داستان تیاری میں باغ کی از میر حسن ( شعر 33 تا 39)

داستان تیاری میں باغ کی از میر حسن ( شعر 33 تا 39) شعر نمبر 33 کیا قاعدے سے شروع کلام پڑھانے لگے علم اس کو تمام مفہوم: شہزادے نے باقاعدہ اصول و ضوابط (قاعدے) سے کلام کا آغاز کیا اور اساتذہ اسے تمام ضروری علوم سکھانے لگے۔ تشریح: میر حسن بیان کرتے ہیں کہ

داستان تیاری میں باغ کی از میر حسن ( شعر 25 تا 32)

داستان تیاری میں باغ کی از میر حسن ( شعر 25 تا 32) شعر نمبر 25 سبزہِ کوہ پر سایہِ ابرِ تر گرے مینہ تو موتی جھڑیں فرش پر مفہوم: پہاڑ کے سبزے پر نمناک بادلوں کا سایہ ہے اور جب بارش برستی ہے تو یوں لگتا ہے جیسے فرش پر موتی جھڑ رہے ہوں۔

داستان تیاری میں باغ کی از میر حسن( شعر 17 تا 24)

داستان تیاری میں باغ کی از میر حسن ( شعر 17 تا 24) شعر نمبر 17 عجب چاندنی میں گلوں کی بہار ہر ایک گل سفیدی سے ماہتاب دار مفہوم: چاندنی رات میں پھولوں پر عجیب رونق برسی ہے اور ہر پھول چاندنی کی سفیدی جذب کر کے خود ایک چھوٹا سا چاند بن گیا

داستان تیاری میں باغ کی از میر حسن( شعر 9 تا 16)

داستان تیاری میں باغ کی از میر حسن ( شعر 9 تا 16) شعر نمبر 9 بنی سنگِ مرمر سے چوپڑ کی نہر گئی چار سو اس کے پانی کی لہر مفہوم: باغ میں سنگِ مرمر سے بنی ہوئی چوپڑ کی شکل کی نہریں موجود ہیں جن کی لہریں ہر سمت (چار سو) پھیل کر

( شعر 1 تا 8 )داستان تیاری میں باغ کی از میر حسن

داستان تیاری میں باغ کی از میر حسن شعر نمبر 1 : مئے ارغوانی پلا ساقیا کہ تعمیر کو باغ کی دل چلا تشریح: اس شعر میں میر حسن نے داستان کا آغاز روایتی مثنوی نگاروں کے انداز میں کیا ہے۔ وہ ساقی سے مخاطب ہو کر “مئے ارغوانی” یعنی سرخ و جامنی شراب کا