ہونٹوں پہ کبھی ان کے مرا نام ہی آئے

ہونٹوں پہ کبھی ان کے مرا نام ہی آئے اردو ادب کی مایہ ناز شاعرہ اداؔ جعفری کی یہ غزل تغزل، حزن اور وفاداری کی خوبصورت مثال ہے۔ ذیل میں ان کا تعارف اور غزل کی مکمل تشریح پیش ہے۔ تعارفِ شاعرہ: اداؔ جعفری اداؔ جعفری (1924–2012) اردو ادب کی پہلی معتبر اور مستند شاعرہ

ہونٹوں پہ کبھی ان کے مرا نام ہی آئے

ہونٹوں پہ کبھی ان کے مرا نام ہی آئے ادا جعفری (22 اگست 1924ء – 12 مارچ 2015ء) اردو کی پہلی صاحبِ دیوان شاعرہ، جنہیں “خاتونِ اول” کہا جاتا ہے، بدایوں میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے 12 برس کی عمر میں شاعری شروع کی، نسائی حسیت اور جدتِ لہجہ ان کی پہچان تھی۔ ان کے

ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے

ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے تمہیں کہو کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے نہ شعلہ میں یہ کرشمہ نہ برق میں یہ ادا کوئی بتاؤ کہ وہ شوخ تند خو کیا ہے یہ رشک ہے کہ وہ ہوتا

فقیرانہ آئے صدا کر چلے

فقیرانہ آئے صدا کر چلے میر تقی میر اردو شاعری کے وہ آفتاب ہیں جنہیں “خدائے سخن” کہا جاتا ہے۔ ان کی شاعری میں جو سوز و گداز اور سادگی ہے، وہ کسی اور کے ہاں ملنا محال ہے۔ آپ کی فرمائش کے مطابق اس شاہکار غزل کی مکمل تشریح پیشِ خدمت ہے۔ شعر نمبر

فقیرانہ آئے صدا کر چلے

فقیرانہ آئے صدا کر چلے فقیرانہ آئے صدا کر چلے کہ میاں خوش رہو ہم دعا کر چلے جو تجھ بن نہ جینے کو کہتے تھے ہم سو اس عہد کو اب وفا کر چلے شفا اپنی تقدیر ہی میں نہ تھی کہ مقدور تک تو دوا کر چلے پڑے ایسے اسباب پایان کار کہ

سن بستیوں کا حال جو حد سے گزر گئیں

سن بستیوں کا حال جو حد سے گزر گئیں منیر نیازی کی یہ غزل ان کے مخصوص لب و لہجے، خوف، حیرت اور ماضی کی بازگشت کی بھرپور عکاسی کرتی ہے۔ آپ کی فرمائش کے مطابق اس غزل کے تمام اشعار کی تفصیلی تشریح اور معانی درج ذیل ہیں۔ شعر نمبر 1 سن بستیوں کا

سن بستیوں کا حال جو حد سے گزر گئیں

سن بستیوں کا حال جو حد سے گزر گئیں سن بستیوں کا حال جو حد سے گزر گئیں ان امتوں کا ذکر جو رستوں میں مر گئیں کر یاد ان دنوں کو کہ آباد تھیں یہاں گلیاں جو خاک و خون کی دہشت سے بھر گئیں صرصر کی زد میں آئے ہوئے بام و در

چمن میں رہنے دے کون آشیاں نہیں معلوم

چمن میں رہنے دے کون آشیاں نہیں معلوم خواجہ حیدر علی آتش دبستانِ لکھنؤ کے سب سے معتبر اور صاحبِ طرز شاعر ہیں۔ ان کی شاعری میں لکھنوی تہذیب کا رچاؤ، زبان کی صفائی اور تصوف کا رنگ نمایاں ہے۔ زیرِ نظر غزل ان کے مخصوص رنگِ تغزل کی عکاس ہے جس میں وہ دنیا

چمن میں رہنے دے کون آشیاں نہیں معلوم

چمن میں رہنے دے کون آشیاں نہیں معلوم چمن میں رہنے دے کون آشیاں نہیں معلوم نہال کس کو کرے باغباں نہیں معلوم مرے صنم کا کسی کو مکاں نہیں معلوم خدا کا نام سنا ہے نشاں نہیں معلوم اخیر ہو گئے غفلت میں دن جوانی کے بہار عمر ہوئی کب خزاں نہیں معلوم یہ