نثار میں تیری گلیوں کے اے وطن

نثار میں تیری گلیوں کے اے وطن بند نمبر 1 :  نثار میں تیری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے جو کوئی چاہنے والا طواف کو نکلے نذر چرا کے چلے، جسم و جاں بچا کے چلے ہے اہلِ دل کے لیے اب یہ نظمِ

نثار میں تیری گلیوں کے اے وطن

  نثار میں تری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے جو کوئی چاہنے والا طواف کو نکلے نظر چرا کے چلے جسم و جاں بچا کے چلے ہے اہل دل کے لیے اب یہ نظم بست و کشاد کہ سنگ و خشت مقید ہیں اور

مجھ سے مت کر یار کچھ گفتار، میں روزے سے ہوں

مجھ سے مت کر یار کچھ گفتار، میں روزے سے ہوں   مجھ سے مت کر یار کچھ گفتار، میں روزے سے ہوں ہو نہ جائے تجھ سے بھی تکرار، میں روزے سے ہوں ہر اک شے سے کرب کا اظہار، میں روزے سے ہوں دو کسی اخبار کو یہ تار، میں روزے سے ہوں

دلوں کے ساتھ جبینیں جو خم نہیں کرتے

دلوں کے ساتھ جبینیں جو خم نہیں کرتے   نعت از افتخار عارف   دلوں کے ساتھ جبینیں جو خم نہیں کرتے وہ پاس مدحت خیرالامم نہیں کرتے دعا بغیر اجازت بغیر اذن بغیر ہم ایک لفظ سپرد قلم نہیں کرتے کتاب حق نے جنہیں مصطفیٰ قرار دیا جز ان کے اور کوئی ذکر ہم

جواب شکوہ از علامہ اقبال

جوابِ شکوہ علامہ محمد اقبال کی شہرہ آفاق نظم جواب شکوہ کے تمام بند  حاضر ہیں ۔۔۔۔۔۔ دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے پر نہیں ، طاقتِ پرواز مگر رکھتی ہے قدسی الاصل ہے، رفعت پہ نظر رکھتی ہے خاک سے اُٹھتی ہے ، گردُوں پہ گذر رکھتی ہے عشق تھا فتنہ

شکوہ بند نمبر 31

شکوہ بند نمبر 31 چاک اس بُلبلِ تنہا کی نوا سے دِل ہوں جاگنے والے اسی بانگِ درا سے دِل ہوں یعنی پھر زندہ نئے عہدِوفا سے دِل ہوں پھر اسی بادہء دیرینہ کے پیاسے دِل ہوں عجمی خُم ہے تو کیا ، مے تو حجازی ہے مری نغمہ ہندی ہے تو کیا ، لے

شکوہ بند نمبر 30

شکوہ بند نمبر 30 لُطف مرنے میں ہے باقی ، نہ مزا جینے میں کُچھ مزا ہے تو یہی خونِ جگر پینے میں کتنے بے تاب ہیں جوہر مرے آئینے میں کِس قدر جلوے تڑپتے ہیں مرے سینے میں اس گلستاں میں مگر دیکھنے والے ہی نہیں داغ جو سینے میں رکھتے ہوں وہ لالے

شکوہ بند نمبر 29

شکوہ بند نمبر 29 قمریاں شاخِ صنوبر سے گریزاں بھی ہُوئیں پتیاں پُھول کی جھڑ جھڑ کے پریشاں بھی ہُوئیں وہ پُرانی روشیں باغ کی ویراں بھی ہُوئیں ڈالیاں پیرہنِ برگ سے عُریاں بھی ہُوئیں قیدِ موسم سے طبیعت رہی آزاد اس کی کاش گٌلشن میں سمجھتا کوئی فریاد اس کی

شکوہ بند نمبر 28

شکوہ بند نمبر 28 بُوئے گُل لے گئی بیرُونِ چمن رازِ چمن کیا قیامت ہے کہ خود پُھول ہیں غمازِ چمن عہدِ گُل ختم ہُوا ، ٹوٹ گیا سازِ چمن اُڑ گئے ڈالیوں سے زمزمہ پروازِ چمن ایک بُلبُل ہے کہ ہے محوِ ترنم اب تک اس کے سینے میں ہے نغموں کا تلاطم اب

شکوہ بند نمبر 27

شکوہ بند نمبر 27 مُشکلیں اُمتِ مرحوم کی آساں کردے مورِ بے مایہ کو ہمدوشِ سُلیماں کردے جنسِ نایابِ محبت کو پھر ارزاں کردے ہند کے دیر نشینوں کو مُسلماں کردے جوئے خوں می چکد از حسرتِ دیرینہء ما می تپد نالہ بہ نشترکدہء سِینہء ما