نظم اسلامی مساوات از الطاف حسین حالی تشریح

نظم اسلامی مساوات از الطاف حسین حالی تشریح

الطاف حسین حالی کا تعارف :

خواجہ الطاف حسین حالی اردو ادب کے پہلے ریفارمر اور بہت بڑے محسن ہیں۔وہ بیک وقت  شاعر،نثر نگار،نقّاد صاحب طرز سوانح نگار اور مصلح قوم  ہیں جنھوں نے ادبی اور معاشرتی سطح پر زندگی کے بدلتے ہوئے تقاضوں کو محسوس کیا اور ادب و معاشرت کو ان تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں تاریخی کردار ادا کیا۔ ان کی تین اہم کتابیں “حیات سعدی، “یادگار غالب” اور “حیات جاوید” سوانح عمریاں بھی ہیں اور تنقیدیں بھی۔”مقدمۂ شعر و شاعری” کے ذریعہ  انھوں نے اردو میں باقاعدہ تنقید کی بنیاد رکھی اور شعر و شاعری کے تعلق سے اک مکمل اور حیات آفریں نظریہ مرتب کیا اور پھر اس کی روشنی میں شاعری پر تبصرہ کیا۔اب اردو تنقید کے جو سانچے ہیں وہ حالی کے بناے ہوئے ہیں اور اب جن چیزوں پر زور دیا جاتا ہے، ان کی طرف سب سے پہلے حالی  نے اپنے مقدمہ میں توجہ دلائی۔ ا پنی مسدس ( مثنوی مدؔ و جزر اسلام)  میں وہ قوم کی زبوں حالی پر خود بھی روئے اور دوسروں کو بھی رلایا۔  مسدس نے سارے ملک میں جو شہرت اور مقبولیت حاصل کی وہ اپنی مثال آپ تھی۔ سر سید احمد خان کہا کرتے تھے کہ اگر روز محشر خدا نے پوچھا کہ دنیا سے اپنے ساتھ کیا لایا تو کہہ دون گا کہ حالی سے مسدس لکھوائی۔

الطاف حسین حالی 1837 ء میں پانی پت میں پیدا ہوئے۔نو برس کے تھے کہ والد کا انتقال ہو گیا۔ان کی پرورش اور تربیت ان کے بڑے بھائی نے پدرانہ شفقت سے کی۔حالی نے ابتدائی تعلیم پانی پت میں ہی حاصل کی اور قرآن حفظ کیا 17 سال کی عمر میں ان کی شادی کردی گئی۔ شادی کے بعد ان کو روزگار کی فکر لاحق ہوئی چنانچہ ایک دن جب ان کی اہلیہ اپنے میکہ گئی ہوئی تھیں،وہ کسی کو بتائے بغیر پیدل اور خالی ہاتھ دہلی آ گئے۔ حالی کو باقاعدہ تعلیم کا موقع نہیں ملا ۔پانی پت اور دہلی میں  انھوں نے کسی ترتیب و نظام  کے بغیر فارسی ،عربی،فلسفہ و منطق اور حدیث و تفسیر کی کتابوں کا مطالعہ کیا۔ادب میں  انھوں نے جو خاص بصیرت حاصل کی وہ  ان کے اپنے شوق ،مطالعہ اور محنت کی بدولت تھی۔ دہلی کے قیام کے دوران وہ مرزا غالب کی خدمت میں حاضر رہا کرتے تھے اور ان کے بعض فارسی قصائد ان ہی سے سبقاً پڑھے۔ اس کے بعد وہ خود بھی شعر کہنے لگے اور اپنی کچھ غزلیں مرزا کے سامنے بغرض اصلاح پیش کیں تو  انھوں نے کہا  “اگرچہ میں کسی کو فکر شعر کی صلاح نہیں دیتا  لیکن تمھاری نسبت میرا خیال ہے کہ  تم شعر نہ کہو گے تو  اپنی طبیعت پر سخت ظلم کرو گے”۔1857 کے ہنگاموں میں حالی کو دہلی چھوڑ کر پانی پت واپس جانا پڑا اور کئی سال بیروزگاری اور تنگی میں گزرے پھر ان کی ملاقات  نواب  مصطفیٰ خان شیفتہ،رئیس دہلی و تعلقہ دار جہانگیر آباد (ضلع بلند شہر) سے ہوئی جو ان کو اپنے ساتھ جہانگیر اباد لے گئے اور انھیں اپنا مصاحب اور اپنے بچوں کا اتالیق بنا  دیا۔شیفتہ  غالب کے دوست ،اردو   و  فارسی کے شاعر تھے اور مبالغہ کو سخت ناپسند کرتے تھے۔ وہ سیدھی سادی اور سچی باتوں کو  حسن بیان سے دلفریب بنانے کو  شاعری کا کمال سمجھتے تھے اور عامیانہ خیال سے متنفر تھے۔حالی کی شاعرانہ ذہن سازی میں شیفتہ کی صحبت کا بڑا دخل تھا۔ حالی غالب کے معتقد ضرور تھے لیکن شاعری میں  ان کو اپنا آئڈیل نہیں بنایا ۔شاعری میں وہ خود کومیر کا مقلد بتاتے ہیں ۔1872ء میں شیفتہ کے انتقال کے بعد حالی   پنجاب گورنمنٹ بک ڈپو میں ملازم ہو گئے جہاں ان کا کام انگریزی سے اردو میں ترجمہ کی  جانے والی کتابوں کی زبان درست کرنا تھا۔  اسی زمانہ میں  پنجاب کے محکمۂ تعلیم کے ڈائرکٹر کرنل ہالرائڈ کی ایماء پر محمد حسین نے  ایسے مشاعروں کی طرح ڈالی جن  میں شعراء کسی ایک موضوع پر اپنی نظمیں سناتے تھے۔ حالی کی چار نظمیں  “حب وطن”،برکھا رت”،نشاط امید” اور مناظرۂ رحم و انصاف” ان ہی مشاعروں کے لئے لکھی گئیں۔ لاہور میں ہی انھوں نے لڑکیوں کی تعلیم کے لئے  اپنی کتاب “مجالس انساء” قصہ کے پیرائے میں لکھی جس پر  وائسرائے نارتھ بروک نے ان کو 400 روپے کا انعام دیا۔ کچھ عرصہ بعد وہ لاہور کی ملازمت چھوڑ کر دہلی کے اینگلو عربک اسکول میں مدرس ہو گئے اور پھر 1879ء میں سر سید کی ترغیب پر   مثنوی مدّ و جزر اسلام “لکھی جو مسدس حالی کے نام سے مشہور ہے۔اس کے بعد   1884ء میں حالی نے “حیات سعدی” لکھی جس میں شیخ سعدی کے حالات زندگی اور ان کی شاعری پر تبصرہ ہے۔”حیات سعدی اردو  کی با اصول سوانح نگاری  میں پہلی اہم کتاب ہے۔

“مقدمۂ شعر و شاعری “حالی کے دیوان کے ساتھ  1893ءمیں شائع ہوا جو اردو تنقید نگاری میں اپنی نوعیت کی پہلی کتاب ہے۔اس نے تنقیدی روایت کا رُخ بدل دیا اور  جدید تنقید کی بنیاد رکھی۔ اس کتاب میں شاعری کے حوالہ سے ظاہر کئے گئے خیالات، مغربی تنقیدی اصولوں  کی اشاعت کے باوجود اب بھی اہمیت کے حامل ہیں۔ان کی “یادگار غالب” 1897میں شائع ہوئی۔ یہ غالب کے حالات زندگی اور ان کی شاعری پر تبصرہ ہے۔غالب کو عوامی مقبولیت دلانے میں اس کتاب کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔اس سے پہلے غالب ی شاعری صرف خواص کی پسندیدہ تھی۔ نثر میں حالی کی اک  اور تصنیف “حیات جاوید”  ہے جو 1901 ء میں شائع ہوئی۔ یہ سر سید کے حالات زندگی اور ان کے کارناموں کی دستاویز ہی نہیں  بلکہ مسلمانوں کی تقریباً ایک صدی کی  تہذیبی تاریخ بھی ہے۔ اس میں اس زمانے کی معاشرت،تعلیم،مذہب،سیاست اور زبان وغیرہ کے مسائل زیر بحث آگئے ہیں۔

حالی نے عورتوں کی ترقی ا ور ان کے حقوق  کے لئے بہت کچھ لکھا۔ان میں “مناجات بیوہ”اور،”چپ کی داد” نے شہرت حاصل کی۔ حالی نے اردو مرثئے کو بھی نیا رخ دیا جو سچے درد کے ترجمان ہیں۔ حالی نے غزلوں، نظموں اور مثنویوں کے علاوہ قطعات، رباعیات اور قصائد بھی لکھے۔

1887ء میں سر سید کی سفارش پر ریاست حیدر اباد نے   امداد مصنفین کے محکمہ سے ان کا 75 روپے ماہوار وظیفہ مقرر کر دیا جو بعد میں 100 روپے ماہوار ہو گیا۔اس وظیفہ کے بعد قناعت پسند حالی اینگلو عربک کالج کی ملازمت سے مستعفی ہو کر پانی پت چلے گئے اور وہیں اپنا تصنیفی سلسلہ جاری رکھا ۔ 1904ء میں حکومت نے انھیں شمس العلماء کے خطاب سے نوازا جسے انھوں نے اپنے لئے مصیبت گردانا کہ اب سرکاری حکام کے سامنے حاضری دینا پڑے گی۔ شبلی نے انھیں خطاب دئے جانے پر کہا کہ اب صحیح معنوں میں اس خطاب کی عزت افزائی ہوئی۔ حالی نزلہ کے دائمی مریض تھے جس پر قابو پانے کے لئے انھوں نے افیون کا استعمال شروع کیا جس سے فائدہ کی بجائے نقصان ہوا۔ ان کی بصارت بھی دھیرے دھیرے زائل ہوتی گئی۔ دسمبر 1914ء میں ان کا انتقال ہو گیا۔

اردو ادب میں حالی کی حیثیت کئی اعتبار سے ممتاز و منفرد ہے۔ انھوں نے جس وقت ادب کے کوچے میں قدم رکھا اس وقت اردو شاعری لفظوں کا کھیل بنی ہوئی تھی یا پھر عاشقانہ شاعری میں معاملہ بندی کے مضامین مقبول تھے۔غزل میں آفاقیت اور اجتماعیت کا حوالہ بہت کم تھا اور شاعری اک نجی مشغلہ بنی ہوئی تھی۔ حالی نے ان رجحانات کے مقابلہ میں حقیقی اور سچے جذبات کے بے تکلفانہ  اظہار کو ترجیح دی۔ وہ جدید نظم نگاری کے اوّلین معماروں میں سے ایک تھے۔انھوں نے غزل کو حقیقت سے ہم آہنگ کیا  اور قومی و اجتماعی شاعری کی بنیاد رکھی۔اسی طرح انھوں نے نثر میں بھی سادگی اور برجستگی داخل کر کے اسے  ہر قسم کے  علمی ،ادبی اور تحقیقی مضامین ادا کرنے کے قابل بنایا۔ حالی شرافت اور نیک نفسی کا مجسمہ تھے۔ مزاج میں ضبط و اعتدال، رواداری  اور بلند نظری  ان کی ایسی خوبیاں تھیں جن کی جھللک ان کے کلام میں بھی نظر آتی ہے۔اردو ادب کی جو وسیع و عریض ،خوبصورت  اور دلفریب عمارت آج نظر آتی ہے اس کی بنیاد کے پتھر حالی نے ہی بچھائے تھے۔

الطاف حسین حالی کے بارے میں مزید تفصیل سے پڑھنے کے لیے اس لنک کو ملاحظہ فرمائیں

https://urli.info/1saJG

نظم اسلامی مساوات از الطاف حسین حالی کی تشریح:

مولانا الطاف حسین حالی کی یہ نظم درحقیقت ان کے شاہکار “مسدسِ حالی” کا ایک حصہ ہے، جس کا اصل نام “مد و جزرِ اسلام” ہے۔ اس نظم میں حالی نے مسلمانوں کے زوال کے اسباب، خاص طور پر امراء کی بے حسی اور انسانیت سے دوری کو بیان کیا ہے۔

مولانا الطاف حسین حالی کا تعارف

مولانا الطاف حسین حالی (1837ء تا 1914ء) اردو ادب کے بلند پایہ شاعر، نقاد، سوانح نگار اور مصلح تھے۔ وہ پانی پت میں پیدا ہوئے۔ حالی سرسید احمد خان کے قریبی ساتھیوں میں سے تھے اور انہوں نے سرسید کی تحریک کو ادبی رنگ عطا کیا۔ حالی نے اردو شاعری کو روایتی گل و بلبل کے افسانوں سے نکال کر مقصدیت اور قومی اصلاح کی طرف موڑ دیا۔ ان کی کتاب “مقدمہ شعر و شاعری” اردو تنقید کی پہلی باقاعدہ کتاب تسلیم کی جاتی ہے، جبکہ “مسدسِ حالی” نے سوئی ہوئی قوم کو بیدار کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ان کا اسلوب سادہ، درد مندانہ اور حقیقت پسندی پر مبنی ہے۔

بند نمبر 1

کسی قوم کا جب اُلٹتا ہے دفتر

کمال اُن میں رہتے ہیں باقی، نہ جوہر

تو ہوتے ہیں مسخ اُن میں پہلے تونگر

نہ عقل اُن کی ہادی، نہ دین اُن کا رہبر

نہ دنیا میں ذلت نہ عزت کی پروا

نہ عقبیٰ میں دوزخ نہ جنت کی پروا

مشکل الفاظ کے معانی:

دفتر الٹنا: قسمت بدلنا، زوال آنا۔

جوہر: قابلیت، اندرونی خوبی۔

مسخ ہونا: صورت بگڑ جانا، اخلاق خراب ہونا۔

تونگر: امیر، دولت مند۔

عقبیٰ: آخرت۔

مفہوم:

جب کسی قوم پر زوال آتا ہے تو اس کے باصلاحیت لوگ ختم ہو جاتے ہیں۔ سب سے پہلے اس قوم کے امراء اخلاقی طور پر بگڑتے ہیں، وہ عقل اور دین دونوں کو چھوڑ دیتے ہیں اور انہیں دنیا و آخرت کی کوئی فکر نہیں رہتی۔

تشریح (18 سے 20 سطریں):

اس بند میں مولانا حالی قوموں کے عروج و زوال کے فلسفے کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کسی قوم سے اس کی حکومت، طاقت اور وقار چھیننا چاہتا ہے تو اس قوم کی حالت مجموعی طور پر بدل جاتی ہے۔ زوال کا پہلا نشان یہ ہوتا ہے کہ اس قوم میں موجود اعلیٰ انسانی صفات، کمالات اور موروثی خوبیاں ختم ہو جاتی ہیں۔ حالی کے نزدیک زوال کا آغاز ہمیشہ معاشرے کے بالائی طبقے یعنی “امراء” سے ہوتا ہے۔ جب دولت کی فراوانی اور عیاشی حد سے بڑھ جاتی ہے تو ان لوگوں کی سیرت و کردار “مسخ” ہو کر رہ جاتے ہیں۔ ان کی انسانیت مسخ ہو جاتی ہے اور وہ صرف اپنی ذات کے اسیر ہو کر رہ جاتے ہیں۔ ایسے وقت میں نہ تو ان کی عقل انہیں صحیح راستہ دکھاتی ہے اور نہ ہی وہ دین کی تعلیمات پر عمل کرنے کے لائق رہتے ہیں۔ ان کے دلوں سے اللہ کا خوف اور عاقبت کی فکر نکل جاتی ہے۔ انہیں اس بات کا احساس ہی نہیں رہتا کہ معاشرے میں ان کی عزت ہو رہی ہے یا وہ ذلیل ہو رہے ہیں۔ وہ اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار ہو کر اس حد تک گر جاتے ہیں کہ انہیں نہ تو دوزخ کے عذاب کا ڈر رہتا ہے اور نہ ہی جنت کے حصول کی تڑپ باقی رہتی ہے۔ وہ صرف موجودہ لمحے کی عیاشی میں گم ہو جاتے ہیں اور یہی وہ مقام ہے جہاں سے پوری قوم کی تباہی کا راستہ ہموار ہوتا ہے۔ امراء کا یہ بگاڑ کینسر کی طرح پورے معاشرے میں پھیل جاتا ہے اور قوم اپنی شناخت کھو دیتی ہے۔

بند نمبر 2

نہ مظلوم کی آہ و زاری سے ڈرنا

ہوا و ہوس میں خودی سے گزرنا

نہ مفلوک کے حال پر رحم کرنا

تعیُّش میں جینا، نمائش پہ مرنا

سدا خوابِ غفلت میں بے ہوش رہنا

دمِ نَزع تک خود فراموش رہنا

مشکل الفاظ کے معانی:

ہوا و ہوس: لالچ اور نفسانی خواہشات۔

خودی: غیرت، اپنی پہچان۔

مفلوک: غریب، مفلس۔

تعیش: عیش و آرام۔

دمِ نزع: موت کا وقت۔

مفہوم:

امیر لوگ ظلم کرنے سے نہیں ڈرتے اور اپنی خواہشات کے پیچھے اپنی غیرت بیچ دیتے ہیں۔ وہ غریبوں پر رحم نہیں کرتے، نمائش کی زندگی گزارتے ہیں اور مرتے دم تک غفلت میں ڈوبے رہتے ہیں۔

تشریح (18 سے 20 سطریں):

حالی اس بند میں زوال زدہ قوم کے امراء کی اخلاقی گراوٹ کی مزید تفصیل بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جب لوگ انسانیت سے دور ہو جاتے ہیں تو ان کے دلوں سے ہمدردی کا جذبہ ختم ہو جاتا ہے۔ وہ دوسروں پر ظلم ڈھاتے ہیں اور کسی مظلوم کی پکار یا اس کے آنسو ان کے سنگدل دلوں پر کوئی اثر نہیں کرتے۔ ان کی زندگی کا واحد مقصد “ہوا و ہوس” یعنی اپنی نفسانی خواہشات کی تکمیل بن جاتا ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے وہ اپنی “خودی” اور غیرت تک کا سودا کر لیتے ہیں۔ معاشرے کے غریب، نادار اور مفلوک الحال لوگ ان کی نظر میں حقیر ہوتے ہیں، ان کی حالت زار دیکھ کر ان کے دل میں رحم کا کوئی جذبہ پیدا نہیں ہوتا۔ ان کی زندگی کا کل سرمایہ عیش و عشرت اور دکھاوا بن کر رہ جاتا ہے۔ وہ ایسی چیزوں پر پیسہ پانی کی طرح بہاتے ہیں جن سے ان کی جھوٹی شان و شوکت کا اظہار ہو۔ حالی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ لوگ ہمیشہ غفلت کی نیند سوئے رہتے ہیں۔ انہیں اپنے گرد و پیش کی کوئی خبر نہیں ہوتی اور نہ ہی وہ اپنی اصلاح کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ غفلت عارضی نہیں ہوتی بلکہ زندگی کے آخری لمحے یعنی “دمِ نزع” تک وہ اسی حالت میں رہتے ہیں۔ وہ اپنی حقیقت کو بھول جاتے ہیں اور یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ انہیں ایک دن خدا کے سامنے جوابدہ ہونا ہے۔ یہ خود فراموشی درحقیقت خدا فراموشی کا دوسرا نام ہے جو کسی بھی قوم کی تباہی کے لیے کافی ہے۔

بند نمبر 3

پریشان اگر قحط سے اِک جہاں ہے

اگر باغِ اُمّت میں فصلِ خزاں ہے

تو بے فکر ہیں کیونکہ گھر میں سماں ہے

تو خوش ہیں کہ اپنا چمن گل فشاں ہے

بنی نوعِ انساں کا حق اُن پہ کیا ہے

وہ اِک نوع، نوعِ بشر سے جُدا ہے

مشکل الفاظ کے معانی:

قحط: بھوک، اناج کی کمی۔

فصلِ خزاں: زوال کا وقت، دکھ کا دور۔

گل فشاں: پھول کھلنا، خوشحالی۔

نوعِ بشر: انسانی نسل۔

مفہوم:

اگر پوری دنیا بھوک اور افلاس سے پریشان ہو یا پوری امت پر زوال چھایا ہو، ان امراء کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ وہ اپنے گھر کی آسائشوں میں مگن رہتے ہیں اور خود کو عام انسانوں سے الگ ایک مخلوق سمجھتے ہیں۔

تشریح (18 سے 20 سطریں):

اس بند میں مولانا حالی امراء کی خود غرضی اور بے حسی کو نہایت دردناک انداز میں بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ان لوگوں کی بے حسی کا یہ عالم ہے کہ اگر پوری دنیا میں قحط پڑ جائے، لوگ دانہ دانے کو ترس رہے ہوں اور امتِ مسلمہ پر زوال کی کالی گھٹائیں چھائی ہوں، تب بھی ان کے ماتھے پر پسینہ نہیں آتا۔ اگرچہ پوری امت “فصلِ خزاں” کی زد میں ہو اور ہر طرف تباہی کا منظر ہو، یہ لوگ اپنے محلات کے اندر جشن منانے میں مصروف رہتے ہیں۔ ان کے نزدیک ان کا اپنا گھر اور اپنی اولاد ہی سب کچھ ہے۔ جب تک ان کے اپنے دسترخوان بھرے ہوئے ہیں اور ان کے اپنے باغ میں بہار ہے، انہیں اس بات کی کوئی پروا نہیں کہ باہر کوئی مر رہا ہے یا جی رہا ہے۔ حالی ایک بہت بڑا طنز کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان دولت مندوں نے اپنے ذہن میں یہ بٹھا لیا ہے کہ وہ شاید عام انسانوں کی قسم سے نہیں ہیں۔ وہ خود کو “بنی نوعِ انسان” کا حصہ ہی نہیں سمجھتے بلکہ خود کو کوئی برتر مخلوق تصور کرتے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ انسانی حقوق اور ہمدردی کے تقاضے ان کے لیے نہیں ہیں۔ ان کی دنیا الگ ہے، ان کے غم الگ ہیں اور ان کے مفادات الگ ہیں۔ وہ انسانیت کے ساتھ جڑے ہوئے اس رشتے کو توڑ دیتے ہیں جو ایک انسان کو دوسرے انسان کے دکھ میں شریک کرتا ہے۔ یہ رویہ درحقیقت معاشرتی تقسیم کو جنم دیتا ہے جو بالآخر بغاوت اور زوال کا سبب بنتا ہے۔

بند نمبر 4

کہاں بندگانِ ذلیل اور کہاں وہ

پہنتے نہیں جُز سمور و کتاں وہ

بسر کرتے ہیں بے غمِ قوت و ناں وہ

مکاں رکھتے ہیں رشکِ خُلدِ جناں وہ

نہیں چلتے وہ بے سواری قدم بھر

نہیں رہتے بے نغمہ و ساز دم بھر

مشکل الفاظ کے معانی:

بندگانِ ذلیل: عاجز لوگ، غریب۔

سمور و کتاں: قیمتی ریشمی اور اونی کپڑے۔

قوت و ناں: کھانا پینا، روٹی۔

خُلدِ جناں: جنت کے باغات۔

مفہوم:

غریبوں اور ان امراء کا کیا مقابلہ؟ وہ قیمتی لباس پہنتے ہیں، انہیں کھانے پینے کی کوئی فکر نہیں ہوتی اور ان کے گھر جنت کی طرح خوبصورت ہوتے ہیں۔ وہ پیدل چلنا اپنی توہین سمجھتے ہیں اور موسیقی کے بغیر ایک لمحہ نہیں رہتے۔

تشریح (18 سے 20 سطریں):

حالی اس بند میں امیر اور غریب کے درمیان موجود گہری خلیج کو واضح کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ان امراء کے نزدیک غریب لوگ “بندگانِ ذلیل” یعنی حقیر مخلوق ہیں جن کے ساتھ ان کا کوئی موازنہ ہی نہیں۔ ان کی زندگی کا معیار اتنا بلند اور پرتعیش ہے کہ وہ عام کپڑوں کی جگہ صرف “سمور و کتاں” یعنی نہایت قیمتی ریشمی اور اونی ملبوسات پہننا پسند کرتے ہیں۔ انہیں اس بات کی فکر ہی نہیں ہوتی کہ کل کا کھانا کہاں سے آئے گا کیونکہ ان کے پاس دولت کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں۔ ان کی رہائش گاہیں اتنی عالی شان، وسیع اور خوبصورت ہوتی ہیں کہ وہ زمین پر جنت کا نمونہ معلوم ہوتی ہیں اور ہر دیکھنے والا ان پر رشک کرتا ہے۔ ان کی سہل پسندی کا یہ عالم ہے کہ وہ چند قدم بھی پیدل چلنے کو تیار نہیں ہوتے، انہیں ہر جگہ جانے کے لیے سواری کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان کی زندگی کا ہر لمحہ لہو و لعب اور موسیقی میں گزرتا ہے۔ وہ راگ رنگ اور نغمہ و ساز کے اتنے عادی ہو چکے ہیں کہ اس کے بغیر انہیں چین نہیں آتا۔ حالی بتانا چاہتے ہیں کہ جب کوئی طبقہ اس حد تک عیش کوشی میں غرق ہو جاتا ہے کہ وہ زندگی کی تلخ حقیقتوں اور محنت سے دور ہو جائے، تو اس کی قوتِ عمل ختم ہو جاتی ہے۔ یہ طرزِ زندگی جہاں ایک طرف غریبوں کے دلوں میں محرومی پیدا کرتا ہے، وہیں دوسری طرف امراء کو کاہل اور نااہل بنا دیتا ہے۔

بند نمبر 5

کمر بستہ ہیں لوگ خدمت میں اُن کی

نفاست بھری ہے طبیعت میں اُن کی

گل و لالہ رہتے ہیں صُحبت میں اُن کی

نزاکت، سو داخل ہے عادت میں اُن کی

دواؤں میں مُشک اُن کی اُٹھتا ہے ڈھیروں

وہ پوشاک میں عِطر ملتے ہیں سیروں

مشکل الفاظ کے معانی:

کمر بستہ: تیار رہنا۔

نفاست: پاکیزگی، عمدگی۔

گل و لالہ: خوبصورت پھول، حسین لوگ۔

مُشک: ایک قیمتی خوشبو۔

سیروں: بہت زیادہ مقدار (سیر ایک وزن ہے)۔

مفہوم:

ان کی خدمت کے لیے ہر وقت نوکر چاکر تیار رہتے ہیں۔ ان کی طبیعت میں بہت نزاکت ہوتی ہے اور وہ ہمیشہ خوشبوؤں اور پھولوں میں گھرے رہتے ہیں۔ وہ اپنی دواؤں اور لباس پر بے پناہ قیمتی خوشبوئیں استعمال کرتے ہیں۔

تشریح (18 سے 20 سطریں):

اس بند میں حالی امراء کی انتہائی نزاکت اور اسراف (فضول خرچی) کی تصویر کشی کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ان لوگوں کی شان و شوکت کا یہ عالم ہے کہ ملازموں کی ایک فوج ہمہ وقت ان کے اشاروں پر ناچتی ہے۔ ان کی طبیعت اتنی نازک اور “نفیس” ہو چکی ہے کہ وہ معمولی سی سختی بھی برداشت نہیں کر سکتے۔ ان کی محفلیں ہمیشہ پھولوں اور خوبصورت چیزوں سے سجی رہتی ہیں۔ حالی طنزیہ انداز میں کہتے ہیں کہ “نزاکت” اب ان کی عادت کا حصہ بن چکی ہے، یعنی وہ مردانہ وار زندگی گزارنے کے قابل ہی نہیں رہے۔ ان کی عیاشی کی انتہا یہ ہے کہ اگر وہ بیمار ہو جائیں تو ان کی دواؤں میں بھی “مشک” جیسی انتہائی مہنگی خوشبوئیں ڈالی جاتی ہیں۔ وہ اپنے لباس پر عام طریقے سے عطر نہیں لگاتے بلکہ “سیروں” کے حساب سے عطر ملتے ہیں تاکہ ان کا وجود ہمہ وقت مہکتا رہے۔ یہ حد سے بڑھی ہوئی نزاکت اور خوشبوؤں کا شوق درحقیقت اس ذہنی پستی کی عکاسی کرتا ہے جہاں انسان صرف حسی لذتوں کا اسیر ہو کر رہ جاتا ہے۔ حالی یہ پیغام دے رہے ہیں کہ جس قوم کے مرد اتنے نازک مزاج ہو جائیں کہ وہ عطر اور مشک کے بغیر نہ رہ سکیں، وہ میدانِ عمل میں دشمن کا مقابلہ کیسے کریں گے؟ یہ نفاست دراصل وہ کمزوری ہے جو قوموں کو غلامی کی طرف لے جاتی ہے۔ یہ اسراف اور فضول خرچی اس وقت کی جا رہی ہے جب قوم کے باقی افراد بنیادی ضرورتوں سے محروم ہیں۔

بند نمبر 6

یہ ہو سکتے ہیں اُن کے ہم جنس کیوں کر

سواری کو گھوڑا نہ خدمت کو نوکر

نہیں چَین جن کو زمانے سے دم بھر

نہ رہنے کو گھر اور نہ سونے کو بستر

پہننے کو کپڑا نہ کھانے کو روٹی

جو تدبیر اُلٹی تو تقدیر کھوٹی

مشکل الفاظ کے معانی:

ہم جنس: ایک جیسی نسل یا طبقہ۔

دم بھر: ایک لمحہ۔

تدبیر: کوشش، منصوبہ۔

تقدیر کھوٹی: قسمت کا خراب ہونا۔

مفہوم:

امراء غریبوں کو اپنے جیسا انسان نہیں سمجھتے کیونکہ غریبوں کے پاس نہ سواری ہے، نہ نوکر اور نہ ہی سکون۔ ان کے پاس نہ گھر ہے، نہ روٹی اور نہ کپڑا۔ جب ان کی کوششیں ناکام ہوتی ہیں تو ان کی قسمت بھی ساتھ چھوڑ دیتی ہے۔

تشریح (18 سے 20 سطریں):

اس بند میں حالی نے معاشرے کے پسے ہوئے طبقے کی حالتِ زار بیان کرتے ہوئے امراء کے تکبر پر ضرب لگائی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ امراء کے نزدیک وہ غریب لوگ ان کے “ہم جنس” یعنی برابر کے انسان ہو ہی نہیں سکتے جن کے پاس نہ تو سواری کے لیے گھوڑا ہے اور نہ ہی خدمت کے لیے کوئی نوکر۔ وہ طبقہ جو دن رات محنت مزدوری میں جتا رہتا ہے اور جسے زمانے کی چکی میں پستے ہوئے ایک لمحہ بھی چین نصیب نہیں ہوتا، وہ ان عیش پسندوں کی برابری کیسے کر سکتا ہے؟ حالی غریبوں کی محرومیوں کی تفصیل بتاتے ہیں کہ ان کے پاس نہ تو سر چھپانے کو چھت ہے اور نہ ہی تھکن مٹانے کے لیے بستر میسر ہے۔ ان کے پاس نہ پہننے کو ڈھنگ کا کپڑا ہے اور نہ ہی پیٹ بھرنے کو روٹی۔ حالی انسانی نفسیات اور سماجی حقیقت کا ایک بہت بڑا نکتہ بیان کرتے ہیں کہ جب انسان کی “تدبیر” یعنی کوششیں مسلسل ناکام ہونے لگیں تو اس کی “تقدیر” بھی کھوٹی معلوم ہونے لگتی ہے۔ یعنی مسلسل غربت اور ناکامی انسان کے حوصلے توڑ دیتی ہے۔ امراء ان غریبوں کی مجبوریوں کا مذاق اڑاتے ہیں اور انہیں حقیر سمجھتے ہیں۔ حالی اس معاشرتی ناانصافی پر احتجاج کر رہے ہیں کہ ایک طرف تو بے پناہ اسراف ہے اور دوسری طرف بنیادی انسانی ضرورتوں کا فقدان ہے۔ یہ تضاد کسی بھی معاشرے کے لیے زہرِ قاتل ہے اور اسلامی مساوات کے تصور کے بالکل برعکس ہے۔

بند نمبر 7

یہ پہلا سبق تھا کتابِ ہدیٰ کا

وہی دوست ہے خالقِ دوسِرا کا

کہ ہے ساری مخلوق کنبہ خدا کا

خلائق سے ہے جس کو رشتہ وِلا کا

یہی ہے عبادت، یہی دین و ایماں

کہ کام آئے دنیا میں انساں کے انساں

مشکل الفاظ کے معانی:

کتابِ ہدیٰ: ہدایت کی کتاب (قرآن مجید)۔

خالقِ دوسِرا: دونوں جہانوں کا پیدا کرنے والا (اللہ تعالیٰ)۔

کنبہ: خاندان۔

رشتہ وِلا: محبت اور دوستی کا رشتہ۔

خلائق: مخلوق کی جمع۔

مفہوم:

قرآن کا پہلا سبق یہی ہے کہ اللہ کا دوست وہی ہے جو اس کی مخلوق سے محبت کرے۔ تمام مخلوق خدا کا خاندان ہے اور اصل عبادت اور ایمان یہی ہے کہ ایک انسان دوسرے انسان کے کام آئے۔

تشریح (18 سے 20 سطریں):

اس آخری بند میں حالی نظم کا نچوڑ اور اسلامی مساوات کا اصل فلسفہ پیش کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ قرآن مجید یعنی “کتابِ ہدیٰ” نے ہمیں سب سے پہلا اور بنیادی سبق یہی دیا ہے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ (خالقِ دوسرا) کی دوستی اور خوشنودی حاصل کرنا چاہتے ہو تو اس کی مخلوق سے محبت کرو۔ اسلام کا تصورِ مساوات یہ ہے کہ “ساری مخلوق خدا کا کنبہ ہے”۔ جس طرح ایک انسان اپنے خاندان کے افراد کی تکلیف پر تڑپ اٹھتا ہے، اسی طرح ایک سچے مومن کو خدا کی مخلوق کی تکلیف پر تڑپنا چاہیے۔ حالی فرماتے ہیں کہ جس شخص کا اللہ کی مخلوق کے ساتھ محبت، ہمدردی اور مروت کا رشتہ (رشتہِ ولا) استوار ہو گیا، سمجھو اس نے دین کی حقیقت کو پا لیا۔ وہ واضح کرتے ہیں کہ صرف تسبیح پھیرنا یا محض رسمی عبادتیں کرنا کافی نہیں ہے، بلکہ “یہی ہے عبادت، یہی دین و ایماں” کہ ایک انسان دوسرے انسان کے دکھ درد میں شریک ہو اور اس کے کام آئے۔ انسانیت کی خدمت ہی اصل دین ہے۔ حالی امراء کو یہ یاد دلا رہے ہیں کہ تمہاری دولت اور تمہاری نمازیں تب تک بے کار ہیں جب تک تمہارے دل میں غریبوں کے لیے ہمدردی نہیں۔ اسلام میں کوئی رنگ، نسل یا دولت کی بنیاد پر برتر نہیں ہے بلکہ برتری کا معیار تقویٰ اور خدمتِ خلق ہے۔ یہ بند ہمیں ایک ایسے فلاحی معاشرے کی دعوت دیتا ہے جہاں ہر انسان دوسرے کا مددگار ہو اور کوئی بھی بھوکا یا ننگا نہ رہے۔

Leave a Reply