ہونٹوں پہ کبھی ان کے مرا نام ہی آئے

ادا جعفری (22 اگست 1924ء – 12 مارچ 2015ء) اردو کی پہلی صاحبِ دیوان شاعرہ، جنہیں “خاتونِ اول” کہا جاتا ہے، بدایوں میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے 12 برس کی عمر میں شاعری شروع کی، نسائی حسیت اور جدتِ لہجہ ان کی پہچان تھی۔ ان کے شعری مجموعوں میں “میں ساز ڈھونڈتی رہی” نمایاں ہے، جبکہ خودنوشت “جو رہی سو بے خبری رہی” کے نام سے شائع ہوئی۔
ادا جعفری کے حالاتِ زندگی کے اہم پہلو:
ابتدائی زندگی اور تعلیم: ان کا اصل نام “عزیز جہاں” تھا اور وہ 22 اگست 1924ء کو بھارت کے شہر بدایوں میں ایک پڑھے لکھے گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ والد کا نام مولوی بدر الحسن تھا، جن کا انتقال ان کی تین سال کی عمر میں ہوگیا، جس کے بعد ان کی پرورش ماں نے کی۔
ادبی آغاز: انہوں نے 12 برس کی عمر سے ہی شاعری کا آغاز کر دیا تھا اور “ادا بدایونی” کے قلمی نام سے لکھتی تھیں۔
شادی اور عملی زندگی: 1940ء میں ان کی شادی نور الحسن جعفری سے ہوئی، جس کے بعد وہ “ادا جعفری” کے نام سے پہچانی گئیں۔
علمی و ادبی خدمات: انہوں نے اردو شاعری میں مردوں کے غلبے والے دور میں اپنی ایک الگ شناخت بنائی اور اردو کی پہلی صاحبِ دیوان شاعرہ بنیں۔ انہوں نے غزل کے علاوہ ہائیکو اور نثری صنفِ سوانح میں بھی طبع آزمائی کی۔
نمایاں مجموعے: ان کے شعری مجموعوں میں “میں ساز ڈھونڈتی رہی” (پہلا مجموعہ)، “شہرِ درد”، “سازِ سخن بہانہ ہے” اور “موسم موسم” شامل ہیں۔
خودنوشت: انہوں نے “جو رہی سو بے خبری رہی” کے عنوان سے اپنی سوانح حیات لکھی۔
اعزازات: ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں پاکستان اور بین الاقوامی سطح پر مختلف اعزازات سے نوازا گیا، جن میں حکومتِ پاکستان کا “تمغہ امتیاز” بھی شامل ہے۔
وفات: 12 مارچ 2015ء کو کراچی میں 90 سال کی عمر میں ان کا انتقال ہوا۔
ادا جعفری کی شاعری میں نسائی احساسات، جدید لہجہ، اور ترقی پسند نظریات کا امتزاج ملتا ہے، جس نے اردو شاعری میں ایک نیا باب رقم کیا۔
ادا جعفری کی شاعری کی فکری و فنی خوبیاں اور ان کے مزید حالات زندگی جاننے کے لیے یہ لنک ملاحظہ فرمائیں ۔
https://tinyurl.com/2evnwbf5
مکمل غزل:
ہونٹوں پہ کبھی ان کے مرا نام ہی آئے
آئے تو سہی بر سر الزام ہی آئے
حیران ہیں لب بستہ ہیں دلگیر ہیں غنچے
خوشبو کی زبانی ترا پیغام ہی آئے
لمحات مسرت ہیں تصور سے گریزاں
یاد آئے ہیں جب بھی غم و آلام ہی آئے
تاروں سے سجا لیں گے رہ شہر تمنا
مقدور نہیں صبح چلو شام ہی آئے
کیا راہ بدلنے کا گلہ ہم سفروں سے
جس رہ سے چلے تیرے در و بام ہی آئے
تھک ہار کے بیٹھے ہیں سر کوئے تمنا
کام آئے تو پھر جذبۂ ناکام ہی آئے
باقی نہ رہے ساکھ اداؔ دشت جنوں کی
دل میں اگر اندیشۂ انجام ہی آئے
اگلی پوسٹ میں ہم اس غزل کی تفصیل سے تشریح کریں گے ان شاءاللہ ۔