سکوں درکار ہے لیکن سکوں حاصل نہیں ہوتا

سکوں درکار ہے لیکن سکوں حاصل نہیں ہوتا سکوں درکار ہے لیکن سکوں حاصل نہیں ہوتا ذرا جو دل کو ٹھہرا دے وہ دردِ دل نہیں ہوتا   کبھی ہر جلوۂ صد رنگ حاصل تھا نگاہوں کو اب اشک خون بھی چشمِ شوق کو حاصل نہیں ہوتا   ہر اک کارِ تمنا پر یہ مجبوری،

سکوں درکار ہے لیکن سکوں حاصل نہیں ہوتا

سکوں درکار ہے لیکن سکوں حاصل نہیں ہوتا شعر نمبر 1 سکوں درکار ہے لیکن سکوں حاصل نہیں ہوتا ذرا جو دل کو ٹھہرا دے وہ دردِ دل نہیں ہوتا مشکل الفاظ کے معانی: سکوں: آرام، اطمینانِ قلب درکار: ضرورت، حاجت ٹھہرا دے: سکون بخشے، مطمئن کر دے دردِ دل: عشق کی تڑپ، دلی اضطراب

بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا( تفصیلی تشریح)

بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا(تفصیلی تشریح) شعر نمبر 1 (مطلع) بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا مشکل الفاظ: بس کہ: چونکہ۔ دشوار: کٹھن۔ میسر: دستیاب۔ انساں ہونا: اعلیٰ اخلاقی و انسانی اقدار کا حامل ہونا۔ مفہوم: دنیا میں کسی بھی کام کا پایۂ

یوں کہنے کو پیرایۂ اظہار بہت ہے

یوں کہنے کو پیرایۂ اظہار بہت ہے شعر نمبر 1: یوں کہنے کو پیرایۂ اظہار بہت ہے یہ دل، دلِ نادان سہی، خوددار بہت ہے مفہوم: اگرچہ اپنی بات کہنے کے بہت سے طریقے اور انداز موجود ہیں، لیکن میرا دل اگرچہ نادان ہے مگر اپنی غیرت اور خودداری کی وجہ سے کسی کے سامنے

داستان تیاری میں باغ کی از میر حسن( شعر 17 تا 24)

داستان تیاری میں باغ کی از میر حسن ( شعر 17 تا 24) شعر نمبر 17 عجب چاندنی میں گلوں کی بہار ہر ایک گل سفیدی سے ماہتاب دار مفہوم: چاندنی رات میں پھولوں پر عجیب رونق برسی ہے اور ہر پھول چاندنی کی سفیدی جذب کر کے خود ایک چھوٹا سا چاند بن گیا