نظم: مجھ سے مت کر یار کچھ گفتار، میں روزے سے ہوں
شاعر: سید ضمیر جعفری
شعر نمبر 1 :
مجھ سے مت کر یار کچھ گفتار، میں روزے سے ہوں
ہو نہ جائے تجھ سے بھی تکرار، میں روزے سے ہوں
تشریح:
اس شعر میں سید ضمیر جعفری، جو کہ اردو کے ایک مانے ہوئے مزاح نگار شاعر ہیں، نے ہمارے معاشرے میں روزہ داروں کے عام رویے کی عکاسی کی ہے۔ شاعر یہاں طنزیہ انداز میں اپنے دوست سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ “مجھ سے اس وقت بات مت کرو کیونکہ میں روزے کی حالت میں ہوں”۔ یہ شعر دراصل اس نفسیاتی کیفیت کا اظہار ہے جہاں کچھ لوگ روزے کو اپنی بدتمیزی اور چڑچڑے پن کا جواز بنا لیتے ہیں۔ شاعر کہتے ہیں کہ روزے کی وجہ سے میری طبیعت میں برداشت ختم ہو چکی ہے اور میرا مزاج اتنا ناساز ہے کہ اگر تم نے مجھ سے بات کی تو ہو سکتا ہے کہ بات معمولی گفت و شنید سے بڑھ کر جھگڑے اور تکرار تک پہنچ جائے۔
شاعر یہ طنز کہہ رہے ہیں کہ روزے کا اصل مقصد تو تقویٰ، صبر، نرمی اور خوش اخلاقی پیدا کرنا تھا، لیکن ہم نے اسے بھوک ہڑتال سمجھ لیا ہے جس کی وجہ سے ہم دوسروں پر غصہ نکالنا اپنا حق سمجھتے ہیں۔ روزہ رکھ کر انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی زبان اور جذبات پر قابو رکھے، مگر یہاں الٹ ہو رہا ہے کہ شاعر سماجی رابطے منقطع کر رہا ہے تاکہ لڑائی نہ ہو۔ یہ رویہ ظاہر کرتا ہے کہ ظاہری دینداری تو بڑھ رہی ہے مگر باطنی اخلاقی تربیت کمزور پڑ چکی ہے۔ اس طرح یہ شعر روزے کے دوران ہمارے سماجی رویوں کی اصلاح کا ایک سبق ہے۔
شعر نمبر 2 :
ہر کسی سے کرب کا اظہار، میں روزے سے ہوں
دے کسی اخبار کو یہ تار، میں روزے سے ہوں
تشریح:
اس شعر میں شاعر نے ان لوگوں کو ہدفِ تنقید بنایا ہے جو روزہ رکھ کر اس کی تشہیر کرنا ضروری سمجھتے ہیں اور اسے ایک احسان کے طور پر جتاتے ہیں۔ شاعر طنز کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کچھ لوگ روزے کی حالت میں ہر ملنے والے شخص کے سامنے اپنی تکلیف، بھوک، پیاس اور نقاہت کا رونا روتے ہیں۔ “کرب کا اظہار” سے مراد یہی ہے کہ وہ اپنی شکل و صورت اور باتوں سے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ روزہ رکھ کر بہت بڑی مشقت اٹھا رہے ہیں، تاکہ لوگ ان سے ہمدردی کریں اور انہیں خصوصی رعایت دیں۔
دوسرے مصرعے میں “اخبار کو تار دینا” ایک انتہائی خوبصورت طنزیہ جملہ ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ تمہارا بس نہیں چلتا ورنہ تم اخبار میں خبر لگوا دو یا اشتہار دے دو کہ “میں نے آج روزہ رکھا ہوا ہے” تاکہ پوری دنیا کو معلوم ہو جائے۔ یہ رویہ عبادت کی روح، یعنی “اخلاص” کے منافی ہے۔ روزہ اللہ اور بندے کے درمیان ایک راز ہوتا ہے، لیکن یہاں اسے نمائش اور دکھاوے کا ذریعہ بنا لیا گیا ہے۔ شاعر یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ عبادت میں ریاکاری شامل ہو جائے تو وہ اپنا اثر کھو دیتی ہے۔ عمل سے بڑھ کر نہیں کوئی نشانِ انسانیت، لبِ خاموش دلِ نرم یہی ہے اصل عبادت”۔ لہٰذا یہ شعر ان لوگوں کی عکاسی کرتا ہے جو روزے کو صبر کی بجائے شکایت اور اشتہار بنا لیتے ہیں۔
شعر نمبر 3 :
میرا روزہ ایک بڑا احسان ہے لوگوں کے سر
مجھ کو ڈالو موتیے کے ہار، میں روزے سے ہوں
تشریح:
یہ شعر ہمارے معاشرتی رویوں پر گہری چوٹ ہے۔ شاعر ان لوگوں کا ذکر کر رہے ہیں جو روزہ رکھ کر یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے دوسروں پر یا شاید معاشرے پر کوئی بہت بڑا احسان کر دیا ہے۔ ایسے لوگ اپنے گھر والوں، دوستوں اور ماتحتوں سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ چونکہ وہ روزے سے ہیں، اس لیے ان کی ہر ناز برداری کی جائے اور انہیں سر آنکھوں پر بٹھایا جائے۔ شاعر کہتے ہیں کہ ان کا رویہ ایسا ہوتا ہے گویا وہ کہہ رہے ہوں کہ “میں نے روزہ رکھا ہے، اب آؤ اور میری پوجا کرو، میرے گلے میں موتیوں کے ہار ڈالو اور میری تعظیم کرو”۔
“موتیوں کے ہار” کی فرمائش یہاں مبالغہ آرائی ہے جو طنز کی شدت کو بڑھاتی ہے۔ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ ان کی عبادت کی وجہ سے انہیں دنیاوی پروٹوکول اور وی آئی پی عزت ملے، حالانکہ روزے کا مقصد عاجزی اور انکساری ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ یہ “خود پسندی” اور “تکبر” کی انتہا ہے کہ انسان اللہ کے لیے کی گئی عبادت کا صلہ بندوں سے عزت کی صورت میں مانگے۔ شاعر یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ روزہ دوسروں کو مرعوب کرنے کے لیے نہیں بلکہ اپنی روحانی پاکیزگی کے لیے ہے۔ ایسا رویہ درحقیقت عبادت کی توہین ہے کیونکہ یہ ریاکاری اور دکھاوے کے زمرے میں آتا ہے۔
شعر نمبر 4 :
میں نے ہر فائل کی دمچی پر یہ مصرع لکھ دیا
کام ہو سکتا نہیں سرکار، میں روزے سے ہوں
تشریح :
یہ شعر سرکاری دفاتر کے ماحول اور ملازمین کی کام چوری کی بہترین عکاسی کرتا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ میں نے دفتری فائلوں کی “دمچی” (یعنی وہ کونا یا پشت جہاں نوٹ لکھے جاتے ہیں) پر یہ جملہ لکھ دیا ہے کہ “سرکار! یہ کام نہیں ہو سکتا کیونکہ میں روزے سے ہوں”۔ یہاں طنز یہ ہے کہ ہمارے ہاں رمضان المبارک کو کام نہ کرنے اور سستی کا مہینہ بنا لیا جاتا ہے۔ سرکاری ملازمین اور ذمہ دار لوگ روزے کو بہانہ بنا کر اپنے فرائض سے غفلت برتتے ہیں۔
شاعر بتانا چاہتے ہیں کہ روزے کا مقصد تو انسان کو زیادہ فعال، باہمت اور ذمہ دار بنانا تھا، لیکن افسوس کہ ہم نے اسے کاہلی اور کام چوری کا جواز بنا لیا ہے۔ عوام اپنے مسائل لے کر دفتروں کے چکر کاٹتے ہیں لیکن انہیں یہ کہہ کر ٹال دیا جاتا ہے کہ “صاحب روزے سے ہیں، ابھی کام نہیں کر سکتے”۔ فائلیں التواء کا شکار ہو جاتی ہیں اور نظامِ زندگی مفلوج ہو کر رہ جاتا ہے۔ تن آسانی نہیں جاتی، ریاکاری نہیں جاتی، میاں برسوں میں یہ صدیوں کی بیماری نہیں جاتی”۔ شاعر کا پیغام یہ ہے کہ اگر عبادت ہمیں فرض شناسی نہیں سکھاتی اور ہم اسے اپنی کوتاہیوں کا پردہ بناتے ہیں، تو ایسی عبادت اپنی روح کھو بیٹھتی ہے۔
شعر نمبر 5 :
اے میری بیوی میرے راستے سے کچھ کترا کے چل
اے میرے بچو ذرا ہوشیار، میں روزے سے ہوں
تشریح :
اس شعر میں شاعر نے روزے دار کی گھریلو زندگی اور اس کے گھر والوں پر ڈالے جانے والے رعب کو مزاحیہ انداز میں پیش کیا ہے۔ شاعر اپنی بیوی کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ “میرے راستے سے ہٹ کر چلو” یا مجھ سے ذرا فاصلہ رکھو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ روزے کی حالت میں بھوک اور پیاس کی شدت سے شاعر کا مزاج اتنا چڑچڑا ہو چکا ہے کہ وہ ذرا سی بات پر بھی بھڑک سکتا ہے۔ وہ اپنی بیوی کو پہلے ہی “وارننگ” دے رہے ہیں کہ اگر تم نے کوئی فضول بات کی یا شکایت لگائی تو میری برداشت جواب دے جائے گی۔
دوسرے مصرعے میں وہ اپنے بچوں کو مخاطب کر کے کہتے ہیں کہ “ہوشیار رہو، میں روزے سے ہوں”۔ بچوں کی فطرت شرارت اور شور مچانا ہے، لیکن روزے دار باپ چاہتا ہے کہ گھر میں مکمل خاموشی ہو اور کوئی اس کے آرام میں خلل نہ ڈالے۔ شاعر یہاں طنز کر رہے ہیں کہ ہم اپنی بدنی کیفیت اور غصے کا ذمہ دار روزے کو ٹھہراتے ہیں اور گھر والوں پر بلاوجہ سختی کرتے ہیں۔ حالانکہ روزے میں تو انسان کو زیادہ شفیق اور نرم ہونا چاہیے۔ روزے نے مزاج ایسا بنایا ہے میرا، بیوی بھی ڈرتی ہے سلام کرنے سے ذرا ۔ یہ شعر بتاتا ہے کہ ہم نے روزے کو خوف اور دباؤ کی علامت بنا دیا ہے۔
شعر نمبر 6 :
شام کو بہرِ زیارت آ تو سکتا ہوں مگر
نوٹ کر لیں دوست رشتہ دار، میں روزے سے ہوں
تشریح :
اس شعر میں شاعر نے سماجی میل جول اور افطاری کے وقت کی صورتحال کو موضوع بنایا ہے۔ شاعر اپنے دوستوں اور رشتہ داروں سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ میں شام کو (افطاری کے وقت) تم سے ملنے تو آ سکتا ہوں، لیکن یہ بات پہلے ہی “نوٹ” کر لو کہ میں روزے سے ہوں۔ یہاں لفظ “زیارت” کا استعمال بہت معنی خیز اور طنزیہ ہے۔ “زیارت” کا لفظ عام طور پر مقدس مقامات یا ہستیوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ شاعر نے اپنی ذات کے لیے یہ لفظ استعمال کر کے اس بات پر طنز کیا ہے کہ روزہ رکھ کر وہ خود کو کوئی بہت مقدس اور پہنچا ہوا بزرگ سمجھنے لگے ہیں جس کا دیدار بھی ایک نعمت ہے۔
دوسری اہم بات یہ ہے کہ وہ یہ “پیشگی اطلاع” دے رہے ہیں کہ چونکہ میں روزے سے ہوں، اس لیے اگر ملاقات کے دوران میری پیشانی پر شکن ہو، میں کم بولوں، یا میرا رویہ روکھا ہو تو برا مت ماننا۔ یہ دراصل اپنی بد اخلاقی کا پیشگی جواز (Excuse) ہے۔ اس کے علاوہ، شام کو آنے کا ذکر یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ وہ افطاری کی دعوت اڑانے کے بھی شوقین ہیں، مگر ساتھ ہی اپنے روزے کا رعب بھی جمانا چاہتے ہیں۔ یہ رویہ ظاہر کرتا ہے کہ ہم عبادت کو اپنی کمزوریوں کو چھپانے کے لیے ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
شعر نمبر 7 :
تو یہ کہتا ہے لحن تر ہو کوئی تازہ غزل
میں یہ کہتا ہوں کہ برخوردار، میں روزے سے ہوں
تشریح :
نظم کے اس آخری شعر میں شاعر نے اپنی “تخلیقی سستی” کو بھی روزے کے کھاتے میں ڈال دیا ہے۔ شاعر کا کوئی عقیدت مند یا سامع ان سے فرمائش کرتا ہے کہ “لحنِ تر” (یعنی خوبصورت اور سریلی آواز) میں کوئی “تازہ غزل” سنائیں۔ معاشرے میں شاعروں سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ ہر وقت کچھ نیا اور دلچسپ تخلیق کریں۔ لیکن شاعر اس فرمائش کے جواب میں بڑے پیار سے، مگر طنزیہ انداز میں کہتے ہیں: “بیٹا (برخوردار)! میں روزے سے ہوں”۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ روزے کی وجہ سے میرا دماغ خالی ہے، پیٹ میں بھوک ہے اور ہونٹ سوکھے ہوئے ہیں، اس لیے مجھ میں اتنی توانائی اور تخلیقی صلاحیت نہیں بچی کہ میں تمہیں کوئی نئی غزل سنا سکوں۔ شاعر نے یہاں مزاحیہ انداز میں یہ بتایا ہے کہ لوگ روزے کو اپنی پیشہ ورانہ اور ادبی سرگرمیوں سے جان چھڑانے کا بہانہ بنا لیتے ہیں۔ وہ یہ تاثر دیتے ہیں کہ روزہ رکھ کر انسان کسی کام کا نہیں رہتا، حالانکہ تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں نے روزے کی حالت میں بڑی بڑی جنگیں جیتیں اور عظیم کارنامے سر انجام دیے۔ آخر میں ایک فکر انگیز حوالہ دیا گیا
“عبادت بھی ایک رسم فقط رہ گئی ہے، نہ دل میں وہ گرمی نہ تاثیر باقی رہی ہے”۔
اس طرح یہ نظم ہنسی مذاق میں ہمیں اپنے رویوں کا احتساب کرنے کی دعوت دیتی ہے۔