پیام لطیف از شاہ عبدالطیف بھٹائی
شعر نمبر 1 :
بے اعتدالیوں سے نحیف و نزار ہیں
خود سر ہیں اور چارہ گری کے شکار ہیں
تشریح : نظم پیام لطیف کے اس شعر میں شاعر شاہ عبداللطیف بھٹائی کہتا ہے کہ انسان بے اعتدالیوں کی وجہ سے کمزور اور ناتواں ہو گیا ہے۔ بے اعتدالی سے مراد ہے زندگی میں توازن کا فقدان، خواہ وہ جسمانی ہو، روحانی ہو یا معاشرتی۔ انسان اپنی سرکشی اور بے راہ روی کی وجہ سے اپنے آپ کو تباہی کے دہانے پر لے آیا ہے۔ وہ اپنی ہی خودسری کا شکار ہو کر رہ گیا ہے اور اب اسے چارہ گری کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ چارہ گر سے مراد وہ ہستی ہے جو انسان کو اس کی مشکلات سے نجات دلائے، لیکن شاعر کہتا ہے کہ اگر انسان خود ہی بے اعتدال ہو اور اپنی اصلاح کی کوشش نہ کرے تو کوئی چارہ گر بھی اس کی مدد نہیں کر سکتا۔
یہاں شاعر انسان کی خودسری اور بے راہ روی کو واضح کرتا ہے۔ انسان اپنی ہی غلطیوں کا شکار ہو کر رہ گیا ہے۔ وہ اپنی زندگی میں توازن قائم نہیں رکھتا اور اپنی سرکشی کی وجہ سے مشکلات میں گھر جاتا ہے۔ چارہ گری کی ضرورت محسوس ہونے کے باوجود اگر انسان خود ہی اپنی اصلاح کی طرف توجہ نہ دے تو کوئی بھی چارہ گر اس کی مدد نہیں کر سکتا۔
اس شعر میں شاعر انسانوں کی بے اعتدالیوں اور غلط رویوں کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ جب انسان اپنی فطرت میں توازن نہیں رکھتا تو وہ نہ صرف جسمانی طور پر کمزور ہو جاتا ہے بلکہ روحانی طور پر بھی پریشانی کا شکار ہوتا ہے۔ یہ “بے اعتدالیاں” اس کے اندرونی سکون اور صحت پر منفی اثر ڈالتی ہیں۔ انسان جب اپنی خواہشات کی پیروی کرتا ہے اور زندگی میں توازن قائم نہیں کرتا تو وہ خود سر ہو جاتا ہے اور وہ اپنی حالت کا علاج نہیں کر پاتا ۔ اس لیے وہ بیماریوں کا شکار ہو جاتا ہے۔ یہاں شاعر انسان کی فطرت کی کمی کو اجاگر کر رہے ہیں اور اس کی حالت کا تجزیہ کر رہے ہیں۔
شعر نمبر 2 :
بے اعتدالیاں ہوں تو کیا چارہ گر کرے
پرہیز ہی نہ ہو تو دوا کیا اثر کرے
تشریح : نظم پیام لطیف کے اس شعر میں شاعر شاہ عبداللطیف بھٹائی بے اعتدالی کے نتائج پر روشنی ڈالتا ہے۔ اگر انسان اپنی زندگی میں بے اعتدالی کا شکار ہو اور اپنی اصلاح کی کوشش نہ کرے تو کوئی چارہ گر بھی اس کی مدد نہیں کر سکتا۔ چارہ گر سے مراد وہ ہستی ہے جو انسان کو اس کی مشکلات سے نجات دلائے، لیکن اگر انسان خود ہی اپنی اصلاح کی طرف توجہ نہ دے تو کوئی بھی چارہ گر اس کی مدد نہیں کر سکتا۔
یہاں شاعر کہتا ہے کہ اگر انسان اپنی زندگی میں پرہیز نہ کرے یعنی اپنی غلطیوں سے باز نہ آئے تو کوئی دوا بھی اس پر اثر نہیں کرے گی۔ پرہیز سے مراد ہے اپنی غلطیوں کو ترک کرنا اور اپنی زندگی کو درست راستے پر لانا۔ اگر انسان اپنی غلطیوں کو ترک نہ کرے تو کوئی بھی دوا یا علاج اس پر اثر نہیں کرے گا۔
یہ شعر اس بات پر زور دیتا ہے کہ انسان کی بے اعتدالیوں اور غلطیوں کا علاج اس وقت تک ممکن نہیں جب تک وہ خود اپنے آپ کو سدھارنے کی کوشش نہ کرے۔ “چارہ گر” یعنی وہ لوگ جو بیماری کا علاج کرتے ہیں وہ بھی تب تک کچھ نہیں کر سکتے جب تک انسان کی فطرت میں تبدیلی نہ ہو۔ اگر کوئی انسان اپنی زندگی میں پرہیز نہیں کرتا اور اپنے اندرونی مسائل کی طرف توجہ نہیں دیتا تو کوئی دوا یا علاج اس پر اثر نہیں کرے گا۔ شاعر یہاں یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اندرونی توازن کی اہمیت ہے اور انسان کو خود اپنی حالت کو بہتر بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔
شعر نمبر 3 :
چارہ سازوں میں بیٹھنا سیکھو پھر نہ ہوگا کبھی کوئی آزار
راس آئے گا ان کا قرب تمہیں جو بدلتے ہیں فطرت بیمار
تشریح : نظم پیام لطیف کے اس شعر میں شاعر شاہ عبداللطیف بھٹائی کہتا ہے کہ اگر انسان چارہ سازوں یعنی اپنی مشکلات کو حل کرنے والوں کے ساتھ بیٹھنا سیکھ لے تو اسے کبھی بھی کوئی تکلیف نہیں ہو گی۔ چارہ سازوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو انسان کو اس کی مشکلات سے نجات دلانے میں مدد کرتے ہیں۔ اگر انسان ان کے ساتھ بیٹھنا سیکھ لے تو اسے کبھی بھی کوئی تکلیف نہیں ہو گی۔
یہاں شاعر کہتا ہے کہ اگر انسان اپنی زندگی میں تبدیلی لائے اور اپنی غلطیوں کو ترک کرے تو اسے چارہ سازوں کا قرب حاصل ہو گا۔ چارہ سازوں کا قرب حاصل کرنے سے مراد ہے کہ انسان اپنی مشکلات کو حل کرنے والوں کے ساتھ بیٹھنا سیکھ لے اور ان کی مدد سے اپنی زندگی کو بہتر بنائے۔
اس شعر میں شاعر انسان کو ہدایت دے رہے ہیں کہ وہ روحانی رہنماؤں یا اچھے لوگوں کے ساتھ وقت گزارے تاکہ وہ اپنی فطرت میں تبدیلی لا سکیں۔ “چارہ سازوں میں بیٹھنا” سے مراد ہے کہ وہ لوگ جو روحانی یا اخلاقی رہنمائی فراہم کرتے ہیں ان کے ساتھ رہنا چاہیے۔ ان لوگوں کا قرب انسان کی روحانیت اور فطرت کو بہتر بنا دیتا ہے۔ جب انسان ان کی رہنمائی میں زندگی گزارے گا تو اس کی مشکلات اور پریشانیاں کم ہو جائیں گی۔ شاعر کا پیغام ہے کہ انسان کو اپنی زندگی میں بہتر افراد کے ساتھ تعلق قائم کرنا چاہیے تاکہ وہ اپنے اندر کی بیماریوں کا علاج کر سکے اور سکون حاصل کر سکے۔
شعر نمبر 4 :
اور کوئی ہو چارہ ساز اگر چارہ درد بے اثر ہو جائے
اس کو حاجت نہیں مسیحا کی جس پہ محبوب کی نظر ہو جائے
تشریح : نظم پیام لطیف کے اس شعر میں شاعر شاہ عبداللطیف بھٹائی کہتا ہے کہ اگر انسان کی فطرت بیمار ہو جائے اور کوئی چارہ ساز بھی اس کی مدد نہ کر سکے تو اس کا درد بے اثر ہو جائے گا۔ فطرت بیمار ہونے سے مراد ہے کہ انسان کی طبیعت اور مزاج خراب ہو جائے اور وہ اپنی مشکلات کو حل کرنے کے قابل نہ رہے۔ اگر چارہ ساز بھی اس کی مدد نہ کر سکے تو اس کا درد بے اثر ہو جائے گا۔
یہاں شاعر کہتا ہے کہ جس انسان پر محبوب کی نظر ہو جائے، اسے کسی مسیحا کی ضرورت نہیں ہوتی۔ محبوب کی نظر سے مراد ہے کہ انسان کو اللہ کی رحمت اور توجہ حاصل ہو جائے۔ اگر انسان کو اللہ کی رحمت حاصل ہو جائے تو اسے کسی مسیحا کی ضرورت نہیں ہوتی۔
یہ شعر انسان کی روحانی حالت کی وضاحت کرتا ہے۔ اگر انسان کی فطرت بیمار ہو اور وہ اپنے مسائل کا علاج کرنے والے “چارہ سازوں” کے پاس جائے تب بھی علاج بے اثر ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم اگر انسان پر اللہ کی نظر کرم ہو جائے تو پھر اس کے لیے کسی اور علاج کی ضرورت نہیں رہتی۔ “مسیحا” یہاں اللہ کی طرف اشارہ ہے جو انسان کی فطرت کو بہتر کر سکتا ہے۔ اگر اللہ کی محبت اور نظر کرم ہو تو انسان کو کوئی دوسری رہنمائی یا علاج کی ضرورت نہیں رہتی۔ شاعر اس شعر میں روحانی علاج کی اہمیت کو بیان کر رہے ہیں۔
شعر نمبر 5 :
تیری ہی ذات اول و آخر تو ہی قائم ہے اور تو ہی قدیم
تجھ سے وابستہ ہر تمنا ہے تیرا ہی آسرا ہے رب کریم
تشریح : نظم پیام لطیف کے اس شعر میں شاعر شاہ عبداللطیف بھٹائی کہتا ہے کہ اللہ کی ذات ہی اول اور آخر ہے وہی قائم اور قدیم ہے۔ اللہ کی ذات ہی ہر چیز کا آغاز اور انجام ہے ۔ وہی ہر چیز کو قائم رکھنے والا ہے اور وہی قدیم ہے۔ یہاں شاعر کہتا ہے کہ ہر تمنا اللہ سے وابستہ ہے ۔ وہی ہر چیز کا راز جانتا ہے۔ اللہ ہی ہر چیز کا رازداں ہے اور وہی ہر چیز کو سنبھالنے والا ہے۔
اس شعر میں شاعر اللہ کی ذات کی بے پایاں عظمت اور اس کے کامل ہونے کی حقیقت کو بیان کر رہے ہیں۔ اللہ کی ذات “اول و آخر” یعنی وہ ہر شے کا آغاز اور انتہا ہے اور وہ “قائم” یعنی ہمیشہ قائم رہنے والی ہے۔ اللہ کی ذات کا کوئی اختتام نہیں ہے وہ قدیم ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ شاعر یہاں یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اللہ کے ساتھ وابستگی ہر انسان کی سب سے بڑی تمنا ہونی چاہیے کیونکہ وہ ہی ہر چیز کا رازق ہے اور اس کی ہدایت اور محبت کے بغیر انسان کا کوئی وجود نہیں۔ اللہ کی عظمت اور اس کے کرم کی طرف اشارہ کر کے شاعر نے انسان کو اللہ کے قریب ہونے کی ترغیب دی ہے۔
شعر نمبر 6 :
کم ہے جتنی کریں تیری توصیف تو ہی اعلی ہے اور تو ہی علیم
والی شش جہات واحد ذات رازق کائنات رب رحیم
تشریح : نظم پیام لطیف کے اس شعر میں شاعر شاہ عبداللطیف بھٹائی کہتا ہے کہ اللہ کی توصیف کرنا انسان کے بس کی بات نہیں ہے ۔ وہ اعلیٰ ذات ہے اور وہی علیم ہے۔ اللہ کی توصیف کرنا انسان کے لیے ممکن نہیں کیونکہ وہی اعلیٰ ہے اور وہی ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔ یہاں شاعر کہتا ہے کہ اللہ ہی چھ جہات( دائیں ، بائیں ، آگے ، پیچھے ، اوپر اور نیچے) کا مالک ہے ۔ وہی واحد ذات ہے جو کائنات کا رازق ہے۔ اللہ ہی ہر چیز کا مالک ہے، وہی ہر چیز کو رزق دینے والا ہے اور وہی رحیم ہے۔
شاعر اللہ کی صفات کو بیان کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اللہ کی تعریف جتنی کی جائے وہ کم ہے کیونکہ اللہ کی عظمت کی کوئی حد نہیں ہے۔ اللہ “اعلی” یعنی سب سے بلند ہے اور “علیم” یعنی سب کچھ جاننے والا ہے۔ اللہ کی وحدیت پر زور دیتے ہوئے شاعر یہ بتاتے ہیں کہ اللہ ہی کائنات کا رازق ہے اور وہ سب کی ضروریات پوری کرنے والا ہے۔ اللہ کی “رحمت” بے پایاں ہے، جو ہر مخلوق پر محیط ہے۔ اس شعر میں شاعر اللہ کی صفات کا بیان کرتے ہوئے انسان کو اللہ کی عظمت اور قدرت کی یاد دلاتے ہیں۔
شعر نمبر 7 :
کامل ایمان کے ساتھ جس نے بھی دل سے مانا زبان سے مانا
جس کی خاطر بنی ہے یہ دنیا اس محمد کا مرتبہ جانا
تشریح : نظم پیام لطیف کے اس شعر میں شاعر شاہ عبداللطیف بھٹائی کہتا ہے کہ جس نے بھی کامل ایمان کے ساتھ دل سے اور زبان سے اللہ کو مانا وہی کامیاب ہوا۔ کامل ایمان سے مراد ہے کہ انسان دل اور زبان دونوں سے اللہ کو مانے اور اس کی عبادت کرے۔
یہاں شاعر کہتا ہے کہ یہ دنیا جس کی خاطر بنی ہے اس محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مرتبہ جاننا چاہیے۔ دنیا کی تخلیق کا مقصد ہی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات ہے، اس لیے ان کا مرتبہ جاننا چاہیے۔
اس شعر میں شاعر نے حضرت محمد ﷺ کی عظمت کا ذکر کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جو شخص دل و زبان سے ایمان لاتا ہے اور اللہ کے ساتھ ساتھ اس کے رسول ﷺ کی محبت اور پیروی کرتا ہے اس کی زندگی کامیاب ہوتی ہے۔ حضرت محمد ﷺ کی بعثت کی وجہ سے ہی دنیا کا نظام قائم ہے۔ شاعر یہاں حضرت محمد ﷺ کے مرتبے کو بلند کرتے ہیں اور ان کی حیثیت کو اجاگر کرتے ہیں۔ اس شعر میں ایک دعوت دی جا رہی ہے کہ انسان کو ایمان کی حقیقت کو سمجھنا چاہیے اور رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا چاہیے۔
شعر نمبر 8 :
فوقیت اس کو دوسروں پہ ملی اپنی ہستی کو اس نے پہچانا
جس نے اس قادر حقیقی کو وحدہ لا شریک گردانا
تشریح : تشریح طلب شعر میں شاعر کہتا ہے کہ جس نے اللہ کو وحدہ و لا شریک مانا وہی کامیاب ہوا۔ اللہ کو وحدہ و لا شریک ماننے سے مراد ہے کہ انسان اللہ کو ایک مانے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے۔
اس شعر میں شاعر نے حضرت محمد ﷺ کی عظمت اور ان کی روحانیت کو بیان کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت محمد ﷺ کو دوسروں پر فوقیت اس وجہ سے حاصل ہوئی کہ انہوں نے اللہ کی حقیقی ہستی کو سمجھا اور تسلیم کیا۔ انہوں نے اللہ کی وحدانیت (وحدہ و لا شریک) کو پہچانا اور اپنی ہستی کو اللہ کے ساتھ جوڑا۔ حضرت محمد ﷺ کی روحانی بصیرت اور اللہ کے ساتھ تعلق نے ان کو سب سے بلند مقام عطا کیا۔ شاعر یہاں انسان کو یہ درس دے رہے ہیں کہ اللہ کی وحدانیت کو پہچاننا اور اس پر ایمان لانا انسان کے لئے کامیابی کا راستہ ہے۔”