چمن میں رہنے دے کون آشیاں نہیں معلوم

چمن میں رہنے دے کون آشیاں نہیں معلوم چمن میں رہنے دے کون آشیاں نہیں معلوم نہال کس کو کرے باغباں نہیں معلوم مرے صنم کا کسی کو مکاں نہیں معلوم خدا کا نام سنا ہے نشاں نہیں معلوم اخیر ہو گئے غفلت میں دن جوانی کے بہار عمر ہوئی کب خزاں نہیں معلوم یہ

سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا

سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا خواجہ حیدر علی آتش اردو زبان کے ان شعراء میں سے ہیں جن کے کلام میں وقار، خودداری اور صوفیانہ رنگ نمایاں ہے۔ ان کی یہ غزل ان کے مخصوص رنگِ تغزل کی عکاس ہے، جس میں محبوب کے حسن، دنیا کی بے ثباتی اور صوفیانہ

اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا

اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا شعر نمبر 1: اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا رنج راحت فزا نہیں ہوتا مشکل الفاظ کے معانی: اثر: تاثر، نتیجہ۔ رنج: دکھ، غم، مصیبت۔ راحت فزا: خوشی یا سکون میں اضافہ کرنے والا۔ مفہوم: میرے دکھوں اور آہوں کا محبوب پر کوئی اثر نہیں ہوتا، یہی وجہ ہے

یہ آرزو تھی تجھے گل کے رو بہ رو کرتے

یہ آرزو تھی تجھے گل کے رو بہ رو کرتے یہ آرزو تھی تجھے گل کے رو بہ رو کرتے ہم اور بلبل بیتاب گفتگو کرتے پیامبر نہ میسر ہوا تو خوب ہوا زبان غیر سے کیا شرح آرزو کرتے مری طرح سے مہ و مہر بھی ہیں آوارہ کسی حبیب کی یہ بھی ہیں