سر میں سودا بھی نہیں، دل میں تمنا بھی نہیں
سر میں سودا بھی نہیں، دل میں تمنا بھی نہیں آج کی اس پوسٹ میں ہم فراق گورکھپوری کی ایک غزل ” سر میں سودا بھی نہیں ،دل میں تمنا بھی نہیں” کی لغت ، مفہوم اور تشریح کریں گے ۔ شعر نمبر 1 : سر میں سودا بھی نہیں، دل میں تمنا بھی نہیں