دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے

دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے مرزا اسد اللہ خان غالب کی یہ غزل اردو ادب کا شاہکار ہے جس میں انسانی جذبات، فلسفہ اور شوخی کا حسین امتزاج ملتا ہے۔ ذیل میں اس غزل کے تمام اشعار کی تفصیلی تشریح پیش ہے۔ شعر نمبر 1 دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے آخر اس درد

دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے

دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے آخر اس درد کی دوا کیا ہے ہم ہیں مشتاق اور وہ بیزار یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے میں بھی منہ میں زبان رکھتا ہوں کاش پوچھو کہ مدعا کیا ہے جب کہ تجھ بن نہیں کوئی موجود پھر یہ ہنگامہ اے

دائم پڑا ہوا ترے در پر نہیں ہوں میں

دائم پڑا ہوا ترے در پر نہیں ہوں میں شعر نمبر 1 دائم پڑا ہوا تیرے در پر نہیں ہوں میں خاک ایسی زندگی پہ کہ پتھر نہیں ہوں میں مشکل الفاظ کے معنی: دائم: ہمیشہ، مسلسل۔ در: دروازہ، چوکھٹ۔ خاک ایسی زندگی پہ: ایسی زندگی پر لعنت یا افسوس۔ مفہوم: شاعر کہتا ہے کہ

سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں

سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں  شعر نمبر 1 : سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں مشکل الفاظ کے معانی: لالہ و گل = پھول، کلیاں، خوشبو دار پھول نمایاں = ظاہر ہونا، سامنے آنا پنہاں =