دلوں کے ساتھ جبینیں جو خم نہیں کرتے

دلوں کے ساتھ جبینیں جو خم نہیں کرتے

شعر نمبر 1 : 

دلوں کے ساتھ جبینیں جو خم نہیں کرتے

وہ پاس مدحت خیر الامم نہیں کرتے

تشریح : افتخار عارف اپنی نسل کے شعرا میں سنجیدہ ترین شاعر ہیں۔ وہ عام شعراء کی طرح تجربہ کے کسی جزوی اظہار پر قناعت نہیں کرتے بلکہ اپنا پورا تجربہ لکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ مختصر مگر گہرے معنی والے دو مصرعے انسان کی روحانی حضور اکرم علی صلی اللہ کے سامنے حقیقی ادب کی شرط کو واضح کرتے ہیں۔ شعر کی سطح پر بات “جبینیں خم نہ کرنا ” کی ہے مگر اس کے پچھے وہ باطن ہے جسے شاعر نمایاں کرنا چاہتا ہے ۔ ظاہری آداب سے زیادہ دل کا انکسار، خلوص، اور عاجزی مدحتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اصل معیار ہے۔ اس شعر میں شاعر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت و ادب کا حقیقی معیار بیان  کرتے ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ جو لوگ اپنے دل کی گہرائیوں کے ساتھ اپنی پیشانیاں بھی جھکا کر عاجزی و انکساری کا اظہار نہیں کرتے وہ دراصل حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدحت (تعریف) کے قریب نہیں ہو سکتے۔ شاعر کی مراد صرف ظاہری خمیدگی (جھکاؤ) نہیں بلکہ وہ دل کی نرم کی کیفیت کو دیکھتا ہے جو حق کی معرفت، ، تواضع  اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کھل کر اپنے غرور کو توڑ دے۔ جب کوئی انسان صرف دکھاوے کے لیے پیشانی جھکائے، مگر اس کے دل میں کوئی تاثر ، انکسار یا حقیقت عشق نہ ہو، تو وہ اصل ادب سے خالی ہوتا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ اگر دل کے ساتھ یعنی دل کی رضامندی، سچائی اور تجرید ( کے ساتھ یعنی دل کی رضامندی، سچائی اور تجرید (آزادی) کے ساتھ جبینیں نہیں  جھکتیں تو وہ محض ریت کا ڈھیر ہیں، جس میں روح نہیں اور دوسرے مصرعے میں شاعر کہتے ہیں کہ جو لوگ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سچی عزت اور دل سے محبت نہیں کرتے، وہ دراصل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی  بھی تعریف (مدحت) کا حق ادا نہیں کرتے۔ یہ لوگ صرف ظاہری طور پر ادب کرتے ہیں، لیکن دل میں عاجزی، عشق، اور احترام نہیں ہوتا۔ اس لیے ان کی مدحت صرف زبانی کلامی ہوتی ہے، سچی اور دل سے نہیں ہوتی۔ وہ دنیا کی سب سے عظیم ہستی حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی تعریف کا حق درست طریقے سے ادا نہیں کر پاتے۔

بقول شاعر:

وہ کمالِ حسن حضور ہے کہ گمانِ نقص جہاں نہیں

یہی پھول خار سے دور ہے، یہی شمع ہے کہ دھواں نہیں

شعر نمبر 2 :

 دعا بغیر ، اجازت بغیر، اذن بغیر

ہم ایک لفظ سپردِ قلم نہیں کرتے

 تشریح : افتخار عارف اردو ادب کے ممتاز شاعر، نثر نگار اور دانشور ہیں۔ آپ کی شاعری فکری گہرائی، تہذیبی شعور اور روحانی معنویت سے بھر پور ہوتی ہے۔ ان کی نعتیہ شاعری میں عشق رسول اللہ کا بے مثال رنگ جھلکتا ہے۔ ان کی شاعری نہ صرف پاکستان بلکہ عالم اسلام میں عزت و وقار کے ساتھ پڑھی جاتی ہے۔

نعت کا یہ شعر خالصتاً عقیدت، انکساری اور ادب کے جذبے سے سرشار ہے۔ شاعر نے یہاں تخلیق کے آداب اور روحانیت کی باریکیوں کو بیان کیا ہے۔ شعر کے پہلے مصرع میں شاعر کہتا ہے کہ وہ کسی بھی نعتیہ تحریر یا تخلیق کی ابتدا دعا، روحانی اجازت اور الٰہی اذن کے بغیر نہیں کرتا۔ اور “اذن” رب تعالیٰ کی جانب سے تخلیق کے لیے اندرونی اشارے یا الہام کی علامت ہے۔ گویا شاعر دنیاوی اور روحانی ہر سطح پر اجازت، تہذیب اور تواضع کا پابند ہے۔ یہ مصرع نعت نگاری میں موجود اس انتہائی لطیف اور ادب سے بھر پور شعور کی عکاسی کرتا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ کا ذکر مبارک اور ان کی نعت لکھنا یا بیان کرنا کسی عام تحریر یا تقریر کی طرح نہیں، بلکہ یہ ایک مقدس عمل ہے، جس کے لیے اذن خداوندی، قلبی اخلاص، روحانی اجازت، اور دعائے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم درکار ہوتی ہے۔ شاعر  شاعر نعت گوئی سے قبل جو روحانی شرائط بیان کر رہا ہے، وہ دراصل عاشق رسول کی عاجزی اور احتیاط کا مظہر ہیں۔  یعنی ہم بھی بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر اپنی طرف سے، خود ساختہ یا بغیر ادب و احترام کے نہیں کر سکتے۔ ہر لفظ  جو حضور صلی اللہ حضور صلی اللہ کے حضور پیش کیا جائے، وہ اذن رب، دعا، اور قلبی اجازت کے بعد ہی قابل قبول ہوتا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کا مقام  اتنا بلند ہے کہ ربِ کریم خود قرآن میں آپ کی شان بیان کرتا ہے۔ تو جب خالق خود آپ کی مدح سرائی کرے تو کوئی بشر کوئی شاعر، کوئی زبان  کیسے بغیر اجازت اور بغیر اذن خاص آپ صلی اللہ کا ذکر کرے؟  اسی لیے شاعر نہایت ادب سے یہ کہتا ہے کہ جب تک دل میں خشیت، زبان پر ادب، اور دل سے دعا حاصل نہ ہو، ہم حضور نبی کریم کا ذکر نہیں کرتے کیونکہ یہ ذکر عاشقوں کا عبادت خانہ اور الفاظ کا حج ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ لکھنا صرف فن نہیں بلکہ ذمہ داری، ادب، امانت اور بندگی بھی ہے۔ شاعر لفظ کو مقدس امانت سمجھ کر لکھتا ہے، اور ادب کے اصولوں اور روحانی معیار کو پیش نظر رکھتا ہے۔ اس شعر میں شاعر اپنی روحانی احتیاط اور اخلاقی سنجیدگی کو ظاہر کر رہے ہیں کہ جب تک دعا، اجازت اور نبی ﷺ کی بارگاہ سے اذن حاصل نہ ہو، ہم قلم کو جنبش بھی نہیں دیتے۔ نعت کا ہر لفظ سوچا سمجھا، چنا ہوا، اور ادب میں ڈوبا ہوا ہونا چاہیے۔ دوسرا مصرع شاعر کی خوف خدا، عشق مصطفی  اور ادب رسالت کی گہری کیفیت کو ظاہر کرتا ہے۔ نعت میں بے باکی یا غیر ذمہ دار زبان قابل قبول نہیں۔

بقول شاعر :

جب نعت نبی میں لکھتا ہوں، اشعار سے خو خوشبو آتی ہے

اور ذکر نبی جب کرتا ہوں، گفتار سے خوشبو آتی ہے

شعر نمبر 3 :

 کتاب حق نے جنہیں مصطفے قرار دیا

جزا کے اور کئی ذکر ہم نہیں کرتے

تشریح : افتخار عارف اردو ادب کے ممتاز شاعر اور نثر نگار ہیں۔ ان کی شاعری میں تہذیبی شعور، مذہبی لگن، اور قومی شناخت نمایاں طور پر جھلکتی ہے۔ وہ نہ صرف نعتیہ شاعری کے ساتھ ساتھ فکری اور قومی موضوعات پر بھی گہری گرفت رکھتے ہیں۔ ان کا اسلوب سادہ مگر پُر اثر، اور جذبات سے بھر پور ہوتا ہے۔

پہلے مصرعے میں شاعر قرآن مجید (کتاب حق) کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ “کتاب حق” سے مراد اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ آخری اور سچی کتاب قرآن ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جس ہستی کو خود قرآن نے “مصطفی ” یعنی چنا ہوا، منتخب شده، برگزیدہ کہا ہے، ان کا مقام و مرتبہ کسی انسان ! کے بیان سے بالا تر ہے۔ مصطفی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک لقب ہے، جس کا مطلب ہے چنیدہ، منتخب کردہ”۔ اس لقب سے نبی پاک اللہ کی عظمت اور اللہ کے ہاں ان کے اعلیٰ مقام کی تصدیق ہوتی ہے۔ گویا شاعر یہ کہنا ہنا چاہتا ہے کہ جب خود اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کو منتخب فرمایا، تو ہمیں بھی ان ہی کی پیروی کرنی چاہیے اور ان ہی کو  سرفراز جاننا چاہیے۔ آپ انسانیت کے لیے اللہ کے آخری نبی، رحمت اللعالمین اور تمام صفات کے اعلیٰ مظہر ہیں۔ قرآن نے نبی پاک اللہ کو رحمت للعالمین”، “خاتم النبیین”، “سراج منیر” اور دیگر القابات سے نوازا ہے، جو ان  کے اعلیٰ ترین روحانی مقام کو ظاہر کرتے ہیں۔ گویا شاعر یہ کہنا چاہتا ہے کہ خود اللہ کی کتاب نے آپ کی عظمت کی گواہی دی ہے، اور اللہ کے منتخب

کی کتاب نے آپ کی عظمت کی گواہی دی ہے، اور اللہ کے منتخب کردہ پیغمبر کی فضیلت کو دنیا پر واضح کیا ہے ۔

 شعر کے دوسرے مصرعے میں شاعر انتہائی ادب اور عقیدت سے نعتیہ شاعری کا اصول بیان کرتا ہے کہ ہم صرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہی ذکر کرتے ہیں، اور کسی اور کو اس مقام و مرتبے میں شریک نہیں کرتے۔ شاعر کے نزدیک جب قرآن خود نبی کریم  کی عظمت کا اعلان کر چکا ہے، تو پھر مدحت (تعریف) صرف انہی کی ہونی چاہیے۔ ان کے علاوہ کسی اور کی نعت،  یا تعریف کرنا، ان کے مرتبے کے برابر کسی کو لانا، نعتیہ ادب کے تقدس کو مجروح کرتا ہے۔ یہ دوسرا مصرع واضح کرتا ہے کہ  شاعر کی نعت نگاری کا محور اور مرکز صرف  اور صرف حضور اکرم  کی ذات ہے۔ اس شعر میں ایک نفی کا انداز بھی . یعنی نبی ﷺ  کے سوا کسی اور کو نعت کا موضوع بنانا  مناسب نہیں۔ شاعر کا نظریہ ہے کہ نعت رسول میں اخلاص، توجہ، اور ادب صرف حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف ہونا چاہیے۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ذکر باقی تمام ذکر سے اول و اعلیٰ ہے۔

بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر

(مفہوم: اللہ کے بعد اگر کوئی سب سے عظیم ہے تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات ہیں، بات ختم !)

بقول شاعر :

ہر ابتدا سے پہلے ہر انتہا کے بعد

ذاتِ نبی (ص) بلند ہے ذات خدا کے بعد

 

دنیا میں احترام کے قابل ہیں جتنے لوگ

میں سب کو مانتا ہوں مگر مصطفی (ص) کے بعد

شعر نمبر 4 :

کریم ایسے کہ انعام کرتے جاتے ہیں

جواد ایسے کہ نعمت کو کم نہیں کرتے

تشریح : افتخار عارف اردو ادب کے ایک معتبر، فکری اور روحانی شاعر ہیں جن کی شاعری میں کلاسیکی اقدار اور جدید اسلوب کا حسین امتزاج ملتا ہے۔ ان کی نعتیہ شاعری خصوصاً نہایت مؤدبانہ، پرخلوص اور فکری گہرائی لیے ہوتی ہے۔ ان کے اشعار میں عشق مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ساتھ ادب و حیا کی انتہائی بلندی نظر آتی ہے۔

تشریح طلب شعر میں شاعر نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی دو صفات کریم اور جواد کو بیان کیا ہے۔ لفظ “کریم” کے لغوی معنی ہیں انتہائی مہربان، سخی ، عزت وجود و عطا کا مالک۔ اس شعر میں “کریم ” کا لقب تاجدار مدینہ، حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس کے لیے استعمال ہوا ہے، جو کہ ساری کائنات کے لیے سراپا رحمت بن کر تشریف لائے۔

 شاعر کہتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و وسلم کی شان کریمی ایسی ہے کہ وہ مسلسل انعامات، عنایات، نوازشات اور عطاؤں سے اپنے امتیوں کو نوازتے چلے جاتے ہیں۔ ان کی بخشش و عطا کا کوئی اختتام نہیں۔ جو کوئی ان کے در پر آیا ، وہ خالی ہاتھ واپس نہیں گیا۔ پہلا مصرع میں اس بات کا بیان ہے کہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت میں سخاوت  مسلسل ہے۔ بغیر تھکن، بغیر حد، بغیر روک کے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے :

” و ما أرسلناك إلا رحمة للعالمين “

اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا)

شاعر کہتے ہیں کہ “جواد” بھی ایک بہت بلند صفت ہے جس کا مطلب ہوتا  ہے بے حد فیاض، سخی، عطا کرنے والا۔ شعر کے دوسرے مصرعے میں شاعر فرماتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی فیاضی کی شان یہ ہے کہ جتنی نعمتیں وہ تقسیم کرتے ہیں، ان نعمتوں میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی۔ یہ انسانی عقل سے ماورا ایک خاص الٰہی عطا ہے کہ عطا بھی ہو رہی ہے اور خزانہ ویسے کا ویسا ہے۔ یہ وہ مقامِ فیاضی ہے جو صرف اللہ کے محبوب بندوں اور خاص طور پر رحمت للعالمین کو عطا ہوتا ہے۔ مانگنے والوں کی کمی نہیں، لیکن عطا کرنے والے کے خزانے کبھی کم نہیں ہوتے۔ دوسرا مصرع ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عطا “فیضان دائمی ” ہے۔ جو قیامت تک جاری رہے گا۔ یہ شعر سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم کی صفاتِ کریمی اور جوادی کی ایسی حسین تصویر پیش کرتا ہے، جو ہر عاشق رسول کے دل کو سرشار کر دیتی ہے۔ ان سے یہ پیغام ملتا ہے کہ جو بھی ان کے در پر خلوص سے حاضر ہوتا ہے، خالی نہیں لوٹتا۔ وہ اپنے امتیوں کو دنیا و آخرت دونوں کی نعمتیں عطا کرتے ہیں۔

بقول شاعر :

سب کچھ ہے تیرے در کی گدائی میں یا رسول “

 “دنیا بھی، آخرت بھی، خدائی میں یا رسول

شعر نمبر 5 :

جو ان کے جادۂ رحمت سے منحرف ہو جائیں

زمانے ان کو کبھی محترم نہیں کرتے جاتے

تشریح: افتخار عارف کا شمار ان شعرا میں ہوتا ہے جنہوں نے اردو شاعری کو عقیدت ، دانش، اور تہذیب کا گہرا شعور عطا کیا۔

اُن کی زبان سلیس مگر پر اثر ہوتی ہے، جس میں کلاسیکی اسلوب اور جدید فہم کا خوبصورت امتزاج پایا جاتا ہے۔ ان کی نعتیہ شاعری میں عقیدت مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہایت سادگی مگر عظمت سے بھری ہوئی ہوئی ہوتی ہے۔ شعر کے پہلے مصرعے میں شاعر کہتے ہیں کہ دنیا و آخرت کی کامیابی حضرت محمد صلی اللہ اللہ علیہ والہ وسلم کی راہ پر چلنے میں ہے ۔  اللہ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو رحمت اللعالمین یعنی تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔

 جادہ رحمت ”  سے مراد ہے نبی کریم کا دکھایا ہوا راستہ جو قرآن، سنت، اخلاق، سیرت، اور دین اسلام کے اصولوں پر مشتمل ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ جو لوگ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات اخلاق، اور ہدایت کے راستے سے منہ موڑ لیتے ہیں، یعنی جو اُن کی سیرت اور سنت کو چھوڑ دیتے ہیں، وہ دراصل رحمت کے راستے سے ہٹ جاتے ہیں۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے انسانیت کو سیدھا اور پر نور راستہ دکھایا۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی دی گئی تعلیمات قرآن اور سنت کی شکل میں موجود ہیں۔ شاعر پہلے مصرعے میں تنبیہ کر رہے ہیں کہ جو افراد، قومیں یا معاشرے نبی کریم  کی تعلیمات کو پس پشت ڈال دیتے ہیں، وہ گویا خود رحمت کے سائے سے باہر نکل آتے ہیں۔ اس شعر کے دوسرے مصرعے میں شاعر کہتے ہیں کہ جو لوگ رسول رحمت صل الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے راستے کو چھوڑ دیتے ہیں، اُنہیں نہ صرف آخرت میں خسارے کا سامنا ہو گا بلکہ دنیا بھی اُنہیں عزت، مقام اور وقار عطا نہیں کرتی۔ ایسے لوگ یا قومیں اپنی پہچان کھو بیٹھتی ہیں ۔ اخلاقی زوال کا شکار ہوتی ہیں ۔ ذلت، رسوائی، اور پستی کی طرف گرتی ہیں۔ شاعر کہتے ہیں کہ اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ عزت، ترقی اور مقام صرف دنیاوی وسائل یا طاقت سے آتا ہے، مگر شاعر اسے سنت رسول اللہ سے وابستگی کے ساتھ مشروط کر رہےہیں۔ نبی کریم ﷺ کی تعلیمات سے دوری  صرف روحانی نہیں بلکہ عملی تباہی کا بھی سبب بنتی ہے۔

 دراصل شاعر کا کہنا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سنت پر عمل نہ کرنے والے لوگ دنیا کی نظر میں قابلِ عزت نہیں رہتے، چاہے ان کے پاس دنیاوی طاقت، مال یا شہرت ہی کیوں نہ ہو۔ عزت اور مقام صرف انہی کو ملتا ہے جو نبی علیہ السلام کی سیرت پر چلتے ہیں، ان کے نقش قدم پر قدم رکھتے ہیں۔ تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ جن قوموں نے دین محمدی  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنایا وہ ترقی و عزت کے مقام پر پہنچیں؛ اور جو بھٹک گئیں، وہ ذلیل ہوئیں۔

بقول شاعر:

محمد کی محبت دین حق کی شرط اول ہے

 اسی میں ہے اگر خامی تو سب کچھ نامکمل ہے

دراصل شاعر کا کہنا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سنت پر عمل نہ کرنے والے لوگ دنیا کی نظر میں قابلِ عزت نہیں ۔

شعر نمبر 6 : 

میسر آتی ہے جن کو درود کی توفیق

کسی بھی حال میں ہوں کوئی غم نہیں کرتے

تشریح: افتخار عارف اردو ادب کے ممتاز معاصر شعرا میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی شاعری میں دینی جذ بہ ، فکری گہرائی اور تہذیبی شعور کی جھلک نمایاں ہے۔ وہ اپنی تخلیقات میں نہ صرف زبان کی شستگی اور شائستگی کا خیال رکھتے ہیں بلکہ اپنے کلام کو قرآن و سنت کی روشنی سے مزین کرتے ہیں۔ ان کی شاعری کا بنیادی وصف ایمان افروز موضوعات، عشق رسول علی کی والہانہ  کیفیت اور تہذیبی ورثے سے گہرا تعلق ہے۔ اس شعر میں افتخار عارف نے درود پاک کی روحانی تاثیر اور اس کے لامحدود سکون کو نہایت مؤثر انداز میں بیان کیا ہے۔ شاعر کے نزدیک وہ لوگ خوش نصیب ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ کی خاص عنایت سے نبی کریم پر درود و سلام بھیجنے کی توفیق حاصل ہوتی ہے ۔ یہ سعادت ان کے لیے نہ صرف باعث ثواب ہے بلکہ زندگی کے ہر موڑ پر  ان کے لیے ایک ڈھال اور سہارا بھی ہے۔ شاعر واضح کرتے ہیں کہ درود پاک پڑھنے والے، چاہے کتنے ہی مصائب، تکالیف،  مشکل یا غمگین حالت میں ہوں، دل کے اعتبار سے سکون و اطمینان رکھتے ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ درود پاک اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کو اپنی طرف کھینچنے کا وسیلہ ہے  اور جب بندہ اس عمل میں مصروف ہوتا ہے تو گویا وہ اپنے آپ کو اللہ  کے قرب اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ کی محبت کے حصار میں لے آتا ہے۔ ایسے میں دنیاوی پریشانیاں ان پر اثر انداز نہیں ہوتیں، کیونکہ انکے دل اللہ کی یاد اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت سے بھرے ہوتے ہیں۔ درودِ پاک وہ مقدس ذریعہ ہے جو اللہ کی رحمتوں اور نبی صلے اللہ کی برکت کو  مومن کے دل میں جذب کرتا ہے، اور اسے غم کے اندھیروں سے محفوظ رکھتا ہے۔

قرآن مجید میں ارشاد ہے:

إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ

ترجمہ : بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی ﷺ پر درود بھیجتے ہیں، ہیں، اے ایمان والو !؟ والو! تم بھی ان پر درود بھیجو اور خوب” سلام بھیجو” (سورۃ الاحزاب: 56)۔

اللہ کی جانب سے نبی اللہ ﷺ  پر درود بھیجنا  دراصل ان پر رحمت نازل کرنا  اور فرشتوں کی جانب سے سے دعا و ثنا  ہے  جس کا مقصد بندوں کو ہدایت و تحفظ سے نوازنا ہے۔ شاعر اس عمل کو بطور روحانی شفا اور قلبی تسکین پیش کرتا ہے ۔ درود پڑھنے والا ایک مستحکم روحانی مرکز بن جاتا ہے جس سے دنیا کے غموں کا تار تار ہونا ممکن ہے۔ یہ کیفیت صرف کلام سے بیان نہیں ہوتی  بلکہ مومن کا خود کا ایماناً  تجربہ ہے۔  خوشی، غم، آزمائش یا راحت، ہر حالت میں سکون کی کیفیت قائم رہتی ہے۔ یہ سکون ایک ایمانی تجربہ ہے جو صرف وہی محسوس کر سکتا ہے جسے درودشریف کی حقیقی لذت نصیب ہو۔ شاعر کا کہنا یہ ہے کہ درود پاک محض ایک عبادت نہیں بلکہ یہ مومن کے دل کو دنیاوی غموں سے آزاد کر کے اسے رب کی رحمت اور  نبی کی محبت  سر شار کر دیتا ہے، اور یہی کیفیت حقیقی اطمینان قلب کی بنیاد ہے۔

بقول شاعر:

صل علی درود جو سرکار پر پڑھا

سب مرحلے حیات کے آسان ہو گئے”

شعر نمبر 7 :

 نظر میں طائف و مکہ رہیں تو ان کے غلام

جواب میں بھی ستم کے ستم نہیں کرتے

تشریح : افتخار عارف عہد موجود کے سنجیدہ اور معتبر ترین شاعروں میں شمار ہوتے ہیں، جنہوں نے اپنی شہری تخلیقات میں نہ صرف فنی پختگی اور ترفع کا اظہار کیا ہے بلکہ کلام میں نغمگی، نئے استعاروں کی تلاش اور اظہار میں انفرادیت کو بھی اپنی شاعری کا حصہ بنایا ہے۔ افتخار عارف کی شاعری کا مزاج اور ماحول، حسی تجربے اور ان تجربوں کے اظہار کا پیرایہ، دوسروں سے مختلف اور دور عصر سے پوری طرح ہم آہنگ ہے۔ ان کے کلام کی یہی خوبی انہیں جدید اردو شاعری کی توانا ترین آوازوں میں شامل کرتی ہے ۔

تشریح طلب شعر کے پہلے مصرعے میں شاعر طائف اور مکہ کے تاریخی واقعات کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ طائف وہ مقام ہے جہاں اہل طائف نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پتھروں سے زخمی کیا، جب نبی کریم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم دین کی تبلیغ کے لیے وہاں گئے ، مگر اہلِ  طائف نے نہ صرف دعوت کو رد کیا بلکہ بچوں کو اکسا کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پتھر برسائے، حتیٰ کہ آپ کے جوتے خون سے بھر گئے اور مکہ وہ شہر ہے جہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تیرہ سال تک کفار کے ظلم و ستم کا سامنا رہا۔ اور تیرہ سال تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر طرح طرح کے مظالم ڈھائے گئے، بائیکاٹ ، طعنے اور جسمانی اذیتیں برداشت کرنی پڑیں۔ شاعر کہتا ہے کہ اگر ان واقعات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے تو دل میں نبی کریم  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے عقیدت اور وفا مزید بڑھتی ہے، اور انسان خود کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کا غلام یعنی خاص پیروکار سمجھتا ہے۔ یہ غلامی وہ غلامی ہے جو محبت، اطاعت اور قربانی کا جذ بہ ظاہر کرتی ہے۔ شاعر کا مطلب ہے کہ آپ ﷺ کی سیرت اور صبر کو  یاد رکھنے والا شخص ان کا سچا پیروکار ہوتا ہے۔

دوسرا مصرع پہلی سطر کا عملی نتیجہ بیان کرتاہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طائف اور مکہ میں جو ظلم برداشت کیے، ان کا بدلہ کبھی ظلم سے نہیں لیا۔ مکہ کی فتح کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دشمنوں کو معاف کر دیا، حالانکہ وہ آپ کو سخت اذیت دیتے تھے۔ شاعر سنت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی اصل روح کو بیان کرتا ہے۔ آپ نے ظلم کا جواب کبھی ظلم سے نہیں دیا۔ مکہ کی فتح کے موقع پر جب آپ کو اپنے بدترین دشمنوں پر اختیار حاصل تھا، تو آپ نے فرمایا

جاؤ، آج تم پر کوئی مواخذہ نہیں، تم سب آزاد ہو”۔”

شاعر بتاتا ہے  کہ جو لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غلام ہیں اور آپ کی سنت کو یاد رکھتے ہیں، وہ بھی ظلم کے بدلے ظلم نہیں کرتے، بلکہ صبر، درگزر اور رحم کا راستہ اپناتے ہیں۔ یہ وہ عظیم ظرف اور عفو کا مظاہرہ تھا جس نے تاریخ میں انقلاب برپا کر دیا۔ شاعر کہتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حقیقی غلام یہی طرز عمل اپناتے ہیں، یعنی بدلے میں بدلہ نہیں لیتے، بلکہ عفو و درگزر سے کام لیتے ہیں۔

بقول شاعر:

“اب طرزِ زندگی تو ذرا سا بدل کے دیکھ

تُو سنتِ رسول کے سانچے میں ڈھل کے دیکھ

Leave a Reply