شکوہ بند نمبر 26

شکوہ بند نمبر 26 قومِ آوارہ عناں تاب ہے پھر سُوئے حجاز لے اُڑا بلبلِ بے پر کو مذاقِ پرواز مضطرب باغ کے ہر غنچے میں ہے بُوئے نیاز تُو ذرا چھڑ تو دے ، تِشنہء مضراب ہے ساز نغمے بے تاب ہیں تاروں نکلنے کے لئے طُور مُضطر ہے اسی آگ میں جلنے کے

شکوہ بند نمبر 25

شکوہ بند نمبر 25 بادہ کش غیر ہیں گُلشن میں لبِ جُو بیٹھے سُنتے ہیں جام بکف نغمہء کوکو بیٹھے دور ہنگامہء گلزار سے یک سُو بیٹھے تیرے دیوانے بھی ہیں مُنتظرِ ھُو بیٹھے اپنے پروانوں کو پھر ذوقِ خُود افروزی دے برقِ دیرینہ کو فرمانِ جگر سوزی دے

شکوہ بند نمبر 24

شکوہ بند نمبر 24 وادئ نجد میں وہ شورِ سلاسل نہ رہا قیس دیوانہ نظارہء محمل نہ رہا حوصلے وہ نہ رہے ، ہم نہ رہے دِل نہ رہا گھر یہ اُجڑا ہے کہ تُو رونقِ محفل نہ رہا اے خوش آں روز کہ آئی و بصد ناز آئی بے حجابانہ سوئے محفلِ ما باز

شکوہ بند نمبر 23

شکوہ بند نمبر 23 سرِ فاراں پہ کیا دین کو کامل تُو نے اِک اشارے میں ہزاروں کے لئے دِل تُو نے آتش اندوز کیا عشق کا حاصل تُو نے پُھونک دی گرمئ رُخسار سے محفل تُونے آج کیوں سِینے ہمارے شرر آباد نہیں ہم وُہی سوختہ ساماں ہیں ، تُجھے یاد نہیں ؟

شکوہ بند نمبر 22

شکوہ بند نمبر 22 شق کی خیر ، وہ پہلی سی ادا بھی نہ سہی جادہء پیمائی تسلیم و رضا بھی نہ سہی مضطرب دل صفتِ قبلہ نما بھی نہ سہی اور پابندئ آئینِ وفا بھی نہ سہی کبھی ہم سے ، کبھی غیروں سے شناسائی ہے بات کہنے کی نہیں تُو بھی تو ہرجائی

شکوہ بند نمبر 21

شکوہ بند نمبر 21 تُجھ کو چھوڑا کہ رسُولِ عربی کو چھوڑا ؟ بُت گری پیشہ کیا ؟ بُت شکنی کو چھوڑا ؟ عِشق کو ، عِشق کی آشفتہ سری کو چھوڑا ؟ رسمِ سلمان و اویسِ قرنی کو چھوڑا ؟ آگ تکبیر کی سِینوں میں دبی رکھتے ہیں ! زندگی مثلِ بلالِ حبشی رکھتے

شکوہ بند نمبر 20

شکوہ بند نمبر 20 دردِ لیلٰی بھی وُہی ، قیس کا پہلو بھی وُہی نجد کے دشت و جبل میں رمِ آہو بھی وُہی عِشق کا دِل بھی وُہی ، حُسن کا جادُو بھی وُہی اُمتِ احمدِ مرسل بھی وُہی ، تُو بھی وُہی پھر یہ آزُردگئ غیرِ سبب کیا معنی؟ اپنے شیداؤں پہ یہ

شکوہ بند نمبر 19

شکوہ بند نمبر 19 تیری محفل بھی گئی ، چاہنے والے بھی گئے شب کی آہیں بھی گئیں ، صُبح کے نالے بھی گئے دِل تجھے دے بھی گئے ، اپنا صلہ لے بھی گئے آکے بیٹھے بھی نہ تھے اور نکالے بھی گئے آئے عُشاق ، گئے وعدہء فردا لے کر اَب اُنہیں ڈُھونڈ

شکوہ بند نمبر 18

شکوہ بند نمبر 18 بنی اغیار کی اب چاہنے والی دنیا رہ گئی اپنے لئے ایک خیالی دُنیا ہم تو رُخصت ہوئے اَوروں نے سنبھالی دُنیا پھر نہ کہنا ہُوئی توحید سے خالی دُنیا ہم تو جیتے ہیں کہ دُنیا میں ترا نام رہے کہیں ممکن ہے کہ ساقی نہ رہے جام رہے

بند نمبر 17

بند نمبر 17 کیوں مُسلمانوں میں ہے دولتِ دُنیا نایاب ؟ تیری قُدرت تو ہے وہ جس کی نہ حَد ہے نہ حِساب تُو جو چاہے تو اُٹھے سینہء صحراء سے حباب رہروء دشت ہو سیلی زدہء موجِ سَراب طعنِ اغیار ہے ، رُسوائی ہے ، ناداری ہے کیا ترے نام پہ مرنے کا عوض