شکوہ بند نمبر 23
سرِ فاراں پہ کیا دین کو کامل تُو نے
اِک اشارے میں ہزاروں کے لئے دِل تُو نے
آتش اندوز کیا عشق کا حاصل تُو نے
پُھونک دی گرمئ رُخسار سے محفل تُونے
آج کیوں سِینے ہمارے شرر آباد نہیں
ہم وُہی سوختہ ساماں ہیں ، تُجھے یاد نہیں ؟
سرِ فاراں پہ کیا دین کو کامل تُو نے
اِک اشارے میں ہزاروں کے لئے دِل تُو نے
آتش اندوز کیا عشق کا حاصل تُو نے
پُھونک دی گرمئ رُخسار سے محفل تُونے
آج کیوں سِینے ہمارے شرر آباد نہیں
ہم وُہی سوختہ ساماں ہیں ، تُجھے یاد نہیں ؟