نثار میں تیری گلیوں کے اے وطن
نثار میں تیری گلیوں کے اے وطن بند نمبر 1 : نثار میں تیری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے جو کوئی چاہنے والا طواف کو نکلے نذر چرا کے چلے، جسم و جاں بچا کے چلے ہے اہلِ دل کے لیے اب یہ نظمِ
نثار میں تیری گلیوں کے اے وطن بند نمبر 1 : نثار میں تیری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے جو کوئی چاہنے والا طواف کو نکلے نذر چرا کے چلے، جسم و جاں بچا کے چلے ہے اہلِ دل کے لیے اب یہ نظمِ
نظم: مجھ سے مت کر یار کچھ گفتار، میں روزے سے ہوں شاعر: سید ضمیر جعفری شعر نمبر 1 : مجھ سے مت کر یار کچھ گفتار، میں روزے سے ہوں ہو نہ جائے تجھ سے بھی تکرار، میں روزے سے ہوں تشریح: اس شعر میں سید ضمیر جعفری، جو کہ اردو کے ایک مانے
مجھ سے مت کر یار کچھ گفتار، میں روزے سے ہوں مجھ سے مت کر یار کچھ گفتار، میں روزے سے ہوں ہو نہ جائے تجھ سے بھی تکرار، میں روزے سے ہوں ہر اک شے سے کرب کا اظہار، میں روزے سے ہوں دو کسی اخبار کو یہ تار، میں روزے سے ہوں
کاش طوفاں میں سفینے کو اتارا ہوتا فیڈرل اور پنجاب بورڈ اردو جماعت نہم کی غزل کی تشریح ۔۔۔۔۔۔ شعر نمبر 1 : کاش طوفاں میں سفینے کو اتارا ہوتا ڈوب جاتا بھی تو موجوں نے ابھارا ہوتا مفہوم : کاش میں نے مشکلات کا سامنا کیا ہوتا، کاش طوفان میں اپنی کشتی کو لے
پیام لطیف از شاہ عبدالطیف بھٹائی شعر نمبر 1 : بے اعتدالیوں سے نحیف و نزار ہیں خود سر ہیں اور چارہ گری کے شکار ہیں تشریح : نظم پیام لطیف کے اس شعر میں شاعر شاہ عبداللطیف بھٹائی کہتا ہے کہ انسان بے اعتدالیوں کی وجہ سے کمزور اور ناتواں ہو گیا ہے۔ بے
کرکٹ اور مشاعرہ از دلاور فگار شعر نمبر 1 : مشاعرہ کا بھی تفریح ایم ہوتا ہے مشاعرہ میں بھی کرکٹ کا گیم ہوتا ہے تشریح : مزاحیہ شاعری کی دنیا میں جسے ‘شہنشاہ ظرافت’ اور ‘اکبر ثانی’ کے طور پر پہچانا جاتا ہے، اس کو دلاور فگار کہتے ہیں۔ اردو کی مزاحیہ شاعری کے
دلوں کے ساتھ جبینیں جو خم نہیں کرتے شعر نمبر 1 : دلوں کے ساتھ جبینیں جو خم نہیں کرتے وہ پاس مدحت خیر الامم نہیں کرتے تشریح : افتخار عارف اپنی نسل کے شعرا میں سنجیدہ ترین شاعر ہیں۔ وہ عام شعراء کی طرح تجربہ کے کسی جزوی اظہار پر قناعت نہیں کرتے بلکہ
کاش طوفاں میں سفینے کو اتارا ہوتا شعر نمبر 1: کاش طوفاں میں سفینے کو اتارا ہوتا ڈوب جاتا بھی تو موجوں نے ابھارا ہوتا مفہوم : کاش میں نے مشکلات کا سامنا کیا ہوتا، کاش طوفان میں اپنی کشتی کو لے جاتا۔ اگر ڈوب بھی جاتا تو لہریں مجھے واپس باہر پھینک دیتیں۔ تشریح
بازیچہ اطفال ہے دنیا مرے آگے مرزا غالب کی غزل کی تشریح شعر نمبر 1 : بازیچہ اطفال ہے دنیا مرے آگے ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے تشریح : غالب کی شاعری کی سب سے نمایاں خصوصیت ان کی جدت پسندی ہے۔ بیان اور اسلوب کی جدت اُن کی پہچان ہے۔ انہوں
نظم آمد صبح از میر انیس مرثیہ : مرثیہ عربی زبان کا لفظ ہے جو لفظ رثی سے مشتق ہے۔ رثی کے معانی ہیں مردے پر رونا ، آہ و زاری کرنا۔“ یہ صنف عربی شاعری میں رائج تھی۔ عزیزوں اور بزرگ ہستیوں کی موت پر رنج والم کے جذبات سے لبریز جو اشعار کہے