شکوہ بند نمبر 12

شکوہ بند نمبر 12

محفلِ کون و مکاں میں سحروشام پھرے

مئے توحید کو لے کر صفتِ جام پھرے

کوہ میں ، دشت میں لے کر ترا پیغام پھرے

اور معلوم ہے تجھ کو کبھی ناکام پھرے؟

دشت تو دشت ہیں دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے!

بحرِ ظُلمات میں دوڑا دئیے گھوڑے ہم نے !

Leave a Reply