سب کہاں کچھ لالا و گل میں نمایاں ہو گئیں

سب کہاں کچھ لالا و گل میں نمایاں ہو گئیں شعر نمبر 1: سب کہاں کچھ لالا و گل میں نمایاں ہو گئیں خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں مفہوم: تمام خوبصورت چہرے دوبارہ نظر نہیں آتے، کچھ پھولوں کی صورت میں زمین سے باہر آ گئے ہیں، ورنہ نہ جانے

جگ میں آ کر ادھر دیکھا ادھر دیکھا

جگ میں آکر ادھر دیکھا ادھر دیکھا شعر نمبر 1 ​شعر: جگ میں آ کر ادھر ادھر دیکھا تو ہی نظر آیا جدھر دیکھا ​مفہوم: اس دنیا میں قدم رکھنے کے بعد میں نے جس سمت بھی اپنی نظر دوڑائی، مجھے کائنات کے ہر منظر اور ہر ذرے میں صرف اللہ تعالیٰ کی ذات اور

داستان تیاری میں باغ کی از میر حسن ( شعر 33 تا 39)

داستان تیاری میں باغ کی از میر حسن ( شعر 33 تا 39) شعر نمبر 33 کیا قاعدے سے شروع کلام پڑھانے لگے علم اس کو تمام مفہوم: شہزادے نے باقاعدہ اصول و ضوابط (قاعدے) سے کلام کا آغاز کیا اور اساتذہ اسے تمام ضروری علوم سکھانے لگے۔ تشریح: میر حسن بیان کرتے ہیں کہ

داستان تیاری میں باغ کی از میر حسن ( شعر 25 تا 32)

داستان تیاری میں باغ کی از میر حسن ( شعر 25 تا 32) شعر نمبر 25 سبزہِ کوہ پر سایہِ ابرِ تر گرے مینہ تو موتی جھڑیں فرش پر مفہوم: پہاڑ کے سبزے پر نمناک بادلوں کا سایہ ہے اور جب بارش برستی ہے تو یوں لگتا ہے جیسے فرش پر موتی جھڑ رہے ہوں۔

داستان تیاری میں باغ کی از میر حسن( شعر 17 تا 24)

داستان تیاری میں باغ کی از میر حسن ( شعر 17 تا 24) شعر نمبر 17 عجب چاندنی میں گلوں کی بہار ہر ایک گل سفیدی سے ماہتاب دار مفہوم: چاندنی رات میں پھولوں پر عجیب رونق برسی ہے اور ہر پھول چاندنی کی سفیدی جذب کر کے خود ایک چھوٹا سا چاند بن گیا

داستان تیاری میں باغ کی از میر حسن( شعر 9 تا 16)

داستان تیاری میں باغ کی از میر حسن ( شعر 9 تا 16) شعر نمبر 9 بنی سنگِ مرمر سے چوپڑ کی نہر گئی چار سو اس کے پانی کی لہر مفہوم: باغ میں سنگِ مرمر سے بنی ہوئی چوپڑ کی شکل کی نہریں موجود ہیں جن کی لہریں ہر سمت (چار سو) پھیل کر

( شعر 1 تا 8 )داستان تیاری میں باغ کی از میر حسن

داستان تیاری میں باغ کی از میر حسن شعر نمبر 1 : مئے ارغوانی پلا ساقیا کہ تعمیر کو باغ کی دل چلا تشریح: اس شعر میں میر حسن نے داستان کا آغاز روایتی مثنوی نگاروں کے انداز میں کیا ہے۔ وہ ساقی سے مخاطب ہو کر “مئے ارغوانی” یعنی سرخ و جامنی شراب کا

نئی نسل کا نوحہ (امجد اسلام امجد)

نئی نسل کا نوحہ (امجد اسلام امجد) بند نمبر 1 میں سوچتا ہوں لکھا ہے جو کچھ، پڑھا ہے جو کچھ وہ کس لیے تھا؟ کہاں سے پوچھوں، کسے بتاؤں؟ تشریح: شاعر امجد اسلام امجد نظم کی ابتدا ایک استفہامیہ (سوالیہ) انداز سے کرتے ہیں۔ وہ نئی نسل کے نمائندے کے طور پر خود کلامی

انسانِ کامل (ﷺ) کی برکات( شعر 21 تا 36)

انسانِ کامل (ﷺ) کی برکات( شعر 21 تا 36) نظم: انسانِ کامل ﷺ کی برکات (حفیظ جالندھری) اشعار 21 تا 36: تفصیلی و علمی تشریح شعر نمبر 21 یہاں سرمایہ و محنت سے غائب تھی حدِ فاصل کہ جس کا نام سرمایہ ہے، محنت ہی کو تھا حاصل مفہوم: اسلامی معاشرے میں دولت اور مزدوری

انسانِ کامل (ﷺ) کی برکات( شعر 1 تا 20)

انسانِ کامل (ﷺ) کی برکات پہلا شعر یہاں روح الامیں، خیر الانام (ﷺ) کے در پہ حاضر تھا یہاں رحمت سرگرمِ عمل تھی، اللہ ناظر  تھا مشکل الفاظ کے معانی روح الامیں: حضرت جبرائیل علیہ السلام، وحی لانے والے فرشتہ خیر الانام (ﷺ): تمام انسانوں میں سب سے بہتر، نبی کریم ﷺ در پہ حاضر