شکوہ بند نمبر 26
شکوہ بند نمبر 26 قومِ آوارہ عناں تاب ہے پھر سُوئے حجاز لے اُڑا بلبلِ بے پر کو مذاقِ پرواز مضطرب باغ کے ہر غنچے میں ہے بُوئے نیاز تُو ذرا چھڑ تو دے ، تِشنہء مضراب ہے ساز نغمے بے تاب ہیں تاروں نکلنے کے لئے طُور مُضطر ہے اسی آگ میں جلنے کے