تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا

تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا شعر نمبر 1 تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا خورشید میں بھی اس ہی کا ذرہ ظہور تھا مشکل الفاظ کے معانی: مستعار: ادھار لیا ہوا، عارضی۔ خورشید: سورج۔ ذرہ ظہور: معمولی سی جھلک یا نمائش۔ مفہوم: کائنات میں جہاں کہیں بھی روشنی

تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا

تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا خورشید میں بھی اس ہی کا ذرہ ظہور تھا ہنگامہ گرم کن جو دل ناصبور تھا پیدا ہر ایک نالے سے شور نشور تھا پہنچا جو آپ کو تو میں پہنچا خدا کے تئیں معلوم اب ہوا

رہی نگفتہ مرے دل میں داستاں میری

رہی نگفتہ مرے دل میں داستاں میری اردو شاعری کے خداے سخن، میر تقی میر کی یہ غزل ان کے مخصوص رنگِ تغزل، سوز و گداز اور سادگی و پرکاری کا بہترین نمونہ ہے۔ ذیل میں اس غزل کے تمام اشعار کی تفصیلی تشریح پیش ہے۔ شعر نمبر 1 رہی نگفتہ مرے دل میں داستاں

رہی نگفتہ مرے دل میں داستاں میری

رہی نگفتہ مرے دل میں داستاں میری رہی نگفتہ مرے دل میں داستاں میری نہ اس دیار میں سمجھا کوئی زباں میری برنگ صوت جرس تجھ سے دور ہوں تنہا خبر نہیں ہے تجھے آہ کارواں میری ترے نہ آج کے آنے میں صبح کے مجھ پاس ہزار جائے گئی طبع بدگماں میری وہ نقش

تجاہل تغافل تساہل کیا

تجاہل تغافل تساہل کیا شعر نمبر 1 تجاہل، تغافل، تساہل کیا ہوا کام مشکل، توکل کیا مشکل الفاظ کے معانی: تجاہل: جان بوجھ کر انجان بننا، دانستہ بے خبری۔ تغافل: غفلت برتنا، لاپرواہی، بے التفاتی۔ تساہل: سستی کرنا، دیر کرنا، غفلت کرنا۔ توکل: اللہ پر بھروسہ کرنا، معاملے کو اللہ کے سپرد کر دینا۔ مفہوم:

تجاہل تغافل تساہل کیا

تجاہل تغافل تساہل کیا تجاہل تغافل تساہل کیا ہوا کام مشکل توکل کیا نہیں تاب لاتا دل زار اب بہت ہم نے صبر و تحمل کیا زمین غزل ملک سی ہو گئی یہ قطعہ تصرف میں بالکل کیا جنوں تھا نہ مجھ کو نہ چپ رہ سکا کہ زنجیر ٹوٹی تو میں غل کیا نہ

جس سر کو غرور آج ہے یاں تاجوری کا

جس سر کو غرور آج ہے یاں تاجوری کا شعر نمبر 1: جس سر کو غرور آج ہے یہاں تاجوری کا کل اس پہ یہیں شور ہے پھر نوحہ گری کا مشکل الفاظ کے معانی: تاجوری: بادشاہت، سر پر تاج ہونا۔ نوحہ گری: ماتم کرنا، رونا دھونا۔ غرور: تکبر، گھمنڈ۔ مفہوم: آج جس شخص کو اپنی

پیری میں کیا جوانی کے موسم کو روئیے

پیری میں کیا جوانی کے موسم کو روئیے آج کی اس پوسٹ میں ہم میر تقی میر کی غزل ” پیری میں کیا جوانی کے موسم کو روئیے” کا مفہوم ، لغت اور تشریح کریں گے ۔ شعر نمبر 1 :  پیری میں کیا جوانی کے موسم کو روئیے اب صبح ہونے آئی ہے اک

فقیرانہ آئے صدا کر چلے گیارھویں جماعت غزل

فقیرانہ آئے صدا کر چلے گیارھویں جماعت غزل خیبر پختونخوا بورڈ آج کی اس غزل ” فقیرانہ آئے صدا کر چلے” کی تشریح کریں گے ۔ یہ غزل فیڈرل بورڈ اور خیبرپختونخوا بورڈ میں شامل ہے ۔ اس غزل کے شاعر میر تقی میر ہیں ۔ شعر نمبر 1 : فقیرانہ آئے صدا کر چلے