جواب شکوہ از علامہ اقبال
جوابِ شکوہ علامہ محمد اقبال کی شہرہ آفاق نظم جواب شکوہ کے تمام بند حاضر ہیں ۔۔۔۔۔۔ دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے پر نہیں ، طاقتِ پرواز مگر رکھتی ہے قدسی الاصل ہے، رفعت پہ نظر رکھتی ہے خاک سے اُٹھتی ہے ، گردُوں پہ گذر رکھتی ہے عشق تھا فتنہ