دعا میں ذکر کیوں ہو مدعا کا

دعا میں ذکر کیوں ہو مدعا کا آج کی اس پوسٹ میں ہم حسرت موہانی جن کو رئیس المتغزلین بھی کہتے ہیں ان کی مشہور غزل کی ” دعا میں ذکر کیوں ہو مدعا کا” کی تشریح اور مشکل الفاظ کے معانی بیان کریں گے ۔ اردو ادب کے آسمان پر حسرت موہانی ایک ایسے

دعا میں ذکر کیوں ہو مدعا کا

دعا میں ذکر کیوں ہو مدعا کا اردو ادب کے آسمان پر حسرت موہانی ایک ایسے درخشندہ ستارے ہیں جنہوں نے عشق اور انقلاب کو ایک ہی لڑی میں پرو دیا۔ ان کی غزلیں جہاں حسن و عشق کی لطافتوں سے لبریز ہیں، وہاں ان میں تصوف اور اخلاقی بلندی کا عکس بھی نمایاں ہے۔

فقیرانہ آئے صدا کر چلے

فقیرانہ آئے صدا کر چلے میر تقی میر اردو شاعری کے وہ آفتاب ہیں جنہیں “خدائے سخن” کہا جاتا ہے۔ ان کی شاعری میں جو سوز و گداز اور سادگی ہے، وہ کسی اور کے ہاں ملنا محال ہے۔ آپ کی فرمائش کے مطابق اس شاہکار غزل کی مکمل تشریح پیشِ خدمت ہے۔ شعر نمبر

فقیرانہ آئے صدا کر چلے

فقیرانہ آئے صدا کر چلے فقیرانہ آئے صدا کر چلے کہ میاں خوش رہو ہم دعا کر چلے جو تجھ بن نہ جینے کو کہتے تھے ہم سو اس عہد کو اب وفا کر چلے شفا اپنی تقدیر ہی میں نہ تھی کہ مقدور تک تو دوا کر چلے پڑے ایسے اسباب پایان کار کہ

دوست بن کر بھی نہیں ساتھ نبھانے والا

دوست بن کر بھی نہیں ساتھ نبھانے والا احمد فراز اردو شاعری کا وہ معتبر نام ہیں جن کی غزلوں میں جہاں رومانوی رنگ نمایاں ہے، وہاں زمانے کی تلخیوں اور انسانی رویوں کی عکاسی بھی بڑے خوبصورت انداز میں ملتی ہے۔ آپ کی فرمائش کے مطابق اس غزل کی مکمل تشریح، معانی اور مفہوم

دوست بن کر بھی نہیں ساتھ نبھانے والا

دوست بن کر بھی نہیں ساتھ نبھانے والا دوست بن کر بھی نہیں ساتھ نبھانے والا وہی انداز ہے ظالم کا زمانے والا اب اسے لوگ سمجھتے ہیں گرفتار مرا سخت نادم ہے مجھے دام میں لانے والا صبح دم چھوڑ گیا نکہت گل کی صورت رات کو غنچۂ دل میں سمٹ آنے والا کیا

دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں

دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں مرزا غالب کی یہ غزل اردو ادب کے شاہکار پاروں میں سے ایک ہے۔ اس میں انسانی جذبات، فلسفہِ زندگی اور عشق کے نازک پہلوؤں کو جس مہارت سے بیان کیا گیا ہے، وہ صرف غالب کا ہی خاصہ ہے۔ ذیل

دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں

دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں روئیں گے ہم ہزار بار کوئی ہمیں ستائے کیوں دیر نہیں حرم نہیں در نہیں آستاں نہیں بیٹھے ہیں رہ گزر پہ ہم غیر ہمیں اٹھائے کیوں

چمن میں رہنے دے کون آشیاں نہیں معلوم

چمن میں رہنے دے کون آشیاں نہیں معلوم خواجہ حیدر علی آتش دبستانِ لکھنؤ کے سب سے معتبر اور صاحبِ طرز شاعر ہیں۔ ان کی شاعری میں لکھنوی تہذیب کا رچاؤ، زبان کی صفائی اور تصوف کا رنگ نمایاں ہے۔ زیرِ نظر غزل ان کے مخصوص رنگِ تغزل کی عکاس ہے جس میں وہ دنیا

چمن میں رہنے دے کون آشیاں نہیں معلوم

چمن میں رہنے دے کون آشیاں نہیں معلوم چمن میں رہنے دے کون آشیاں نہیں معلوم نہال کس کو کرے باغباں نہیں معلوم مرے صنم کا کسی کو مکاں نہیں معلوم خدا کا نام سنا ہے نشاں نہیں معلوم اخیر ہو گئے غفلت میں دن جوانی کے بہار عمر ہوئی کب خزاں نہیں معلوم یہ