جلال آتش و برق و سحاب پیدا کر

جلال آتش و برق و سحاب پیدا کر اسرار الحق مجاز کی یہ نظم “نوجوان سے خطاب” اردو ادب میں انقلابی اور ترقی پسند شاعری کا ایک شاہکار ہے۔ اس میں شاعر نے نوجوانوں کو روایتی عشق و مستی سے نکال کر عمل، جدوجہد اور سماجی تبدیلی کی طرف راغب کیا ہے۔ ذیل میں ہر

جلال آتش و برق و سحاب پیدا کر

جلال آتش و برق و سحاب پیدا کر جلال آتش و برق و سحاب پیدا کر اجل بھی کانپ اٹھے وہ شباب پیدا کر ترے خرام میں ہے زلزلوں کا راز نہاں ہر ایک گام پر اک انقلاب پیدا کر صدائے تیشۂ مزدور ہے ترا نغمہ تو سنگ و خشت سے چنگ و رباب پیدا

تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا

تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا شعر نمبر 1 تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا خورشید میں بھی اس ہی کا ذرہ ظہور تھا مشکل الفاظ کے معانی: مستعار: ادھار لیا ہوا، عارضی۔ خورشید: سورج۔ ذرہ ظہور: معمولی سی جھلک یا نمائش۔ مفہوم: کائنات میں جہاں کہیں بھی روشنی

تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا

تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا خورشید میں بھی اس ہی کا ذرہ ظہور تھا ہنگامہ گرم کن جو دل ناصبور تھا پیدا ہر ایک نالے سے شور نشور تھا پہنچا جو آپ کو تو میں پہنچا خدا کے تئیں معلوم اب ہوا

جس سر کو غرور آج ہے یاں تاجوری کا

جس سر کو غرور آج ہے یاں تاجوری کا شعر نمبر 1: جس سر کو غرور آج ہے یہاں تاجوری کا کل اس پہ یہیں شور ہے پھر نوحہ گری کا مشکل الفاظ کے معانی: تاجوری: بادشاہت، سر پر تاج ہونا۔ نوحہ گری: ماتم کرنا، رونا دھونا۔ غرور: تکبر، گھمنڈ۔ مفہوم: آج جس شخص کو اپنی