نظم آمد صبح از میر انیس

نظم آمد صبح از میر انیس

مرثیہ :

مرثیہ عربی زبان کا لفظ ہے جو لفظ رثی سے مشتق ہے۔ رثی کے معانی ہیں مردے پر رونا ، آہ و زاری کرنا۔“ یہ صنف عربی شاعری میں رائج تھی۔ عزیزوں اور بزرگ ہستیوں کی موت پر رنج والم کے جذبات سے لبریز جو اشعار کہے جاتے تھے انھیں اصطلاحاً مرثیہ کہا جاتا تھا۔ اُردو میں یہ صنف موضوعاتی لحاظ سے واقعات کربلا سے مخصوص ہو گئی اور اسی مفہوم میں اس نے اُردو شاعری میں بہت ترقی کی تاہم اُردو میں ایسے مرثیوں کی بھی کمی نہیں جو مختلف لوگوں کی اموات پر اظہارِ غم کے لیے لکھے گئے ہوں۔ ایسے مرثیوں کے لیے ” شخصی مرثیہ“ کی اصطلاح رائج ہے۔ چہرہ، سراپا رخصت، آمد ، رجز، رزم، شہادت اور بین مرثیے کے اہم اجزا سمجھے جاتے ہیں۔

مرثیے کے اجزا :

چہرہ۔ سراپا۔ رخصت آمد۔ رجز رزم – شہادت۔ بین۔ دعا

بند نمبر 1 : 

پھولا شفق سے ، چرخ پہ جب لالہ زار صبح

گل زار شب، خزاں ہوئی ، آئی بہار صبح

کرنے لگا فلک، زر انجم، نگار  صبح

سر گرم ذکر حق ہوئے، طاعت گزار صبح

تھا چرخ اخضری پر یہ رنگ، آفتاب کا

کھلتا ہے جیسے، پھول چمن میں، گلاب کا

مشکل الفاظ کے معانی:

شفق: صبح یا شام کے وقت افق پر پھیلی ہوئی سرخی

ذکر حق :  اللہ کا ذکر

چرخ :  آسمان

طاعت گزار :  اطاعت کرنے والا

گل زار شب: رات کا باغ یعنی ستارے

چرخ اخضری : سبز یا نیلا آسمان

زر  انجم: ستاروں کا سونا

 تشریح: میر انیس کا کمال یہ ہے کہ جس واقعہ کو بیان کرتے ہیں اس کی تصویر کھینچ دیتے ہیں بلکہ ان کی تصویر کبھی بھی اصل سے بھی بہتر ہو جاتی ہے۔ اس بند میں وہ صبح کا منظر بڑے ہی دلکش انداز میں بیان کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جب سورج طلوع ہوتا ہے ، تو مشرق کی جانب شفق کی سرخی پھیل جاتی ہے ، جو ایسا معلوم ہوتی ہے جیسے کسی نے لال رنگ کی چادر تان دی ہو۔ رات کی تاریکی چھٹ جاتی ہے، چاند پھیکا پڑ گیا اور ہر طرف دن کی روشنی اس طرح پھیل جاتی ہے جیسے خزاں کے بعد بہار کی آمد کا احساس ہوتا ہے۔ کلیوں سے پھول کھلتے ہیں اور فضا میں تازگی اور خوشبو بھر جاتی ہے۔ ستارے اور دیگر اجرام فلکی دھیرے دھیرے نظروں سے یوں اوجھل ہو جاتے ہیں جیسے آسمان انہیں صبح کے حُسن پر لٹا رہا ہو۔ ہر طرف ایک نئی زندگی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ پرندے چہچہانے لگتے ہیں اور انسان بھی اپنی اپنی عبادات میں مشغول ہو جاتا ہے ۔

بند کے آخر میں شاعر نے انتہائی خوبصورت تشبیہ استعمال کی ہے۔ بظاہر سورج اور گلاب میں کوئی مناسبت نہیں ، لیکن میر انیس کا کمال دیکھیے کہ انہوں نے محض سرخ رنگ کی بدولت دونوں کو تشبیہ دی ہے۔سورج طلوع ہوتا ہے تو یوں لگتا ہے جیسے باغ میں گلاب کا پھول کھل رہا ہے۔ آخری مصرعے میں ” جیسے “

کا لفظ حرف تشبیہ ہے جس نے شعر کے حسن کو دو بالا کر دیا ہے۔

بند نمبر 2 : 

چلنا وہ باد صبح کے جھونکوں کا، دم بہ دم

مرغان باغ کی، وہ خوش الحانیاں ، بہم

وه آب و تاب نہر، وہ موجوں کا پیچ و خم

 سردی ہوا میں ، پر پر نہ زیادہ بہت نہ کم

کھا کھا کے اوس، اور بھی سبزہ، ہرا ہوا

تھا موتیوں دامن صحرا بھرا ہوا

مشکل الفاظ کے معانی :

دم بہ دم :  ہر دم

آب و تاب :  شان و شوکت

پیچ و خم :  چکر

مرغان باغ : باغ کے پرندے

خوش الحانیاں: خوش کر دینے والی آوازیں

اوس: شبنم

بہم : مل کر

دامن صحرا :  صحرا کا دامن

 تشریح: میر انیس نے فطرت کی وہ بولتی تصویریں کھینچی ہیں جن سے ان کی قوت مشاہدہ، پرواز تخیل اور قادر الکلامی کا ثبوت ملتا ہے۔ میر انیس اس بند میں کہتے ہیں کہ صبح کا وقت ایسا ہوتا ہے ، جب قدرت کی ایسی ایسی نعمتیں انسان کو دعوت دے رہی ہوتی ہیں کہ جن کا متبادل انسان کو میسر نہیں۔ صبح کے وقت ہلکے ہلکے جھونکوں کی صورت میں صبح کی ٹھنڈی ہوا چلتی ہے جو قلب و جگر کو زندگی بھر سکون فراہم کرتی ہے۔ پرندے ہوا کے جھونکوں سے یوں مست ہوتے ہیں کہ وہ اپنے خالق کی حمد و ثنا کرنے  لگتے ہیں۔ پرندوں کی یہ آواز شیریں بھی ہوتی ہے اور دل نشیں بھی۔ یہ گیت یہ ، یہ نغمے کانوں میں رس گھولتے ہیں۔ ایسے میں شاعر کی توجہ میدان کربلا کے پہلو میں بہتی نہر فرات کی جانب ہوتی ہے اور دیکھتا ہے کہ پوری آب و تاب سے رواں دواں ہے۔ اس کی موجیں پیچ و تاب کھاتی ہوئی آگے بڑھ رہی ہیں۔ لہروں کا اٹھنا اور کناروں سے ٹکرانا ایک دل فریب منظر ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ باد نسیم کے جھونکوں سے موسم قدرے خوش گوار ہو گیا ہے۔ نہر کے پانی کو چھو کے واپس آنے والی ہوا سے گرمی کی شدت میں کمی واقع ہو گئی تھی لیکن ایسی بھی نہیں کی سردی کا احساس ہونے لگے۔رات بھر پتوں کے بھیگتے رہنے سے ان کی پیاس ختم ہو گئی اور ان کا رنگ نکھر آیا۔ اور جو شبنم کے قطرے پتوں پر پڑے  ہیں یوں لگتا ہے گویا صحرا کا دامن موتیوں سے بھرا ہوا ہے۔

اس بند کے آخری شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ رات بھر سے شبنم کے قطرے جو پتوں نے جذب نہیں کیے تھے  وہ صبح کے وقت موتیوں کی طرح دکھائی دیتے تھے ۔

بند نمبر 3 : 

وہ نور صبح، اور وہ صحرا، وہ سبزہ زار

چلتا نسیم صبح کا، ره ره کے بار بار

تھے طائروں کے غول، درختوں پہ بے شمار

کو گو وہ قمریوں کی وہ طاؤس کی پکار

وا تھے، دریچے باغ بہشت نعیم کے

ہر سُو رواں تھے، دشت میں جھونکے نسیم کے

میر انیس کے کلام میں صبح کا منظر ہمیشہ ایک خاص جمالیاتی حسن رکھتا ہے۔ اس بند میں شاعر نے کربلا کے میدان میں صبح کے منظر کو نہایت دل نشیں انداز میں بیان کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ سورج کے طلوع ہوتے ہی صحرا میں ہر طرف نور ہی نور پھیل گیا۔ صحرا گو یا سر سبز و شاداب باغ کی شکل اختیار کر گیا جہاں صبح کے وقت درختوں پر پرندوں کے غول کے غول آ ٹھہرے ہیں۔ یہ وہ وقت ہے جب نرم رو ٹھنڈی ہوا کے جھونکے آہستہ آہستہ چلتے رہتے ہیں۔ ایسے پر فضا ماحول میں قمریاں چہنچاتی پھرتی ہیں اور مور اپنے پر پھیلائے جھومتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ایک اور بند کے ایک شعر میں انہوں نے پرندوں کی منظر کشی کچھ اس طرح کی ہے کہ

وہ نور اور دشت سہانا سا ، وہ فضا

دراج و کبک و تیهو و طاؤس کی صدا

بند کے آخری شعر میں شاعر کہتا ہے کہ یہ سب اس لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جنت کے دروازے زمین والوں کے لیے کھول دیے ہیں، اسی لیے اس دشت میں ، اس بیاباں میں باد نسیم کے جھونکے رواں دواں ہیں ۔

نور صبح : صبح کی روشنی

طائر: پرندے

قمری: فاختہ کی طرح کا پرندہ

طاؤس : مور

غول: جھرمٹ

نسیم صبح  : صبح کی ٹھنڈی ہوا

گوگو: قمریوں کے چھکنے کی آواز

بہشت نعیم: نعمتوں سے بھری جنت

هر سو : ہر طرف

دشت : جنگل ویرانه

بند نمبر 4 :

آمد وہ آفتاب کی وہ صبح کا سماں

تھا جس کی زو سے وجد میں طاؤسِ آسماں

ذروں کی روشنی پہ ستاروں کا تھا گماں

نہرِ فرات بیچ میں تھی مثلِ کہکشاں

ہر نخل پر ضیائے سرِ کوہِ طور تھی

گویا فلک سے بارشِ بارانِ نور تھی

مفہوم: سورج کی آمد اور صبح کا منظر ایسا دلکش تھا کہ اس کی روشنی سے آسمان (جو مور کی مانند رنگین ہے) وجد میں آ گیا۔ ریت کے ذرے ستاروں کی طرح چمک رہے تھے اور ان کے درمیان نہرِ فرات کہکشاں کی مانند دکھائی دے رہی تھی۔ ہر پودا کوہِ طور کی طرح روشن تھا، گویا آسمان سے نور کی بارش ہو رہی تھی۔

 تشریح :

اس بند میں میر انیس نے مبالغہ آرائی اور حسنِ تعلیل کے ذریعے کربلا کی صبح کو ایک ماورائی اور نورانی رنگ دے دیا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ جب سورج طلوع ہوا تو کائنات میں زندگی کی ایک نئی لہر دوڑ گئی۔ “طاؤسِ آسماں” ایک نہایت عمدہ استعارہ ہے جس میں آسمان کو مور سے تشبیہ دی گئی ہے جو سورج کی پہلی کرن پڑتے ہی خوشی سے جھومنے لگا۔

میدانِ کربلا کی تپتی ریت کے ذرات جب آفتاب کی کرنوں سے منور ہوئے تو وہ ریت نہیں رہے بلکہ آسمان کے ستاروں کا گماں دینے لگے۔ یہ تشبیہ اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ اس مقام کی نسبت امام حسین (ع) سے ہے، اس لیے یہاں کی خاک بھی افلاک سے بلند ہے۔ شاعر نے نہرِ فرات کے بہاؤ اور اس پر پڑنے والی دھوپ کی چمک کو “کہکشاں” سے تشبیہ دے کر کلام میں وسعت پیدا کر دی ہے۔

بند کے آخری حصے میں شاعر روحانیت کے عروج پر پہنچتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ وہاں کا ہر درخت (نخل) عام پودا نہیں تھا بلکہ اس پر وہ ضیاء (روشنی) تھی جو حضرت موسیٰ (ع) نے کوہِ طور پر دیکھی تھی۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ امامِ عالی مقام کی موجودگی نے اس دشت کو “وادیِ ایمن” بنا دیا تھا۔ ہر طرف نور کا ایسا عالم تھا کہ محسوس ہوتا تھا جیسے بادلوں سے پانی نہیں بلکہ “نور” برس رہا ہو۔ یہ منظر نگاری قاری کو اس عظیم معرکے سے پہلے کے سکون اور تقدس کا احساس دلاتی ہے۔

بند نمبر 5 :

اوجِ زمیں سے پست تھا چرخِ زہر جدی

کوسوں تھا سبزہ زار سے صحرا زمردی

ہر خشک و تر پہ تھا کرمِ بحرِ سرمدی

بے آب تھے مگر درِ دریائے احمدی

روکے ہوئے تھی نہر کو امت رسول کی

سبزہ ہرا تھا، خشک تھی کھیتی بتول کی

مفہوم: کربلا کی زمین کی بلندی کے سامنے بلند ترین ستارے والا آسمان بھی پست دکھائی دے رہا تھا۔ میلوں تک پھیلا ہوا صحرا سبزے کی وجہ سے زمرد کی طرح ہرا تھا۔ ہر شے پر اللہ کی دائمی رحمت تھی لیکن رسول اللہ (ص) کے خاندان کے موتی (اہلِ بیت) پیاسے تھے۔ رسول (ص) کی امت نے نہر پر پہرہ لگا رکھا تھا، جس کی وجہ سے فطرت تو ہری بھری تھی مگر فاطمہ (ع) کی اولاد پیاسی تھی

 تشریح :

یہ بند اردو مرثیہ نگاری میں “تضاد” اور “رنج و ملال” کی بہترین مثال ہے۔ میر انیس کہتے ہیں کہ کربلا کی زمین کو امام حسین (ع) کے قدموں نے وہ “اوج” (بلندی) بخشی کہ آسمان کے بلند ترین مقام (زہر جدی) بھی اس کے سامنے ہیچ اور پست نظر آنے لگے۔ صحرا جو کہ عام طور پر خشک اور ویران ہوتا ہے، اس صبح “زمردی” (سبز پتھر جیسا) نظر آ رہا تھا، گویا قدرت نے امام کے استقبال کے لیے سبز قالین بچھا دیا ہو۔

دوسرے مصرعوں میں شاعر اس عظیم المیے اور ستم ظریفی کی طرف آتے ہیں جس نے تاریخِ اسلام کا رخ بدل دیا۔ وہ کہتے ہیں کہ اللہ کا کرم “بحرِ سرمدی” (ہمیشہ رہنے والے سمندر) کی طرح ہر خشک و تر شے کو سیراب کر رہا تھا، پرندے، درخت اور جانور سب پانی پی رہے تھے، مگر “درِ دریائے احمدی” (نبی ص کے خاندان کے قیمتی موتی) پیاسے تھے۔

آخری دو مصرعے دل کو چھلنی کر دینے والے ہیں۔ شاعر حیرت اور دکھ سے کہتے ہیں کہ وہی لوگ جو خود کو “امتِ رسول” کہتے تھے، انہوں نے اپنے ہی نبی (ص) کے جگر گوشوں پر پانی بند کر رکھا تھا۔ یہ ایک ایسا تضاد ہے جو انسانی ضمیر کو جھنجھوڑ دیتا ہے۔ “سبزہ ہرا تھا، خشک تھی کھیتی بتول کی” میں میر انیس نے کمالِ فن دکھایا ہے۔ ایک طرف گھاس اور پودے پانی سے سیراب ہو کر لہلہا رہے ہیں، اور دوسری طرف حضرت فاطمہ (ع) کی مقدس اولاد (کھیتی بتول) تپتی دھوپ میں پیاس کی شدت سے نڈھال ہے۔ یہ مصرعہ کربلا کے پورے کرب کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔

بند نمبر 6

کس شان سے تھا باغِ جہاں کا نیا رنگ

پھولوں پہ وہ شبنم کی نمی، وہ نمِ بے رنگ

لرزاں تھے ہر اک شاخ پہ وہ گوہرِ شب رنگ

خوشبو سے بسے ہوئے وہ جھونکے، وہ ہوا تنگ

ہر برگِ گل پہ قطرہِ شبنم کی وہ جھلک

شرمائے جس سے اطلسِ زنگاریِ فلک

مفہوم: دنیا کے باغ (کربلا کے دشت) کا رنگ آج نرالا تھا۔ پھولوں پر شبنم کے شفاف قطرے موتیوں کی طرح لرز رہے تھے۔ ہوا کے خوشبودار جھونکے ہر طرف مہک پھیلا رہے تھے۔ پھول کی پتی پر شبنم کی چمک ایسی تھی کہ اسے دیکھ کر آسمان کا ریشمی نیلا لباس بھی شرما جائے۔

 تشریح :

اس بند میں میر انیس نے بصری منظر نگاری (Visual Imagery) کا جادو جگایا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ کربلا کا وہ صحرا جو بظاہر خشک ہونا چاہیے تھا، امامِ عالی مقام کی برکت سے “باغِ جہاں” کا ایک نیا اور انوکھا رنگ پیش کر رہا تھا۔ صبح کے وقت پھولوں پر جو شبنم پڑی تھی، شاعر اسے “نمِ بے رنگ” کہتا ہے، یعنی وہ پانی جو بے رنگ ہو کر بھی اپنی شفافیت میں بے مثال تھا۔

وہ شبنم کے قطروں کو “گوہرِ شب رنگ” (رات کے وقت بننے والے موتی) سے تشبیہ دیتے ہیں جو درختوں کی شاخوں پر ہلکے ہلکے لرز رہے تھے۔ یہاں میر انیس کی مشاہدہ سازی کمال کی ہے؛ وہ ہوا کے جھونکوں کو “خوشبو سے بسے ہوئے” قرار دیتے ہیں، گویا صبا نے امام کے خیموں سے گزر کر عطر کشی کر لی ہو۔

بند کے آخری حصے میں مبالغہ آرائی کا نہایت خوبصورت استعمال ملتا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ ہر پتی پر شبنم کا قطرہ اس قدر تابناک اور چمکدار تھا کہ نیلا آسمان بھی اپنی چمک دمک اس کے سامنے ہیچ سمجھنے لگا۔ “اطلسِ زنگاریِ فلک” ایک ایسی اصطلاح ہے جو آسمان کی وسعت اور اس کے گہرے نیلے ریشمی رنگ کو واضح کرتی ہے۔ میر انیس یہ ثابت کر رہے ہیں کہ جب حق کے قافلے زمین پر اترتے ہیں تو زمین کے ذرے افلاک کی بلندیوں سے بھی زیادہ روشن ہو جاتے ہیں۔ فطرت ان شہداء کے استقبال کے لیے اپنے بہترین رنگوں سے آراستہ ہو چکی تھی۔

بند نمبر 7 :

وہ جھومنا پودوں کا، وہ شاخوں کی لچک تھی

ہر برگِ گل پہ قطرہِ شبنم کی جھلک تھی

نورِ سحر سے دشت کے ذروں میں چمک تھی

وہ شور تھا طائر کا، وہ ہر سو چہک تھی

آتی تھی سرد سرد وہ خوشبو نسیم کی

وا تھے دریچے باغِ بہشتِ نعیم کے

مفہوم: پودوں کا ہوا سے جھومنا اور شاخوں کی لچک ایک حسین منظر پیش کر رہی تھی۔ صبح کے نور نے صحرا کے ذرے ذرے کو چمکا دیا تھا۔ پرندوں کی چہچہاہٹ ہر طرف گونج رہی تھی اور ایسی ٹھنڈی خوشبودار ہوا چل رہی تھی جیسے جنت کے دروازے زمین کی طرف کھول دیے گئے ہوں۔

 تشریح :

اس بند میں متحرک منظر نگاری (Kinetic Imagery) کا بھرپور مظاہرہ کیا گیا ہے۔ پودوں کا “جھومنا” اور شاخوں کی “لچک” دراصل کائنات کی خوشی کا اظہار ہے۔ میر انیس یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ کربلا کی نباتات بھی امام حسین (ع) کے حضور سرِ تسلیم خم کیے ہوئے جھوم رہی ہیں۔ صبح کا سورج جب طلوع ہوا تو اس کے “نورِ سحر” نے دشت کے عام سے ذروں کو بھی ہیروں کی طرح چمکا دیا۔

شاعر نے پرندوں کے شور اور چہچہاہٹ (طائر کا شور) کو “تسبیحِ الٰہی” کا مترادف قرار دیا ہے۔ ہر طرف زندگی کی لہر دوڑ رہی تھی اور کائنات کا ہر جاندار اس عظیم دن کے اغاز پر محوِ حیرت تھا۔ “سرد سرد خوشبو” کا احساس یہ بتاتا ہے کہ ہوا میں تپش نہیں تھی بلکہ ایک لطافت تھی جو روح کو سکون پہنچا رہی تھی۔

بند کا آخری مصرعہ “وا تھے دریچے باغِ بہشتِ نعیم کے” فکری اعتبار سے نہایت گہرا ہے۔ یہاں شاعر نے میدانِ کربلا کو جنت سے تشبیہ دی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ ہوائیں دنیاوی نہیں تھیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے “بہشتِ نعیم” (نعمتوں والی جنت) کے کھڑکیاں اور دروازے اس مقام کے لیے کھول دیے تھے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہاں موجود ہستیاں جنتی ہیں اور ان کا استقبال کرنے کے لیے آسمانی ہوائیں زمین پر اتر آئی ہیں۔ میر انیس نے کربلا کے تپتے صحرا کو استعاروں کی مدد سے جنت کا نمونہ بنا دیا ہے۔

بند نمبر 8

آمد وہ آفتاب کی، وہ صبح کا سماں

تھا جس کی زو سے وجد میں طاؤسِ آسماں

ذروں کی روشنی پہ ستاروں کا تھا گماں

نہرِ فرات بیچ میں تھی مثلِ کہکشاں

ہر نخل پر ضیائے سرِ کوہِ طور تھی

گویا فلک سے بارشِ بارانِ نور تھی

مفہوم: سورج کی آمد سے صبح کا سماں ایسا تھا کہ آسمان کا مور (آسمان) وجد میں آ گیا۔ ریت کے ذرے ستاروں کی طرح چمک رہے تھے اور نہرِ فرات کہکشاں کی مانند دکھائی دے رہی تھی۔ ہر درخت پر کوہِ طور جیسی تجلی تھی، گویا آسمان سے نور کی بارش ہو رہی ہو۔

 تشریح :

یہ نظم کا آخری اور پر شکوہ ترین بند ہے جس میں شاعر نے اپنی تمام تر فنی مہارتیں صرف کر دی ہیں۔ “آمد وہ آفتاب کی” سے مراد مادی سورج بھی ہے اور “آفتابِ امامت” (امام حسین ع) کی طرف اشارہ بھی ہو سکتا ہے۔ “طاؤسِ آسماں” ایک لاجواب استعارہ ہے؛ جس طرح مور بادل دیکھ کر وجد میں ناچتا ہے، اسی طرح آسمان بھی اس مبارک صبح کی چمک دیکھ کر جھومنے لگا۔

صحرا کے ریتلے ذرات پر جب دھوپ پڑی تو وہ ایسے دمک اٹھے کہ دیکھنے والے کو ان پر آسمان کے ستاروں کا گماں ہونے لگا۔ یہ اس زمین کی عظمت کا بیان ہے جس نے شہداء کے خون کو جذب کرنا تھا۔ نہرِ فرات جو کہ دشت کے بیچ سے گزر رہی تھی، سورج کی کرنوں کو منعکس کر کے ایسی لگ رہی تھی جیسے ستاروں کی کہکشاں زمین پر اتر آئی ہو۔

مصرعہ “ہر نخل پر ضیائے سرِ کوہِ طور تھی” تلمیحی اہمیت رکھتا ہے۔ نخل (کھجور کا درخت) کوہِ طور کی اس تجلی سے منور نظر آتا تھا جو حضرت موسیٰ (ع) نے دیکھی تھی۔ یعنی کربلا کا ہر درخت حق کی گواہی دے رہا تھا۔ آخری مصرعے میں میر انیس نے منظر کا اختتام اس خوبصورتی سے کیا کہ پوری فضا “بارانِ نور” (نور کی بارش) میں نہائی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ یہ نور دراصل اس سچائی کا نور ہے جو کربلا سے پوری دنیا میں پھیلنے والا تھا۔ میر صاحب نے ثابت کر دیا کہ جس زمین پر حق کے علمبردار قدم رکھ دیں، وہاں کی خاک بھی فلک بن جاتی ہے اور وہاں کی تاریکی بھی نور میں بدل جاتی ہے۔

مشکل الفاظ و معانی اور اصطلاحات

چرخِ اخضری: نیلا یا سبز آسمان۔

زرِ انجم: ستاروں کی دولت (مراد ستارے)۔

طاعت گزار: فرمانبردار، عبادت کرنے والا۔

نسیمِ صبح: صبح کی ٹھنڈی اور لطیف ہوا ہ۔

بہشتِ نعیم: نعمتوں والی جنت۔

مرغانِ باغ: باغ کے پرندے۔

زو (Zo): روشنی، چمک۔

طاؤسِ آسماں: آسمان کا مور (آسمان کے لیے استعارہ)۔

نخل (Nahl): درخت، پودا۔

اوج (Ouj): بلندی، عروج۔

چرخِ زہر جدی: ایک بلند ستارے کا مقام، مراد بلند آسمان۔

بحرِ سرمدی: ہمیشہ رہنے والا سمندر، مراد اللہ کی دائمی رحمت۔

کھیتی بتول کی: حضرت فاطمہ (ع) کی اولاد۔

گوہرِ شب رنگ: رات کا بنا ہوا موتی (مراد شبنم)۔

اطلسِ زنگاریِ فلک: آسمان کا سبز یا نیلا ریشمی لباس۔

طاؤسِ آسماں: آسمان کا مور (آسمان کے لیے استعارہ)۔

نسیم: صبح کی لطیف اور خوشگوار ہوا ہ۔

وا ہونا: کھل جانا۔

نخل: درخت (عموماً کھجور کا درخت)۔

Leave a Reply