شکوہ بند نمبر 14

شکوہ بند نمبر 14

اُمتیں اور بھی ہیں ، اُن میں گنہگار بھی ہیں

عجز والے بھی ہیں ، مستِ مئے پندار بھی ہیں

ان میں کاہل بھی ہیں ، غافل بھی ہیں ، ہُشیار بھی ہیں

سینکڑوں ہیں کہ ترے نام سے بیزار بھی ہیں

رحمتیں ہیں تری اغیار کے کاشانوں پر

برق گِرتی ہے تو بیچارے مُسلمانوں پر

Leave a Reply