اُداسی، بے دِلی، آشفتہ حالی میں کمی کب تھی(تشریح)

اُداسی، بے دِلی، آشفتہ حالی میں کمی کب تھی رگھوپتی سہائے فراق گورکھپوری اردو غزل کے وہ معتبر نام ہیں جنہوں نے غزل کی روایتی فرسودگی کو ختم کر کے اس میں ایک نئی روح پھونکی۔ زیرِ نظر غزل بارہویں جماعت کے نصاب کا ایک اہم حصہ ہے، جس میں شاعر نے اپنی داخلی کیفیات،

دل میں اک لہر سی اٹھی ہے ابھی ( تشریح)

دل میں اک لہر سی اٹھی ہے ابھی شعر نمبر 1: دل میں اک لہر سی اٹھی ہے ابھی کوئی تازہ ہوا چلی ہے ابھی مشکل الفاظ کے معنی: لہر: موج، خیال کا جوش، تڑپ۔ تازہ ہوا: خوشگوار جھونکا، یادِ یار۔ مفہوم: میرے دل میں اچانک ایک تڑپ اور یاد کی لہر پیدا ہوئی ہے،

نہ تخت و تاج میں نے لشکر و سپاہ میں ہے

نہ تخت و تاج میں نے لشکر و سپاہ میں ہے شعر نمبر 1: نہ تخت و تاج میں، نے لشکر و سپاہ میں ہے جو بات مردِ قلندر کی بارگاہ میں ہے مشکل الفاظ کے معانی: تخت و تاج: بادشاہت، سیاسی اقتدار۔ سپاہ: فوج، عسکری قوت۔ مردِ قلندر: درویش، وہ انسان جو دنیاوی حرص

نہ تخت و تاج میں نے لشکر و سپاہ میں ہے(غزل)

نہ تخت و تاج میں نے لشکر و سپاہ میں ہے نہ تخت و تاج میں نے لشکر و سپاہ میں ہے جو بات مرد قلندر کی بارگاہ میں ہے صنم کدہ ہے جہاں اور مرد حق ہے خلیل یہ نکتہ وہ ہے کہ پوشیدہ لا الہ میں ہے وہی جہاں ہے ترا جس کو

کسی کو دے کے دل کوئی نوا سنجِ فغاں کیوں ہو(غزل)

کسی کو دے کے دل کوئی نوا سنجِ فغاں کیوں ہو کسی کو دے کے دل کوئی نواسنج فغاں کیوں ہو نہ ہو جب دل ہی سینے میں تو پھر منہ میں زباں کیوں ہو وہ اپنی خو نہ چھوڑیں گے ہم اپنی وضع کیوں چھوڑیں سبک سر بن کے کیا پوچھیں کہ ہم سے

کام مردوں کے جو ہیں

کام مردوں کے جو ہیں شعر نمبر 1: کام مردوں کے جو ہیں سو وہی کر جاتے ہیں جان سے اپنی جو کوئی کے گزر جاتے ہیں مشکل الفاظ: مردوں: یہاں مرد سے مراد بہادر، جواں ہمت اور صاحبِ کردار لوگ ہیں۔ گزر جانا: جان قربان کر دینا، فدا ہو جانا۔ مفہوم: حقیقی جرات مند

داستان تیاری میں باغ کی از میر حسن( شعر 9 تا 16)

داستان تیاری میں باغ کی از میر حسن ( شعر 9 تا 16) شعر نمبر 9 بنی سنگِ مرمر سے چوپڑ کی نہر گئی چار سو اس کے پانی کی لہر مفہوم: باغ میں سنگِ مرمر سے بنی ہوئی چوپڑ کی شکل کی نہریں موجود ہیں جن کی لہریں ہر سمت (چار سو) پھیل کر