جب تک انسان پاک طینت ہی نہیں

جب تک انسان پاک طینت ہی نہیں شاعر کا تعارف: جگر مراد آبادی جگر مراد آبادی (1890ء – 1960ء) اردو غزل کے ایک انتہائی معتبر اور مقبول شاعر ہیں۔ ان کا اصل نام علی سکندر تھا، لیکن وہ اپنے تخلص “جگر” سے پوری دنیا میں مشہور ہوئے۔  ان کی شاعری میں غزل کا روایتی حسن،

جب تک انسان پاک طینت ہی نہیں

جب تک انسان پاک طینت ہی نہیں شاعر کا تعارف: جگر مراد آبادی جگر مراد آبادی (1890ء – 1960ء) اردو غزل کے ایک انتہائی معتبر اور مقبول شاعر ہیں۔ ان کا اصل نام علی سکندر تھا، لیکن وہ اپنے تخلص “جگر” سے پوری دنیا میں مشہور ہوئے۔ جگر صاحب کو “رئیس المتغزلین” کہا جاتا ہے

دائم پڑا ہوا ترے در پر نہیں ہوں میں

دائم پڑا ہوا ترے در پر نہیں ہوں میں شعر نمبر 1 دائم پڑا ہوا تیرے در پر نہیں ہوں میں خاک ایسی زندگی پہ کہ پتھر نہیں ہوں میں مشکل الفاظ کے معنی: دائم: ہمیشہ، مسلسل۔ در: دروازہ، چوکھٹ۔ خاک ایسی زندگی پہ: ایسی زندگی پر لعنت یا افسوس۔ مفہوم: شاعر کہتا ہے کہ

کام مردوں کے جو ہیں

کام مردوں کے جو ہیں شعر نمبر 1: کام مردوں کے جو ہیں سو وہی کر جاتے ہیں جان سے اپنی جو کوئی کے گزر جاتے ہیں مشکل الفاظ: مردوں: یہاں مرد سے مراد بہادر، جواں ہمت اور صاحبِ کردار لوگ ہیں۔ گزر جانا: جان قربان کر دینا، فدا ہو جانا۔ مفہوم: حقیقی جرات مند

سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں

سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں  شعر نمبر 1 : سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں مشکل الفاظ کے معانی: لالہ و گل = پھول، کلیاں، خوشبو دار پھول نمایاں = ظاہر ہونا، سامنے آنا پنہاں =

پیری میں کیا جوانی کے موسم کو روئیے

پیری میں کیا جوانی کے موسم کو روئیے آج کی اس پوسٹ میں ہم میر تقی میر کی غزل ” پیری میں کیا جوانی کے موسم کو روئیے” کا مفہوم ، لغت اور تشریح کریں گے ۔ شعر نمبر 1 :  پیری میں کیا جوانی کے موسم کو روئیے اب صبح ہونے آئی ہے اک