شکوہ بند نمبر 20

شکوہ بند نمبر 20

دردِ لیلٰی بھی وُہی ، قیس کا پہلو بھی وُہی

نجد کے دشت و جبل میں رمِ آہو بھی وُہی

عِشق کا دِل بھی وُہی ، حُسن کا جادُو بھی وُہی

اُمتِ احمدِ مرسل بھی وُہی ، تُو بھی وُہی

پھر یہ آزُردگئ غیرِ سبب کیا معنی؟

اپنے شیداؤں پہ یہ چشمِ غضب کیا معنی؟

Leave a Reply