جب قطع کی مسافتِ شب آفتاب نے از میر مکمل مرثیہ انیس
جب قطع کی مسافتِ شب آفتاب نے
جلوہ کیاسحر کے رخِ بے حجاب نے
دیکھا سوئے فلک شہ گردوں رکاب نے
مڑ کر صدا رفیقوں کو دی اس جناب نے
آخر ہے رات حمد و ثنائے خدا کرو
اٹھو فریضۂ سحریٰ کو ادا کرو
ہاں غازیو یہ دن ہے جدال و قتال کا
یاں خوں بہے گا آج محمد کی آل کا
پرہ خوشی سے سرخ ہے زہرا کے لال کا
گذری شبِ فراق دن آیا وصال کا
ہم وہ ہیں غم کریں گے ملک جن کے واسطے
راتیں تڑپ کے کاٹی ہیں اس دن کے واسطے
یہ صبح ہے وہ صبح مبارک ہے جس کی شام
یاں سے ہوا جو کوچ تو ہے خلد میں مقام
کوثر پہ آبرو سے پہونچ جائیں تشنہ کام
لکھے خدا نماز گزاروں ممیں سب کے نام
سب ہیں وحیدِ عصر یہ غل چار سو اٹھے
دنیا سے جو شہید اٹھے سرخرو اٹھے
یہ سن کے بستروں سے اٹھے وہ خدا شناس
اک اک نے زیبِ جسم کیا فاخرہ لباس
شانے محاسنوں میں کیے سب نے بے ہراس
باندھے عمامہ آئے امامِ زماں کے پاس
رنگیں عبائین دوش پہ کمریں کسے ہوے
مشک و زبا دو عرت میں کپڑے بسے ہوئے
سوکھے لبوں پہ حمدِ الٰہی رخوں پہ نور
خوف و ہراس رنج و کدورت دلوں سے دور
فیاض حق شناس اولو العزم ذی شعور
خوش فکر و بزلہ سنج و ہنر پرور و غیور
کانوں کو حسنِ صوت سے حظ برملا ملے
باتوں میں وہ نمک کہ دلوں کو مزا ملے
ساونت برد بار فلک مرتبت دلیر
عالی منش سبا میں سلیماں وغا میں شہ
گرداں دہر ان کی زبردستیوں سے زیر
فاقے سے تین دن کے مگر زندگی سے سیہ
دنیا کو ہیچ پوچ سراپا سمجھتے ہیں
دریا دلی سے بحر کو قطرا سمجھتے ہیں
تقریر میں وہ رمز کنایہ کہ لاجواب
نکتہ بھی منہ سے گر کوئی نکلا تو انتخاب
گویا دہن کتابِ بلاغت کا ایک باب
سوکھی زبانیں شہد فصاحت سے کامیاب
لہجوں پہ شاعران عبر تھے مرے ہوئے
پستے بسوں کے وہ کہ نمک سے بھرے ہوئے
لب پر ہنسی گلوں سے زیادہ شگفتہ رو
پیدا تنوں س پیرہن یوسفی کی بو
غلماں کے دل میں جن کی غلامی کی آرزو
پرہیز گار زاہدِ ابرار و نیک خو
پتھر میں ایسے لعل صدف میں گہر نہیں
روں کا قول تھا کہ ملک ہیں بشر نہیں
پانی نہ تھا وضو جو کریں وہ فلک مآب
پر تھی رخوں پہ خاکِ تمیم سے طرفہ آب
باریک ابر میں نظر آتے تھے آفتاب
ہوتے ہیں خاکسار غلامِ ابوتراب
مہتاب سے رخوں کی صفا اور ہو گئی
مٹی یس آئتوں میں جلا اور ہو گئی
خیمے سے نکلے شہ کے عزیزاں خوش خصال
جن میں کئی تھے حضرتِ خیر النسا کے لال
قاسم سا گلبدن علی اکبر سا خوش جمال
اک جا عقیل و مسلم و جعفر کے نونہال
سب کے رخوں کا نور سپہر بریں پہ تھا
اٹھارہ آفتابوں کا غنچہ زمیں پہ تھا
ٹھنڈی ہوا میں سبزۂ صحرا کی وہ لہک
شرمائے جس سے اطلسِ زنگاریِ فلک
وہ جھومنا درختوں کا پھولوں کی وہ مہک
ہر برگِ گل پہ قطرہ شبنم کی وہ جھلک
ہیرے خجل تھے گوہر یکتا نثار تھے
پتے بھی ہر شجر کے جواہر نگار تھے
قرباں صنعتِ قلم آفریدگار
تھی ہر ورق پہ صنعتِ ترصیع آشکار
عاجز ہے فکرت شعرائے ہند شعار
ان صنعتوں کو پائے کہاں عقلِ سادہ کار
عالم تھا محو قدرت رب عباد پر
مینا کیا تھا وادیِ مینو سواد پر
وہ نور اور وہ دشت سہانا وہ فضا
دراج و کیک و تیہود طاؤس کی صدا
وہ جوشِ گل وہ نالۂ مرغانِ خوش نوا
سردی جگر کو بخشی تھی صبح کی ہوا
پھولوں سے سبز سبز شجر سرخ پوش تھے
تھا لے بھی نخل کے سبدِ گل فروش تھے
وہ دشت وہ نسیم کے جھونکے وہ سبزہ زار
پھولوں پہ جابجا وہ گہرہائے آبدار
اٹھتا وہ جھوم جوھم کے شاخوں کا باربار
بالائے نخل ایک جو بلبل تو گل ہزار
خواہاں تھے زہرا گلشن زہرا جو آب کے
شبنم نے بھر دیے تھے کٹورے گلاب کے
وہ قمریوں کا چار طرف سرو کے ہجوم
کو کو کا شور نالۂ حق سرہ کی دھوم
سبحان رہنا کی صدا تھی علی العموم
جاری تھے وہ جو ان کی عبادت کے تھے رسوم
کچھ گل فقط نہ کرتے تھے رب علا کی حمد
ہر خار کو بھی نوکِ زباں تھی خدا کی حمد
چیونٹی بھی ہاتھ اٹھا کے یہ کہتی تھی بار بار
اے دانہ کش ضعیفوں کے رازق ترے نثار
یا حی یاقدیر کی تھی ہر طرف پکار
تہلیل تھی کہیں کہیں تسبیح کردگار
طائر ہوا میں محو ہنر سبزہ زار میں
جنگل کے شیر گونج رہے تھے کچھار میں
کانٹوں میں اک طرف تھے ریاضِ نبی کے پھول
خوشبو سے جن کی خلد تھا جنگل کا عرض و طول
دنیا کی زیب و زینتِ کا شانۂ بتول
وہ باغ تھا لگا گئے تھے خود جسے رسول
ماہِ عزا کے عشرۂ اول میں کب گیا
وہ باغیوں کے ہاتھ سے جنگل میں کٹ گیا
اللہ رے خزاں کے دن اس باغ کی بہار
پھولے سماتے تھے نہ محمد کے گلِ عذار
دولہا بنے ہوئے تھے اجل تھی گلوں کا ہار
جاگے وہ ساری رات کے وہ نیند کا خمار
راہیں تمام جسم کی خوشبو سے بس گئیں
جب مسکرا کے پھولوں کلیاں بکس گئیں
وہ دشت اور خیمۂ زنگارگوں کی شان
گویا زمیں پہ نصب تھا اک تازہ آسمان
بے چوبہ سپہر بریں جس کا سائبان
بیت العیق دین کا مدینہ جہاں کی جان
اللہ کے حبیب کے پیارے اسی میں تھے
سب عرشِ کبریا کے ستارے اسی میں تھے
گردوں پہ ناز کرتی تھی اس دشت کی زمیں
کہتا تھا آسمانِ دہم چرخ ہضمتیں
پردے تھے رشک پردۂ چشمانِ حور میں
تاروں سے تھا فلک اسی خرمن کا خوشہ چیں
دیکھا جو نور شمسۂ کیواں جناب پر
کیا کیا ہنسی ہے صبحِ گل آفتاب پر
ناگاہ چرخ پر خطِ ابیض ہوا عیاں
تشریف جا نماز پہ لائے شہ زماں
سجاد بچھ گئے عقبِ شاہ انس و جاں
تاروں سے تھا فلک اسی خرمن کا خوشہ چیں
دیکھا جو نور شمسۂ حسن سے اکبرِ مہر و نے دی اذاں
ہر اک کی چشم آنسوؤں سے ڈبڈبا گئی
گویا صدا رسول کی کانوں میں آگئی
چپ تھے طیور جھومتے تھے وجد میں شجر
تسبیح خواں تھے برگ و گل غنچہ و ثمر
محوِ ثنا کلوخ دنبا تات و دشت دور
پانی سے منہ نکالے تھے دریا کے جانور
اعجاز تھا کہ دلبِ شپیر کی صدا
ہر خشک و تر سے آئی تھی تکبیر کی صدا
ناموس شاہ روتے تھے خیمے میں زار زار
چپکی کھڑی تھی صحن میں بانو کے نامدار
زینب بلائیں لے کے یہ کہتی تھی بار بار
صدقے نمازیوں کے مؤذن کے میں نثار
کرتے ہیں یوں ثنا وصف ذوالجلال کی
لوگوں اذا سنو مرے یوسف جمال کی
یہ حسنِ صوت اور یہ قرأت یہ شدو مد
حقا کہ افصح الفصحا ہے انہیں کا جد
گویا ہے لحن حضرتِ داؤد با خرد
یارب رکھ اس صدا کو زمانے میں تا ابد
شعبے صدا میں پنکھڑیاں جیسے پھول میں
بلبل چہک رہا ہے ریاضِ رسول میں
میری طرف سے کوئی بلائیں تو لینے جائے
عین الکمال سے تجھے بچے خدا بچائے
وہ لو ذعی کی جس کی طلاقت دلوں کو بھائے
دو دد دن ایک بوند بھی پانی کہ وہ نہ پائے
غربت میں پڑ گئی ہے مصیبت حسین پر
فاقہ یہ تیسرا ہے مرے نورِ عین پر
صف میں ہوا جو نعرۂ قدقامت الصلوٰۃ
قائم ہوئی نامز اٹھے شاہِ کائنات
وہ نور کی صفیں وہ مصلی ملک صفات
قدموں سے جن کی ملتی تھی آنکھیں رہِ نجات
جلوہ تھا تابہ عرشِ معلیٰ حسین کا
مصحف کی لوح تھی کہ مصلی حسین کا
اک صف میں سب محمد و حیدر کے رشتہ دار
اٹھارہ نوجواں تھے اگر کیجیے شمار
پر سب جگر نگار حق آگاہ خاکسار
پیرہ امام پاک کے داتائے رونار
تسبیح ہر طرف تہ افلاک انہیں کی ہے
جس پر درورد پڑھتے ہیں یہ خاک انہیں کی ہے
دنیا سے اٹھ گیا وہ قیام اور وہ قعود
ان کے لیے تھی بندگی واجب الوجود
وہ عجز وہ طویل رکوع اور وہ سجود
طاعت میں نیست جانتے تھے اپنی ہست و بود
طاقت نہ چلنے پھرنے کی تھی ہاتھ پاؤں میں
گر گر کے سجدے کر گئے تیغوں کی چھاؤں میں
ہاتھ ان کے جب قنوت میں اٹھے سوئے خدا
خود ہوگئے فلک پہ اچابت کے باب وا
تھرائے آسماں بلا عرش کبریا
شہ پر تھے دونوں ہاتھ پے طائر دعا
وہ خاکسار محوِ تضرع تھے فرش پر
روح القدس کی طرح دعائیں تھیں عرش پر
فارغ ہوئے نماز سے جب قبلۂ انام
آئے مصافحے کو جو انان تشنہ کام
چومے کسی نے دستِ شہنشاہ خاص و عام
آنکھٰں ملیں قدم پہ کسی نے با حترام
کیا دل تھے کیا سپاہِ رشید و سعید تھی
باہم مانقے تھے کہ مرنے کی عید تھی
بیٹھے تھے جا نماز پہ شاہِ فلک سریر
ناگہ قریب آ کے گرے تین چار تیر
دیکھا ہر اک نے مڑ کے سوئے لشکرِ شریر
عباس اٹھے تول کے شمشیر بے نظیر
پروانہ تھے سراج امامت کے نور پر
روکی سپر حضور کرامت ظہور پر
اکرب سے مڑکے کہنے لگے سرورِ زماں
تم جا کے کہہ دو خیمے میں یہ اے پدر کی جاں
باندھے ہے سر کشی پر کمر لشکرِ گراں
بچوں کو لے کے صحن سے ہٹ جائیں بیبیاں
غفات میں تیرے کوئی بچہ تلف نہ ہو
ڈر ہے مجھے کہ گردنِ اصغر ہدف نہ ہو
کہتے تھے یہ پسر سے شۂ آسماں سریر
فضہ پکاری ڈیوڑھی سے اے خلق کے امیر
ہے ہے علی کی بیٹیاں کس جا ہوں گو شہ گیر
اصغر کے گاہوارے تک آکر گرے ہیں تیر
گرمی میں ساری رات یہ گھٹ گھٹ کے روئے ہیں
بچے ابھی تو سرد ہوا پا کے سوئے ہیں
باقر کہیں پڑا ہے سکینہ کہیں ہے غش
گرمی کی فصل یہ تب و تاب اور یہ عطش
رو رو کے سو گئے ہیں صغیر ان ماہ وش
بچوں کو لے کے یاں سے کہاں جائیں فاقہ کش
یہ کس خطا پہ تیر پیا پے برستے ہیں
ٹھنڈی ہوا کے واسطے بچے ترستے ہیں
ٹھے یہ شور سن کے امامِ فلک وقار
ڈیوڑھی تک آئے تک ڈھالوں کو رد کے رفیق و یار
فرمایا مڑکے چلتے ہیں اب بہرِ کارزار
کمریں کسو جہاد پہ منگواؤ راہوار
دیکھیں فضا بہشت کی دل باغ باغ ہو
امت کے کام سے کہیں جلدی فراغ ہو
فرما کے یہ حرم میں گئے شاہِ بحروبر
ہونے لگیں صفوں میں کمر بندیاں ادھر
جو شن پہن کے حضرتِ عباس نامور
دروازے پہ ٹہلنے لگے مثلِ شیرِ نر
پرتو سے رخ کے برق چمکتی تھی پاک پر
تلوار ہاتھ میں تھی سپرِ دوش پاک پر
شوکت میں رشک تاج سلیمان تھا خودِ سر
کلغی پہ لاکھ بار تصدق ہما کے پر
دستانے دونوں فتح کا مسکن ظفر کا گھر
وہ رعب الامان وہ تہور کہ الحذر
جب ایسا بھائی ظلم کی تیغوں میں آر ہو
پھر کس طرح نہ بھائی کی چھاتی پہاڑ ہو
خیمے میں جا کے شہ نے یہ دیکھا حرم کا حال
چہرے تو فق ہیں اور کھلے ہیں سردوں کے بال
زینب کی یہ دعا ہے کہ اے رب ذوالجلال
بچ جائے اس فساد سے خیر النسا کا لال
بانوئے نیک نام کی کھیتی ہری رہے
صندل سے مانگ بچوں سے گودی بھری رہے
آفت میں ہے مسافرِ صحرائے کربال
بے کس پہ یہ چڑھائی ہے سید پہ یہ جفا
غربت میں ٹھن گئی جو لڑائے تو ہوگا کیا
ان ننھے ننھے بچوں پہ کر رہ اے خدا
فاقوں سے جاں بلب ہیں عطش سے ہلاکِ ہیں
یارب ترے رسول کی ہم آلِ پاک ہیں
سر پر نہ اب علی نہ رسولِ فلک وقار
گھر لٹ گیا گذر گئیں خاتونِ روزگار
اماں کے بعد روئی حصن کو میں سوگار
دنیا میں اب حسین ہے ان سب کا یادگار
تو داد دے مری کہ عدالت پناہ ہے
کچھ اس پہ بن گئی تو یہ مجمع تباہ
بولے قریب جا کے شہِ آسماں جناب
مضطر نہ ہو دعائیں ہیں تم سب کی مستجاب
مغرور ہیں خطا پہ ہیں یہ خانماں خراب
خود جا کے میں دکھاتا ہوں ان کو رہِ صواب
موقع بہن نہیں ابھی فریاد و آہ کا
لاؤ تبرکات رسالت پناہ کا
معراج میں رسول نے پہنا تھا جو لباس
کشتی میں لائیں زینب اسے شاہِ دیں کے پاس
سر پر رکھا عمامۂ سردارِ حق شناس
پہنی قبائے پاکِ رسول فلک اساس
برمیں درست و چست تھا جامہ رسول کا
رومال فاطمہ کا عمامہ رسول کا
شملے دو سرے جو پڑے تھے بصد وقار
ثابت یہ تھا کہ دوش پہ گیسو پڑے ہیں چار
بل کھا رہا تھا زلفِ سمن بو کا تار تار
جس کے ہر ایک مو پہ خطا و ختن نثار
مشک و عبیر و عود اگر ہیں تو ہیچ ہیں
سنبل پہ کیا کھلیں گے یہ گیسو کے پیچ میں
کپڑوں سے آ رہی تھی رسولِ زمن کی بو
دولھا نے سونگھی ہوگی نہ ایسی دلہن کو بی
حیدر کی فاطمہ کی حسین و حسن کی بو
پھیلی ہوئی تھی چار طرف پنجتن کی بو
لٹتا تھا عطر دادیِ عنبر سرشت میں
گل جھومتے تھے اغ میں رضواں بہشت میں
پوشاک سب پہن چکے جس دم شۂ زمن
لیکر بلائیں بھائی کی رونے لگی بہن
چلائی ہائے آج نہیں حیدر و حسن
اماں کہاں سے لائے تمہیں اب یہ بے وطن
رخصت ہے اب رسول کے یوسف جمال کی
صدقے گئی بلائیں تولو اپنے لال کی
صندوق اسلحہ کے جو کھلوائے شاہ نے
پیٹا منہ اپنا زینبِ عصمت پناہ نے
پہنی زرہ امامِ فلک بارگاہ نے
بازو پہ جو شنین پڑھے عزو جاہ نے
جوہر بدن کے حسن سے سارے چمک گئے
حلقے تھے جتنے اتنے سارے چمک گئے
یاد آگئے علی نظر آئی جو ذوالفقار
قبضے کو چوم کر شۂ دیں روئے زار زار
تولی جو لے کے ہاتھ میں شمشیرِ آبدار
شوکت نے دی صدا کہ تری شان کے نثار
فتح و ظفر قریب ہو نصرت قریب ہو
زیب اس کی تجھ کو ضرب عدو کو نصیب ہو
باندھی کمر سے تیغ جو زہرا کے لال نے
پھاڑا فلک پہ اپنا گریباں ہلال نے
دستانے پہنے سرورِ قدسی خصال نے
معراج پائی دوش پہ حمزہ کی ڈھال نے
رتبہ بلند تھا کہ سعادت نشان تھی
ساری سپر میں مہر نبوت کی شان تھی
ہتھیار ادھر لگا چکے آقائے خاص و عام
تیار ادھر ہوا علم سید انام
کھولے سروں کو گرد تھی سیدانیاں تمام
روتی تھی تھامے چوب علم خواہرِ امام
تیغیں کمر میں دوش پہ شملے پڑے ہوئے
زینب کے لال زیر علم آکھڑے ہوئے
گردانے دامنوں کو قبا کے وہ گل عذار
مرفق تک آشینوں کو الٹے بصد و قار
جعفر کا رعب دبدبۂ شیر کردگار
بوٹے سے ان کے قد پہ نمودار و نامدار
آنکھیں ملٰن علم کے پھریرے کو چوم کے
رایت کے گرد پھرنے لگے جھوم جھوم کے
گہ ماں کو دیکھتے تھے گہ جانبِ علم
نعرہ کبھی یہ تھا کہ نثارِ شۂ امم
کرتے تھے دونوں بھائی کبھی مشورے بہم
آہستہ پوچھتے کبھی ماں سے وہ ذی حشم
کیا قصد ہے علی ولی کے نشان کا
اماں کسے ملے گا علم نانا جان کا
کچھ مشورہ کریں جو شہنشاہ خوش خصال
ہم بھی محق ہیں آپ کو اس کار ہے خیال
پاس ادب سے عرض کی ہم کو نہیں مجال
اس کا بھی خوف ہے کہ نہ ہو آپ کو ملال
آقا کے ہم غلام ہیں اور جانثار ہیں
عزت طلب ہیں نام کے امیدوار ہیں
بے مثل تھے رسول کے لشکر کے سب جواں
لیکن ہمارے جسد کو نبی نے دیا نشاں
خیبر میں دیکھتا رہا منہ لشکرِ گراں
پایا علم علی نے مگر وقتِ امتحاں
طاقت میں کچھ کمی نہیں گو بھوکے پیاسے ہیں
پوتے انہیں کے ہم ہیں انہیں کے نواسے ہیں
زینب نے تب کہا تمہیں اس سے کیا ہے کام
کیا دخل مجھ کو مالک و مختار ہیں امام
دیکھو نہ کیجو بے ادبانہ کوئی کلام
بگڑوں گی میں جو لوگے ظلم کا زباں سے نام
لو جاؤ بس کھڑے ہو الگ ہاتھ جوڑ کے
کیوں آئے ہو یہاں علی اکبر کو چھوڑ کے
سر کو، ہٹو، بڑھو، نہ کھڑے ہو علم کے پاس
ایسا نہ ہو کہ دیکھ لیں شاہ فلک اساس
کھوتے ہو اور آئے ہو تم مرے حواس
بس قابل قبول نہیں ہے یہ التماس
رونے لگوگے تم جو برا یا بھلا کہوں
اس ضد کو بچنے کے سوا اور کیا کہوں
عمریں قلیل اور ہوس منصب جلیل
اچھا نکالو قد کے بھی بڑھنے کی کچھ سبیل
ماں صدقے جائے گرچہ یہ ہمت کی ہے دلیل
ہاں اپنے ہم سنوں میں تمہارا نہیں عدیل
لازم ہے سوچے غور کرے پیش و پس کرے
جو ہو سکے نہ کیوں بشر اس کی ہوس کرے
ان ننھے منھے ہاتھوں سے اٹھے گا یہ علم
چھوٹے قدوں میں سب سے سنوں میں سبھوں سے کم
نکلیں تنوں سے سبط نبی کے قدم پہ قدم
عہدہ یہی ہے بس یہی منصب یہ حشم
رخصت طلب اگر ہو تو یہ میرا کام ہے
ماں صدقے جائے آج تو مرنے میں نام ہے
پھر تم کو کیا بزرگ تھے گر فخرِ روزگار
زیبا نہیں ہے جو وصفِ اضافی افتخار
جو ہر وہ ہیں جو تیغ کرے آپ آشکار
دکھلا دو آج حیدر و جعفر کی کارزار
تم کیوں کہو کہ لالہ خدا کے ولی کے ہیں
فوجیں پکاریں خود کہ نواسے علی کے ہیں
کیا کچھ علم سے جعفر طیار کا تھا نام
یہ بھی تھی اک عطائے رسول فلک مقام
بگڑی لڑائیوں میں بن آئے انہیں سے کام
جب کھینچتے تھے تیغ تو ہلتا تھا روم و شام
بے جاں ہوئے تو نخل وغانے ثمر دیے
ہاتھوں بدلے حق نے جواہر کے پردے
لشکر نے تین روز ہزیمت اٹھائی جب
بخشا علم رسول خدا نے علی کو تب
مرحب کو قتل کرکے بڑھا جب وہ شیر رب
دربند کرکے قلعہ کا بھاگی سپاہ سب
اکھڑا وہ یوں گراں تھا جودر سنگِ سخت سے
جس طرح توڑ لے کوئی پتا درخت سے
نرغے میں تین دن سے ہے مشکل کشا کا لال
اماں کا باغ ہوتا ہے جنگل میں پائمال
پوچھا نہ یہ کہ کھولے ہیں تم نے سر کے بال
میں لٹ رہی ہوں اور تمہیں منصب کا ہے خیال
غم خوار تم مرے ہو نہ عاشق امام کے
معلوم ہو گیا مجھے طالب ہو نام کے
ہاتھوں کو جوڑ جوڑ کے بولے وہ لالہ فام
غصے کو آپ تما لیں اے خواہر امام
واللہ کیا مجال جواب لین علم کا نام
کھل جائے گا لڑیں گے جو یہ با وفا غلام
فوجیں بھگا کے گنجِ شہیداں میں سوئیں گے
تب قدر ہوگی آپ کو جب ہم نہ ہوئیں گے
یہ کہہ کے بس ہٹے جو سعادت نشاں پسر
چھاتی بھر آئی ماں نے کہا تھا کہ جگر
دیتے ہو اپنے مرنے کی پایرو مجھے خبر
ٹھہرو ذرا بلائیں تو لے لے یہ نوحہ گر
کیا صدقے جاؤں ماں کی نصیحت بری لگی
بچو یہ کیا کہا کہ جگر پر چھری لگی
زینب کے پاس آکے یہ بولے شۂ زمن
کیوں تم نے دونوں بیٹوں کو باتیں سنیں بہن
شیروں کے شیر عاقل و جرار و صف شکن
زینب وحید عصر ہیں دونوں یہ گل بدن
یوں دیکھنے کو سب میں بزرگوں کے طور ہیں
تیور ہی ان کے اور ارادے ہی اور ہیں
نو دس برس کے سن یہ جرأت یہ ولولے
بچے کسی نے دیکھے ہیں ایسے بھی من چلے
اقبال کیونکہ ار کے نہ قدموں سے منہ ملے
کس گود میں بڑے ہوئے کس دودھ سے پلے
بے شک یہ ورثہ دارِ جنابِ امیر ہیں
پر کیا کہوں کہ دونوں کی عمریں صغیر ہیں
اب تم جسے کہو اسے دیں فوج کا علم
کی عرض جو صلاح شۂ آسماں حشم
فرمایا جب سے اٹھ گئیں زہرائے باکرم
اس دن سے تم کو ماں کی جگہ جانتے ہیں ہم
مالک ہو تم بزرگ کوئی ہو کہ خرد ہو
جس کہو اسی کو یہ عہدہ سپرد ہو
بولیں بہن کہپ آپ بھی تولیں کسی کا نام
ہے کس طرف توجہ سردار خاص و عام
گر مجھ سے پوچھتے ہیں شۂ آسماں مقام
قرآں کے بعد ہے تو ہے بس آپ کا کلام
شوکت میں قد میں شان میں ہم کسر کوئی نہیں
عباس نام دار سے بہتر کوئی نہیں
عاشق غلام خادمِ دیرینہ جاں نثار
فرزند بھائی زینتِ پہلو وفا شعار
جرار یادگارِ پدر فخر روزگار
راحت رساں مطیع نمودار نام دار
صفدر ہے شیر دل ہے بہادر ہے نیک ہے
بے مثل سیکڑوں میں ہزاروں میں ایک ہے
آنکھوں میں اشک بھر کے یہ بولے شہ رمن
ہاں تھی یہی علی کی وصیت ابھی اے بہن
اچھا بلائیں آپ کدھر ہے وہ صف شکن
اکبر چچا کے پاس گئے سن کے یہ سخن
کی عرض انتظار ہے شاہِ غیور کو
چلیے پھوپھی نے یاد کیا ہے حضور کو
عباس آئے ہاتھوں کو جوڑے حضورِ شاہ
جاؤ بہن کے پاس یہ بولا وہ دیں پناہ
زینب وہیں علم لیے آئیں بہ عزو جاہ
بولے نشاں کے لے کے شۂ عرش بارگاہ
ان کی خوشی وہ ہے جو رضا پنجتن کی ہے
لو بھائی لو علم پہ عنایت بہن کی ہے
رکھ کر علم پہ ہاتھ جھکا وہ فلک وقار
ہمشیر کے قدم پہ ملا منہ بہ افتخار
زینب بلائیں لے کے یہ بولیں کہ میں نثار
عباس فاطمہ کی کمائی سے ہوشیار
ہو جائے آج صلح کی صورت تو کل چلو
ان آفتوں سے بھائی کو لے کر نکل چلو
کی عرض میرے جس پہ جس وقت تک ہے سر
ممکن نہیں ہے یہہ کہ بڑے فوج بد گہر
تیغیں کھنچیں جو لاکھ تو سینہ کروں سپر
دیکھیں اٹھا کے آنکھ یہ کیا تاب کیا جگر
ساونت ہیں پسر اسدِ ذوالجلال کے
گر شیر ہو تو پھینک دیں آنکھیں نکال کے
منہ کر کے سوئے قبرِ علی پھر کیا خطاب
ذرے کو آج کردیا مولا نے آفتاب
یہ عرض خاکسار کی ہے یا ابوتراب
آقا کے آگے میں ہوں شہادت سے کامیاب
سر تن سے ابنِ فاطمہ کے رو برو گرے
شپیر کے پسینے پہ میرا لہو گرے
یہ سن کے آئی زوجہ عباس نامور
شوہر کی سمت پہلے کنکھیوں سے کی نظر
لیں سبط مصطفیٰ کی بلائین بچشمِ تر
زینب کے گرد پھر کے یہ بولی وہ نوحہ گر
فیض آپ کا ہے اور تصدق امام کا
عزت بڑھی کنیز کی رتبہ غلام کا
سر کو لگا کے چھاتی زینب نے یہ کہا
تو اپنی مانگ کوکھ سے ٹھنڈی رہے سدا
کی عرض مجھ سے لاکھ کنیزیں تو ہوں فد
بانوے نامور کہ سہاگن رکھے خدا
بچے جییں ترقیِ اقبال و جاہ ہو
سائے میں آپ کے علی اکبر کا بیاہ ہو
قسمت وطن میں خیر سے پھر شہ کو لے کے جاہ
یہ شرب میں شور ہو کہ سفر سے حسین آئے
ام البنین جاہ و حشم سے پسر کو پائے
جلدی شبِ عروسیِ اکبر خدا دکھائے
مہندی تمہارا لال ملے ہاتھ پاؤں میں
لاؤ دلہن کو بیاہ کے تاروں کی چھاؤں میں
ناگاہ آ کے بالی سکینہ نے یہ کہا
کیسا ہے یہ ہجوم کدھر ہیں مرے چچا
عہدہ علم کا ان کو مبارک کرے خدا
لوگو مجھے بلائیں تو لینے دوا اک ذرا
شوقت خدا بڑھائے مرے عمو جان کی
میں بھی تو دیکھوں شان علی کے نشان کی
عباس مسکراکے پکارے کہ آؤ آؤ
عمو نچار پیاس سے کیا حال ہے بتاؤ
بولی لپٹ کے وہ کہ مری مشک لیتے جاؤ
اب تو علم ملا تمہیں پانی مجھے پلاؤ
تحفہ کوئی نہ دیجیے نہ انعام دیجیے
قربان جاؤں پانی کا جام دیجیے
فرمایا آپ نے کہ نہیں فکر کا مقام
باتوں پہ اس کی روتی تھیں سیدانیاں تمام
کی عرض آکے ابنِ حسن نے کہ یا امام
انبوہ ہے بڑھی چلی آتی ہے فوجِ شام
عباس اب علم لیے باہر نکلتے ہیں
ٹھہرو بہن سے مل کے لگے ہم بھی چلتے ہیں
ناگہ بڑھے علم لیے عباس باوفا
دوڑے سب اہلِ بیت کھلے سربرہنہ پا
حضرت نے ہاتھ اٹھا کے یہ اک ایک سے کہا
لو الوداع اے حرم پاک مصطفی
صبحِ شبِ فراق ہے پیاروں کو دیکھ لو
سب مل کے ڈوبت ہوئے تاروں کو دیکھ لو
شہ کے قدم پہ زینبِ زار و حزیں گری
بانو بچھاڑ کھا کے پسر کے قریں گری
کلثوم تھرتھرا کے بروئے زمیں گری
باقر کہیں گرا تو سکینہ کہیں گری
اجڑا چمن ہر اک گلِ تازہ نکل گیا
نکلا علم کہ گھر سے جنازہ نکل گیا
دیکھی جو شانِ حضرتِ عباس عرش جاہ
آگے بڑھی علم کے پس از تہنیت سپاہ
نکلا حرم سرا سے دو عالم کا بادشاہ
نشتر بلد تھی بنت علی کی فغا و آہ
رہ رہ کے اشک بہتے تھے روئے جناب سے
شبنم ٹپک رہی تی گل آفتاب سے
مولا چڑھے فرس پہ محمد کی شان سے
ترکش لگایا ہرے نے پہ کس آن بان سے
نکلا یہ جن و انس و ملک کی زبان سے
اترا ہے پھر زمیں پہ براق آسمان سے
سارا چلن خرام میں کبک روی کا ہے
گھونگھٹ نئی دلہن کا ہے چہرہ پری کا ہے
غصے میں انکھڑیوں کے ابلنے کو دیکھیے
جو بن میں جھوم جھوم کے چلنے کو دیکھیے
سانچے میں جوڑ بند کے ڈھنلنے کو دیکھیے
تم کر کنوتیوں کے بدلنے کو دیکھیے
گردن میں ڈالے ہاتھ یہ پریوں کو شوق ہے
بالا ودی میں اس کو ہما پر بھی فوق ہے
تھم کر ہوا چلی فرسِ خوش قدم بڑھا
جوں جوں وہ سوئے دشتِ بڑھا اور دم بڑھا
گھوڑوں کی لیں سواروں نے باگیں علم بڑھا
رایت بڑھا کہ سروِ ریاضِ ارم بڑھا
پھولوں کو لے کے بادِ بہاری پہونچ گئی
بستانِ کربلا میں سواری پہونچ گئی
پنجہ ادھر چمکتا تھا اور آفتاب ادھر
آس کی ضیا تھی خاک پہ ضو اس کی عرش پر
زر ریزی علم پہ ٹھہرتی نہ تھی نظر
دولھا کا رخ تھا سونے کے سہرے میں جلوہ گر
تھے دو طرف جو دو علم اس ارتقاع کے
الجھے ہوئے تھے تار خطوطِ شعاع کے
اللہ ری سپاہ خدا کی شکوہ و شاں
جھکنے لگے جنود ضلالت کے بھی نشاں
کمریں کسے علم کے تلے ہاشمی جواں
دنیا کی زیبِ دین کی عزت جہاں کی جاں
ایک ایک دود ماں علی کا چراغ تھا
جس کی بہشت پر تھا تفوق و باغ تھا
لڑکے وہ سات آٹھ سہی قد سمن عذار
گیسو کسی کے چہرے پہ دو اور کسی کے چار
حیدر کا رعب نرگسی آنکھوں سے آشکار
کھیلیں جو نیمچوں سے کریں شیر کا شکار
نیزوں کے سمت چاند سے سینے تنے ہوئے
آئے تھے عیدگاہ میں دولھا بنے ہوئے
غرفوں سے حوریں دیکھ کے کرتی تھیں یہ کلام
دنیا کا باغ بھی ہے عجب پرفضا مقام
دیکھو درود پڑھ کے سوئے لشکرِ امام
ہم شکلِ مصطفی ہے یہی عرش اختتام
رایت لیے وہ لال خدا کے ولی کا ہے
اب تک جہاں میں ساتھ نبی و علی کا ہے
دنیا سے اٹھ گئے تھے جو پیغمبرِ زماں
ہم جانتے تھے حسن سے خالی ہے اب جہاں
کیونکر سوئے زمیں نہ جھکے پیر آسماں
پیدا کیا ہے حق نے عجب حسن کا جواں
سب خوبیوں کا خاتمہ بس اس حسیں پہ ہے
محبوب حق ہیں عرش پہ سایہ زمیں پہ ہے
ناگاہ تیر ادھر سے چلے جانب، امام
نعرے کیے کہ خوف سے ہلنے لگی زمیں
نکلے ادھر سے شہ کے رفیقانِ تشنہ کام
بے سر ہوئے پرون میں سر ان سپاہ شام
بالا کبھی تھی تیغ کبھی زیر تنگ تھی
ایک اک کی جنگ مالک اشتر کی جنگ تھی
نکلے پے جہاد عزیزانِ شاہِ دیں
نعرے کیے کہ خوف سے ہلنے لگی زمیں
روباہ کی صفوں پہ چلے شیر خشم گیں
کھینچی جو تیغ بھول گئے صف کشی لعیں
بجلی گری پروں پہ شمال و جنوب کے
کیا کیا لڑے ہیں شام کے بادل میں ڈوب کے
اللہ رے علی کے نواسوں کی کارزار
دونوں کے نیچے تھے کہ چلتی تھی ذوالفقار
شانہ کٹا کسی نے جو روکا سپر پہ دار
گنتی تھی زخمیوں کی نہ کشتوں کا کچھ شمار
اتنے سوار قتل کیے تھوڑی دیر میں
دونوں کے گھوڑے چھپ گئے لاشوں کے ڈھیر میں
وہ چھوٹے چھوٹے ہاتھ وہ گوری کلائیاں
آفت کی پھرتیاں تھیں غضب کی صفائیاں
ڈر ڈر کے کاٹتے تھے کہاں کش کنائیاں
فوجوں میں تھیں نبی و علی کی دہائیاں
شوکت ہو ہوتھی جنابِ امیر کی
طاقت دکھا دی شیروں نے زینب کے شیر کی
کس حسن س حسن کا جوانِ حسیں لڑا
گھر گھر کے صورت اسد خشم گیں لڑا
وہ دن کی بھول پیاس میں وہ مہ جبیں لڑا
سہرا الٹ کے یوں کوئی دولھا نہیں لڑا
حملے دکھادیے اسدِ کردگار کے
مقتل میں سوئے ازرق شامی کو مار کے
مرثیہ انیس جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔