بازیچہ اطفال ہے دنیا مرے آگے از غالب

بازیچہ اطفال ہے دنیا مرے آگے

مرزا غالب کی غزل کی تشریح

شعر نمبر 1 : 

بازیچہ اطفال ہے دنیا مرے آگے

ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے

تشریح :

غالب کی شاعری کی سب سے نمایاں خصوصیت ان کی جدت پسندی ہے۔ بیان اور اسلوب کی جدت اُن کی پہچان ہے۔ انہوں نے منفرد لب ولہجہ اختیار کیا اور اپنے مختصر سے دیوان میں معنی و مفاہیم کا خزانہ بھر دیا۔

اسی جدت خیال کو بیان کرتے ہوئے غالب کہتے ہیں کہ میری نظر میں دنیا بچوں کا کھلونا (کھیل) یعنی بچوں کے کھیلنے کی جگہ سے زیادہ نہیں ہے۔ میں یہ سمجھتا ہوں میرے آگے دن رات تماشا ہو رہا ہے۔ یعنی میں دنیا کے حادثات کو محض بچوں کا کھیل سمجھتا ہوں اس سے میرے دل پہ کوئی اثر نہیں پڑتا اور محض رات دن کا تماشا جانتا ہوں۔ یعنی سائنس نے جو رموز حل کئے ہیں، دنیا نے جو ترقی کر لی ہے اس سے بڑے راز سامنے آگئے ہیں اس سے تو دنیا کائنات کے معمولات ایک کھیل بن کر رہ گئے ہیں۔ غالب کی شاعری میں معانی کی مختلف سطحیں موجود ہیں۔ ان کے بہت سے اشعار ایسے ہیں۔ جن کی فلسفیانہ ، سیاسی اور شخصی تفسیر ہم بیک وقت کر سکتے ہیں۔ یہ شعر بھی اسی فلسفیانہ خیال کا عکاس ہے۔ اس میں انہوں نے وقت کے ساتھ ساتھ بدلتے حقائق کو بڑے سادہ انداز میں بیان کیا ہے۔

شعر نمبر 2 : 

اک کھیل ہے اور نگر سلیماں مرے نزدیک

اک بات ہے اعجاز مسیحا، مرے آگے

تشریح :

غالب انسانی زندگی کے مختلف پہلوؤں کا گہرا شعور رکھتے ہیں۔ اس کے بنیادی معاملات و مسائل پر غور و فکر کرتے ہیں۔ اس کی ان گنت گتھیوں کو سلجھا دیتے ہیں۔ انسان کو اس کی عظمت کا احساس دلاتے ہیں اس کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونا سکھاتے ہیں اور نظام کائنات میں اس کو نئے آسمانوں پر اڑاتے ہیں۔ اسی لیے ان کو دورِ جدید کا شاعر کہا جاتا ہے ۔  اس شعر میں انہوں نے دو تلمیحات کے ذریعے سے زندگی کے اسرار کو بیان کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں، تخت سلیمان جو ہوا میں اڑا کرتا تھا ، اس کو محض ایک کھیل تصور کرتا ہوں۔ اسی طرح عیسی جو اللہ کے حکم سے مردوں کو زندہ کیا کرتے تھے وہ میرے نزدیک محض ایک معمولی سی بات ہے ، اس سے زیادہ اور کچھ نہیں ۔ یعنی دنیا اور اہل دنیا کے کمالات میری نظر میں ہیچ ہیں۔

اصل میں غالب کا شعور آگاہی کے اس درجے پر ہے جو انسانی زندگی کی حقیقت کو سمجھ چکا ہے۔ اس لیے وہ کہتے ہیں کہ زمانے کے تغیر و تبدل نے لوگوں کو تو متاثر کیا ہے لیکن میری نظر میں یہ سب بے وقعت ہے۔ کیوں کہ میں ان سب کی حقیقت کو سمجھتا ہوں۔

شعر نمبر 3 : 

جز نام نہیں، صورت عالم، مجھے منظور

جز وہم نہیں، ہستی اشیا مرے آگے

تشریح :

مرزا غالب کا یہ شعر ان کے فلسفیانہ انداز فکر اور وجودیات کے گہرے شعور کا عکاس ہے۔ اس شعر میں غالب نے دنیا اور اشیا کی حقیقت پر سوال اٹھاتے ہوئے وہم اور حقیقت کے درمیان فرق کو واضح کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ دنیا کی ہر چیز محض ایک نام ہے ، اس کی کوئی حقیقی وجودیت نہیں۔ غالب کے نزدیک دنیا کے نزدیک دنیا کی صورتیں صرف لفاظی اور تصورات ہیں۔ دنیا کی جو ظاہری شکلیں ہیں، وہ مجھے شکلیں ہیں ، وہ مجھے صرف نام کی حد تک قابل قبول ہیں، کیونکہ ان کا حقیقی وجود مشکوک ہے۔ میرے سامنے جو کچھ بھی ہے ، وہ محض وہم اور خیال کے سوا کچھ نہیں۔ اشیا کی وجودیت در حقیقت ایک فریب نظر ہے، کیونکہ ان کا وجود ہمارے ادراک اور و ہم پر منحصر ہے۔

غالب کے نزدیک انسان کا اپنے مشاہدات پر اعتبار ہی در حقیقت وہم ہے۔ یہ شعر ان کے اس فلسفے کی عکاسی کرتا ہے کہ حقیقی وجود صرف ذات الٰہی ہے، باقی سب کچھ فانی اور نام کے سوا کچھ نہیں۔

شعر نمبر 4 : 

گھستا ہے، جبیں خاک پہ ، دریا مرے آگے

ہوتا ہے نہاں، گرد میں صحرا مرے ہوتے

تشریح  :

غالب کے اشعار میں ایک جہانِ معنی آباد ہے جو انہیں نہ صرف دیگر تمام غزل گو اشعار سے ممتاز کرتا ہے بلکہ ہر دور کا شاعر یعنی دور جدید کا شاعر بھی بناتا ہے۔ اس شعر میں اگر ” میرے آگے” سے مراد انسان کے فہم و ادراک کو لیا جائے تو سارا مطلب واضح ہو جاتا ہے۔ غالب نے اس شعر میں انسانی عظمت کا انتہائی خوب صورت اظہار کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ صحرا جو اپنی وسعت میں شاہکار ہے اور دریا جسے اپنی شان و شوکت پر فخر ہے ، انسانی عقل و فہم کے سامنے وہ منہ چھپاتے پھر رہے ہیں۔ صحرا میری خاک نوردی کی گرد میں چھپ جاتا ہے اور دریا میری عقل کے سامنے گویا سجدہ ریز ہو جاتا ہے۔  گویا انسانی عظمت کا اعتراف کرتا ہے جس نے بڑے صحراؤں کو آباد کر دیا اور عظیم دریاؤں کے رخ موڑ دیے ہیں۔

شعر نمبر 5 : 

مت پوچھ کہ کیا حال ہے میرا تیرے پیچھے

تو یہ دیکھ کہ ، کیا رنگ ہے تیرا، مرے آگے

تشریح : عشق و محبت اور ہجر و فراق لازم و ملزوم ہیں۔ جیسے ایک شاعر نے کہا ہے کہ ”عشق سچا وہی جس میں ملتی نہیں منزلیں”۔ گویہ ہجر و فراق عشق و محبت کا حصہ ضرور ہوتے ہیں لیکن محب اور محبوب دونوں کو اندر سے ختم کر دیتے ہیں۔ ہجر و فراق کا شکار انسان دنیا اور اس کے رنگ و رونق سے بے پروا اپنے غم میں مبتلا زندگی گزار رہا ہوتا ہے۔ غالب کا یہ شعر بھی اسی کیفیت کی عکاسی کر رہا ہے۔ وہ اپنے محبوب سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ اے میرے محبوب! تو یہ نہ دیکھ کہ تیری جدائی نے میرا کیا حال کر دیا ہے۔ تیرے بعد میں کس حال میں جی رہا ہوں بلکہ تو یہ دیکھ کہ تو کس رنگ میں ہے ؟ یعنی اس جدائی نے تیرے کیا حالت بنا رکھی ہے۔ بقول استاد دامن

لالی اکھیاں دی پئی دسدی اے

روئے تسی وی او، روئے اسی وی آں

ہے۔ یعنی ہجر و فراق نے ہم دونوں کو غم زدہ کر دیا ہے۔ ایک دوسرے سے الگ جی کر ہم دونوں میں سے کوئی بھی خوش نہیں ۔

شعر نمبر 6 : 

ایماں مجھے روکے ہے، جو کھینچے ہے مجھے کفر

کعبہ میرے پیچھے ہے، کلیسا میرے آگ

تشریح :

غالب کی شاعری زندگی کے تمام پہلوؤں کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔ ان کی شاعری یہ دکھانے کی کوشش کرتی ہے کہ انسانی زندگی اور انسانی فطرت کیسی ہے، اس کی مجبوریاں اور پیچیدگیاں کیا ہیں، اس کی کشمکش اور کشاکش کی نوعیت کیا ہے۔

تشریح طلب شعر میں بھی غالب اسی کش مکش کا اظہار کر رہے ہیں۔ شاید یہ نیکی اور بدی کی کش مکش ہے جہان کفر سے گناہ کی طرف مائل کرتا

ہے تو ایمان اسے اس بچنے کی ترغیب دیتا ہے۔ کفر یعنی گناہ میں کشش ہے تو ایمان میں سادگی ہے۔ گناہ کی کشش بار بار انسان کو اپنی طرف مائل کرتی

ہے جس سے ایمان کی آزمائش ہوتی ہے۔ غالب کہتے ہیں کہ کچھ سمجھ نہیں آرہی کہ میں کیا کروں۔ غالب کے زمانے میں ہی انگریز ہندوستان کے نقشے پر ابھرے۔ وہ اپنی ثقافت ، تمدن اور تہذیب اپنے ساتھ لے کر آئے۔ جس میں شخصی، مذہبی اور رائے کی آزادی عام تھی اور جس سے اہل علم کا بڑا طبقہ تیزی سے متاثر ہو رہا تھا۔ غالب کہتے ہیں کہ نیا تمدن اور نیا اندازِ فکر مجھے اپنی طرف راغب کر رہے ہیں مگر میں جس دین کا ماننے والا ہوں وہ مجھے ٹس سے مس ہونے نہیں دیتا۔ ہزار کلیسا مرے سامنے ہوں مگر کعبہ پر مرا ایمان یا اس سے رشتہ اتنا مستحکم ہے کہ ٹوٹ ہی نہیں سکتا۔

شعر نمبر 7 : 

گو ہاتھ کو جنبش نہیں، آنکھوں میں تو دم ہے

رہنے دو ابھی ساغر و مینا، مرے آگے

 تشریح : ساغر و مینا کے معنی پیالہ و صراحی کے ہیں یعنی شراب کا سامان۔ صوفی شعرا نے شراب کو عشق حقیقی اور معرفتِ الہی کے سفر کی ایک علامت کے طور پر استعمال کیا۔ غالب بھی اسی روایت کے تسلسل میں اپنی منفرد آواز شامل کرتے ہیں۔ غالب کی شاعری میں شراب عشق، روحانی تجربات، یاد نیاوی پریشانیوں سے فرار کی نمائندگی کرتی ہے۔

تشریح طلب شعر میں بھی مرزا غالب معرفت کے اسی مقام پر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگرچہ عمر کے زیادہ ہونے کی وجہ سے ناتوانی کا شکار ہوں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ مجھ میں دم نہیں ہے۔ ٹھیک  ہے میرے ہاتھوں میں وہ طاقت  نہیں جو شراب کا پیالہ ( ذکر خدا)  کے لیے متحرک ہو سکے  ۔ کم از کم میری آنکھیں تو سلامت ہیں۔ میری آنکھوں کے سامنے ہی یہ ساغر و مینا  رہنے دو۔ میرے دل کو سکون ملے گا۔ کہتے ہیں کہ آنکھیں دل کا آئینہ ہوتی ہیں۔ جو کچھ آنکھیں دیکھتی ہیں دل اسی کا اثر قبول کرتا ہے۔ اسی لیے غالب کہتے ہیں کہ ساغر و مینا میرے آنکھوں کے سامنے رہیں گے تو دل کو سکون سا رہے گا۔

 : بقول غالب

مے سے غرض نشاط ہے کس روسیاہ کو

اک گونہ بے خودی مجھے دن رات چاہیے

شعر نمبر 8 : 

ہم پیشہ و ہم مشرب و ہم راز ہے میرا

غالب کو برا کیوں کہو ، اچھا! مرے آگے

تشریح :

ہم پیشہ کا مطلب ایک جیسا روزگار ، ہم مشرب کا مطلب ساتھ پینے والا اور ہم راز کا مطلب راز دان ہے۔ غالب کہتے ہیں کہ میرا محبوب میرا رازدان ہے۔ میں اس کا ہم نوالہ و ہم پیالہ ہوں۔ تم اس کو میرے سامنے کیوں برا کہہ رہے ہو۔ تم اس کی اچھائی بیان کرو کیوں کہ اگر کوئی غالب کو محبوب ہے تو یقینا بہت منفرد اور ارفع اور اعلیٰ ہو گا۔ دوسری طرف یہ تمام باتیں غالب نے اپنے آپ سے کی ہیں کہ غالب ہی میرا ہم نوا اور ہم پیالہ ہے اسے میرے سامنے برا مت کہو۔ اس کا دوسرا مفہوم کچھ اس طرح بھی ہو سکتا ہے کہ غالب تو میرا دوست ، میرا ہم پیالہ و ہم نوالہ اور میر ا رازدان ہے۔ وہی کام کرتا ہے جو میں کرتا ہوں، وہ میرا ہم مسلک ہے۔ ہم اکٹھے اٹھتے بیٹھتے اور کھاتے پیتے ہیں۔ میرے رازوں میں بھی وہ شریک ہے۔ اسے برا کیوں کہتے ہو۔ اچھا اگر تمہیں کہنے پر ہی اصرار ہے تو کم از کم میرے سامنے اسے برا نہ کہو ۔ مجھ سے یہ برداشت نہ ہو گا۔

Leave a Reply