کی نہریں موجود ہیں جن کی لہریں ہر سمت (چار سو) پھیل کر