جواب شکوہ از علامہ اقبال

جوابِ شکوہ علامہ محمد اقبال کی شہرہ آفاق نظم جواب شکوہ کے تمام بند  حاضر ہیں ۔۔۔۔۔۔ دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے پر نہیں ، طاقتِ پرواز مگر رکھتی ہے قدسی الاصل ہے، رفعت پہ نظر رکھتی ہے خاک سے اُٹھتی ہے ، گردُوں پہ گذر رکھتی ہے عشق تھا فتنہ

شکوہ بند نمبر 31

شکوہ بند نمبر 31 چاک اس بُلبلِ تنہا کی نوا سے دِل ہوں جاگنے والے اسی بانگِ درا سے دِل ہوں یعنی پھر زندہ نئے عہدِوفا سے دِل ہوں پھر اسی بادہء دیرینہ کے پیاسے دِل ہوں عجمی خُم ہے تو کیا ، مے تو حجازی ہے مری نغمہ ہندی ہے تو کیا ، لے

شکوہ بند نمبر 30

شکوہ بند نمبر 30 لُطف مرنے میں ہے باقی ، نہ مزا جینے میں کُچھ مزا ہے تو یہی خونِ جگر پینے میں کتنے بے تاب ہیں جوہر مرے آئینے میں کِس قدر جلوے تڑپتے ہیں مرے سینے میں اس گلستاں میں مگر دیکھنے والے ہی نہیں داغ جو سینے میں رکھتے ہوں وہ لالے

شکوہ بند نمبر 29

شکوہ بند نمبر 29 قمریاں شاخِ صنوبر سے گریزاں بھی ہُوئیں پتیاں پُھول کی جھڑ جھڑ کے پریشاں بھی ہُوئیں وہ پُرانی روشیں باغ کی ویراں بھی ہُوئیں ڈالیاں پیرہنِ برگ سے عُریاں بھی ہُوئیں قیدِ موسم سے طبیعت رہی آزاد اس کی کاش گٌلشن میں سمجھتا کوئی فریاد اس کی

شکوہ بند نمبر 28

شکوہ بند نمبر 28 بُوئے گُل لے گئی بیرُونِ چمن رازِ چمن کیا قیامت ہے کہ خود پُھول ہیں غمازِ چمن عہدِ گُل ختم ہُوا ، ٹوٹ گیا سازِ چمن اُڑ گئے ڈالیوں سے زمزمہ پروازِ چمن ایک بُلبُل ہے کہ ہے محوِ ترنم اب تک اس کے سینے میں ہے نغموں کا تلاطم اب

شکوہ بند نمبر 27

شکوہ بند نمبر 27 مُشکلیں اُمتِ مرحوم کی آساں کردے مورِ بے مایہ کو ہمدوشِ سُلیماں کردے جنسِ نایابِ محبت کو پھر ارزاں کردے ہند کے دیر نشینوں کو مُسلماں کردے جوئے خوں می چکد از حسرتِ دیرینہء ما می تپد نالہ بہ نشترکدہء سِینہء ما

شکوہ بند نمبر 26

شکوہ بند نمبر 26 قومِ آوارہ عناں تاب ہے پھر سُوئے حجاز لے اُڑا بلبلِ بے پر کو مذاقِ پرواز مضطرب باغ کے ہر غنچے میں ہے بُوئے نیاز تُو ذرا چھڑ تو دے ، تِشنہء مضراب ہے ساز نغمے بے تاب ہیں تاروں نکلنے کے لئے طُور مُضطر ہے اسی آگ میں جلنے کے

شکوہ بند نمبر 25

شکوہ بند نمبر 25 بادہ کش غیر ہیں گُلشن میں لبِ جُو بیٹھے سُنتے ہیں جام بکف نغمہء کوکو بیٹھے دور ہنگامہء گلزار سے یک سُو بیٹھے تیرے دیوانے بھی ہیں مُنتظرِ ھُو بیٹھے اپنے پروانوں کو پھر ذوقِ خُود افروزی دے برقِ دیرینہ کو فرمانِ جگر سوزی دے

شکوہ بند نمبر 24

شکوہ بند نمبر 24 وادئ نجد میں وہ شورِ سلاسل نہ رہا قیس دیوانہ نظارہء محمل نہ رہا حوصلے وہ نہ رہے ، ہم نہ رہے دِل نہ رہا گھر یہ اُجڑا ہے کہ تُو رونقِ محفل نہ رہا اے خوش آں روز کہ آئی و بصد ناز آئی بے حجابانہ سوئے محفلِ ما باز

شکوہ بند نمبر 23

شکوہ بند نمبر 23 سرِ فاراں پہ کیا دین کو کامل تُو نے اِک اشارے میں ہزاروں کے لئے دِل تُو نے آتش اندوز کیا عشق کا حاصل تُو نے پُھونک دی گرمئ رُخسار سے محفل تُونے آج کیوں سِینے ہمارے شرر آباد نہیں ہم وُہی سوختہ ساماں ہیں ، تُجھے یاد نہیں ؟