دعا میں ذکر کیوں ہو مدعا کا

دعا میں ذکر کیوں ہو مدعا کا آج کی اس پوسٹ میں ہم حسرت موہانی جن کو رئیس المتغزلین بھی کہتے ہیں ان کی مشہور غزل کی ” دعا میں ذکر کیوں ہو مدعا کا” کی تشریح اور مشکل الفاظ کے معانی بیان کریں گے ۔ اردو ادب کے آسمان پر حسرت موہانی ایک ایسے

دعا میں ذکر کیوں ہو مدعا کا

دعا میں ذکر کیوں ہو مدعا کا اردو ادب کے آسمان پر حسرت موہانی ایک ایسے درخشندہ ستارے ہیں جنہوں نے عشق اور انقلاب کو ایک ہی لڑی میں پرو دیا۔ ان کی غزلیں جہاں حسن و عشق کی لطافتوں سے لبریز ہیں، وہاں ان میں تصوف اور اخلاقی بلندی کا عکس بھی نمایاں ہے۔

اپنا سا شوق اوروں میں لائیں کہاں سے ہم

اپنا سا شوق اوروں میں لائیں کہاں سے ہم  حسرت موہانی کی خوبصورت غزل کی مکمل تشریح، معانی اور مفہوم۔ حسرت موہانی اردو شاعری میں “رئیس المتغزلین” کے لقب سے جانے جاتے ہیں، جن کی شاعری میں عشق کی پاکیزگی اور سیاست کی بے باکی دونوں نظر آتی ہیں۔ شعر نمبر 1 اپنا سا شوق

اپنا سا شوق اوروں میں لائیں کہاں سے ہم

اپنا سا شوق اوروں میں لائیں کہاں سے ہم اپنا سا شوق اوروں میں لائیں کہاں سے ہم گھبرا گئے ہیں بے دلئ ہم رہاں سے ہم کچھ ایسی دور بھی تو نہیں منزل مراد لیکن یہ جب کہ چھوٹ چلیں کارواں سے ہم اے یاد یار دیکھ کہ باوصف رنج ہجر مسرور ہیں تری

رسمِ جفا کامیاب ، دیکھئیے، کب تک رہے

رسمِ جفا کامیاب ، دیکھئیے، کب تک رہے رسمِ جفا کامیاب ، دیکھئیے، کب تک رہے حُبِ وطن، مستِ خواب، دیکھئیے، کب تک رہے دل پہ رہا مدتوں غلبہء یاس و ہراس قبضہء خرم و حجاب، دیکھئیے، کب تک رہے تابہ کجا ہوں دراز سلسلہ ہائے فریب ضبط کی، لوگوں میں تاب، دیکھئیے، کب تک