اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا

اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا رنج راحت فزا نہیں ہوتا بے وفا کہنے کی شکایت ہے تو بھی وعدہ وفا نہیں ہوتا ذکر اغیار سے ہوا معلوم حرف ناصح برا نہیں ہوتا کس کو ہے ذوق تلخ کامی لیک جنگ بن کچھ مزا نہیں ہوتا تم ہمارے کسی

ٹھانی تھی دل میں اب نہ ملیں گے کسی سے ہم

ٹھانی تھی دل میں اب نہ ملیں گے کسی سے ہم شعر نمبر 1 ٹھانی تھی دل میں اب نہ ملیں گے کسی سے ہم پر کیا کریں کہ ہو گئے ناچار جی سے ہم مشکل الفاظ کے معانی: ٹھانی تھی: پختہ ارادہ کیا تھا۔ ناچار: مجبور۔ جی: دل/جان۔ مفہوم: میں نے دل میں یہ

اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا

اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا شعر نمبر 1: اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا رنج راحت فزا نہیں ہوتا مشکل الفاظ کے معانی: اثر: تاثر، نتیجہ۔ رنج: دکھ، غم، مصیبت۔ راحت فزا: خوشی یا سکون میں اضافہ کرنے والا۔ مفہوم: میرے دکھوں اور آہوں کا محبوب پر کوئی اثر نہیں ہوتا، یہی وجہ ہے

اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا

اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا آج کی اس پوسٹ میں ہم جماعت دہم فیڈرل بورڈ کی غزل ” اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا ” جس کے شاعر مومن خان مومن ہیں ، پر سیر حاصل گفتگو کریں گے ۔ شعر نمبر 1 :  اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا رنج ، راحت فزا