سر میں سودا بھی نہیں، دل میں تمنا بھی نہیں

سر میں سودا بھی نہیں، دل میں تمنا بھی نہیں آج کی اس پوسٹ میں ہم فراق گورکھپوری کی ایک غزل ” سر میں سودا بھی نہیں ،دل میں تمنا بھی نہیں” کی لغت ، مفہوم اور تشریح کریں گے ۔ شعر نمبر 1 : سر میں سودا بھی نہیں، دل میں تمنا بھی نہیں

جواب شکوہ

جواب شکوہ از علامہ محمد اقبال جواب شکوہ ایک تاریخی نظم ہے ۔ جس میں مسلمانوں کے عروج و زوال کا تذکرہ ہے ۔ آج کی اس پوسٹ میں ہم علامہ اقبال کی اسی مشہور نظم۔ ” جواب شکوہ ” کے چند بند کی لغت ، اور مفہوم کے ساتھ تشریح کریں گے ۔ بند

جنھیں میں ڈھونڈتا تھا آسمانوں میں زمینوں میں

جنھیں میں ڈھونڈتا تھا آسمانوں میں زمینوں میں  آج کی اس پوسٹ میں ہم علامہ اقبال کی ایک غزل ” جنھیں میں ڈھونڈتا تھا آسمانوں میں زمینوں میں” کی لغت ، مفہوم اور تشریح کریں گے ۔ شعر نمبر 1 : جنھیں میں ڈھونڈتا تھا آسمانوں میں زمینوں میں وہ نکلے میرے ظلمت خانہ دل

مصیبت بھی راحت فزا ہو گئی ہے

مصیبت بھی راحت فزا ہو گئی ہے آج کی اس پوسٹ میں ہم مصیبت بھی راحت فزا ہو گئی غزل کی تشریح و توضیح کریں گے ۔ یہ رئیس المتغزلین حسرت موہانی کی مشہور غزل ہے ۔ شعر نمبر 1 : مصیبت بھی راحت فزا ہو گئی ہے تیری آرزو رہنما ہو گئی ہے حل

آئینہ اپنی نظر سے نہ جدا ہونے دو

آئینہ اپنی نظر سے نہ جدا ہونے دو آج کی اس پوسٹ میں ہم داغ دہلوی کی مشہور غزل  ” آئینہ اپنی نظر سے نہ جدا ہونے دو ” کی تشریح اور مشکلات الفاظ کے معانی کی وضاحت کریں گے ۔ شعر نمبر 1 : آئینہ اپنی نظر سے نہ جدا ہونے دو کوئی دم

یہ ہے میکدہ یہاں رند ہیں ، یہاں سب کا ساقی امام ہے جگر مرادآبادی

آج کی اس پوسٹ میں ہم جگر مراد آبادی کی مشہورِ زمانہ غزل ” یہ میکدہ یہاں رند ہیں یہاں سب کا ساقی امام ہے ،  جو کہ طنزیہ اور فلسفیانہ انداز میں لکھی گئی ہے ، پر تبصرے و توضیح کریں گے ۔ جگر مرادآبادی نے طنزیہ انداز میں سماجی اور مذہبی منافقت کو

پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے از میر تقی میر

آج کی اس پوسٹ میں ہم میر تقی میر کی مشہور غزل پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے جو کہ گیارہویں جماعت فیڈرل بورڈ کے نصاب میں شامل ہے ، کی تشریح بمع فرہنگ حل کرنے کی کوشش کریں گے ۔