پہنچتا ہے ہر اک مے کش کے آگے دور جام اس کا

مولانا ظفر علی خان کا مختصر تعارف:
ناقوس سے غرض ہے نہ مطلب اذاں سے ہے
مجھ کو اگر ہے عشق تو ہندوستاں سے ہے
ظفر علی خان کی شخصیت کے کئی پہلو ہیں ۔ وہ شاعر بھی تھے ،مدیر بھی اور آزادی کی جدوجہد میں حصہ لینے والے ایک سرگرم سیاسی کارکن بھی ۔ ان کی پیدائش 1873 میں قصبہ کوٹ مرتا ضلع سیالکوٹ میں ہوئی ۔ ابتدائی تعلیم کرم آباد میں ہی حاصل کی اور اس کے بعد اینگلو محمڈن کالج علی گڑھ میں زیر تعلیم رہے ۔
مولانا ظفر علی خاں اس وقت کے مشہور روزنامے ’’ زمیندار‘‘ کے مدیر رہے ، اس اخبار نے اپنے وقت میں سیاسی ، سماجی اور تہذیبی مسائل ومعاملات کی عکاسی اور سماج کے ایک بڑے طبقے میں ان مسائل کے حوالے سے رائے سازی میں اہم کردار ادا کیا ۔ مولانا کا سیاسی مسلک گاندھی جی کی عدم تشدد کی حکمت عملی سے بہت مختلف تھا ، وہ برطانوی حکمرانوں سے براہ راست ٹکراؤ میں یقین رکھتے تھے ۔ تحریک آزادی میں حصہ لینے کی پاداش میں گورنر پنجاب سرمائیکل اوڈوائر کے دور میں انھیں پانچ سال کی قید بامشقت بھی برداشت کرنی پڑی ۔ خلافت تحریک سے بھی مولانا کی وابستگی بہت مظبوط تھی ۔
مولانا کی شاعری بھی ان کی اسی سیاسی اور سماجی جدوجہد کا ایک ذریعہ رہی ان کی نظموں کے موضوعات ان کے وقت کی اتھل پتھل کے ارد گرد گھومتے ہیں ۔ ان کی بیشتر نظمیں وقتی تقاضوں کے پیش نظر تخلیق کی گئی ہیں ۔
27 نومبر 1956 کو لاہور میں ان کا انتقال ہوا ۔
مولانا ظفر علی خان کے بارے میں تفصیل سے پڑھنے کے لیے اس لنک کو ملاحظہ فرمائیں ۔
https://l1nk.dev/yewgs9q
نظم حمد کی مکمل تشریح:
مولانا ظفر علی خان کی یہ حمد اردو ادب کا ایک شاہکار ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی صفاتِ باری تعالیٰ، اس کی وحدانیت اور اس کے نظامِ قدرت کو نہایت موثر انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
مولانا ظفر علی خان کا تعارف
مولانا ظفر علی خان (1873ء – 1956ء) اردو صحافت کے امام، بلند پایہ شاعر اور تحریکِ پاکستان کے سرگرم رہنما تھے۔ انہیں “بابائے اردو صحافت” کہا جاتا ہے۔ انہوں نے مشہور اخبار “زمیندار” کے ذریعے مسلمانوں میں سیاسی بیداری پیدا کی۔ ان کی شاعری جذبہِ حب الوطنی اور عشقِ رسول ﷺ سے سرشار ہے۔ مولانا ظفر علی خان کو زبان و بیان پر غیر معمولی قدرت حاصل تھی، خاص طور پر حمد اور نعت گوئی میں ان کا مقام بہت بلند ہے۔ ان کے شعری مجموعوں میں “بہارستاں”، “نگارستاں” اور “چمنستاں” نمایاں ہیں۔
شعر نمبر 1
پہنچتا ہے ہر اک مے کش کے آگے دور جام اس کا
کسی کو تشنہ لب رکھتا نہیں ہے لطف عام اس کا
مشکل الفاظ کے معانی:
مے کش: شراب پینے والا (مراد: فیض حاصل کرنے والا)
دورِ جام: پیالے کا گردش کرنا
تشنہ لب: پیاسا
لطفِ عام: سب کے لیے برابر مہربانی
مفہوم:
اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا فیض پوری کائنات کے لیے عام ہے۔ وہ اپنی نعمتوں کی تقسیم میں کسی کے ساتھ تفریق نہیں کرتا بلکہ ہر طلب کرنے والے کی پیاس بجھاتا ہے۔
تشریح:
اس شعر میں مولانا ظفر علی خان اللہ تعالیٰ کی صفتِ رحمانیت کا تذکرہ کر رہے ہیں۔ شاعر کہتے ہیں کہ کائنات کا ذرہ ذرہ اللہ کے فیض سے سیراب ہو رہا ہے۔ جس طرح ایک سخی میزبان اپنی محفل میں موجود تمام مہمانوں کو بن مانگے جامِ محبت پیش کرتا ہے، بالکل اسی طرح اللہ تعالیٰ بھی اپنی مخلوق کے ہر فرد کو، چاہے وہ نیک ہو یا گناہگار، اپنی نعمتوں سے نوازتا ہے۔ یہاں “مے کش” سے مراد وہ بندہ ہے جو اللہ کی معرفت اور اس کی نعمتوں کا طلب گار ہے۔ “دورِ جام” سے مراد زندگی کی وہ تمام سہولتیں اور روحانی بالیدگی ہے جو اللہ کی طرف سے عطا ہوتی ہے۔ شاعر کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کسی خاص طبقے یا گروہ کے لیے مخصوص نہیں ہے۔ اس کا “لطفِ عام” ہر ایک کے لیے ہے۔ وہ سورج کو حکم دیتا ہے کہ اپنی روشنی سب کو دے، بادلوں کو حکم دیتا ہے کہ ہر زمین پر برسیں اور ہواؤں کو حکم دیتا ہے کہ ہر سینے کو تازگی بخشیں۔ اللہ کی بارگاہ سے کوئی بھی سائل خالی ہاتھ یا پیاسا نہیں لوٹتا۔ یہ اس کی کریمی ہے کہ وہ پیاسے کو پانی اور بھوکے کو رزق عطا فرماتا ہے۔ کائنات کے وسیع دسترخوان پر ہر جاندار اس کا مہمان ہے اور وہ سب کا پالنے والا ہے۔ انسان اگر سچے دل سے اس کی طرف رجوع کرے تو وہ اس کے فیض سے کبھی محروم نہیں رہ سکتا۔
شعر نمبر 2
گواہی دے رہی ہے اس کی یکتائی پہ ذات اس کی
دوئی کے نقش سب جھوٹے ہیں سچا ایک نام اس کا
مشکل الفاظ کے معانی:
یکتائی: ایک ہونا، وحدانیت
دوئی: دو ہونا (مراد: شرک)
نقش: نشان، علامت
مفہوم:
اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی سب سے بڑی دلیل اس کی اپنی ذات ہے۔ کائنات میں شرک کے تمام تصورات باطل ہیں اور صرف اللہ ہی کی ذات سچی اور ہمیشہ قائم رہنے والی ہے۔
تشریح:
اس شعر میں توحید کے فلسفے کو بیان کیا گیا ہے۔ مولانا فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو پہچاننے کے لیے کسی بہت بڑی دلیل کی ضرورت نہیں، بلکہ اس کی ذات خود اپنی وحدانیت پر گواہ ہے۔ کائنات کے مربوط نظام کو دیکھ کر عقل پکار اٹھتی ہے کہ اس کا بنانے والا اور چلانے والا صرف ایک ہی ہے۔ اگر اس کائنات کے دو خدا ہوتے تو نظامِ عالم درہم برہم ہو جاتا۔ “دوئی کے نقش” سے مراد وہ تمام جھوٹے معبود اور باطل نظریات ہیں جو انسانوں نے اپنے وہم و گمان سے تراش رکھے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ بڑے بڑے جابر اور خود کو خدا کہلوانے والے مٹ گئے، لیکن اللہ کا نام آج بھی روشن ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ کائنات کی ہر تخلیق اپنے خالق کے ایک ہونے کا اعلان کر رہی ہے۔ انسان کی اپنی فطرت بھی اللہ کی وحدانیت کی گواہی دیتی ہے۔ جب انسان ہر طرف سے مایوس ہو جاتا ہے تو لاشعوری طور پر اس کا دل ایک ہی ہستی کو پکارتا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ کائنات کی تمام مٹ جانے والی چیزیں فانی ہیں اور صرف اللہ کی ذات “حی و قیوم” ہے۔ شرک کے تمام نشانات مٹ جانے والے ہیں کیونکہ ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ سچائی صرف اللہ کے نام میں ہے جو کائنات کا کل وقتی سچ ہے۔
شعر نمبر 3
ہر اک ذرہ فضا کا داستان اس کی سناتا ہے
ہر اک جھونکا ہوا کا آ کے دیتا ہے پیام اس کا
مشکل الفاظ کے معانی:
ذرہ: چھوٹا سا ٹکڑا
داستان: قصہ، کہانی
پیام: پیغام
مفہوم:
کائنات کی ہر چھوٹی سے چھوٹی چیز اللہ کی عظمت کی داستان بیان کرتی ہے اور ہوا کا ہر جھونکا اس کی موجودگی کا پیغام لے کر آتا ہے۔
تشریح:
شاعر اس شعر میں آفاقی نشانیاں بیان کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ کائنات کا ذرہ ذرہ اللہ تعالیٰ کی کاریگری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اگر ہم غور کریں تو فضا میں تیرتا ہوا ایک ادنیٰ سا ذرہ بھی ہمیں اس عظیم خالق کی کہانی سناتا ہے جس نے اسے وجود بخشا۔ مٹی کا ذرہ ہو یا آسمان کے ستارے، سب اپنی زبانِ حال سے اللہ کی تسبیح بیان کر رہے ہیں۔ اسی طرح ہوا کا ہر جھونکا جب ہمارے پاس سے گزرتا ہے تو وہ ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ کوئی ہے جو اس نظام کو چلا رہا ہے۔ ہوا کی لطافت، اس کی ٹھنڈک اور اس کا رخ اللہ کے حکم کے تابع ہے۔ یہ ہوا کا پیغام دراصل اللہ کی ربوبیت کا پیغام ہے جو انسان کو غفلت کی نیند سے بیدار کرتا ہے۔ قدرت کے مناظر، جیسے پہاڑ، دریا، درخت اور پھول، سب کے سب اللہ کے وجود کے شاہد ہیں۔ شاعر کا مقصد یہ ہے کہ اللہ کی معرفت حاصل کرنے کے لیے کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں، بلکہ کائنات کے مشاہدے سے ہی اس تک پہنچا جا سکتا ہے۔ ہر کلی کا چٹکنا اور ہر پرندے کی چہچہاہٹ دراصل اسی خالقِ ازل کی حمد و ثنا ہے۔ کائنات ایک کھلی کتاب کی مانند ہے جس کا ہر لفظ اللہ کی عظمت کی گواہی دے رہا ہے۔
شعر نمبر 4
میں اس کو کعبہ و بت خانہ میں کیوں ڈھونڈنے نکلوں
مرے ٹوٹے ہوئے دل ہی کے اندر ہے قیام اس کا
مشکل الفاظ کے معانی:
بت خانہ: مندر، بتوں کی جگہ
قیام: رہائش، ٹھہرنا
ٹوٹا ہوا دل: عاجز اور غم زدہ دل
مفہوم:
اللہ کو پانے کے لیے ظاہری عبادت گاہوں میں بھٹکنے کی ضرورت نہیں، وہ تو انسان کے عاجز اور دکھی دل میں بستا ہے۔
تشریح:
اس شعر میں تصوف کا ایک بہت ہی خوبصورت پہلو بیان کیا گیا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی خاص عمارت یا جغرافیائی مقام کا پابند نہیں ہے۔ اگرچہ کعبہ اللہ کا گھر ہے، لیکن اللہ کی حقیقی پہچان اور اس کا قرب انسان کے اپنے دل کے اندر پوشیدہ ہے۔ شاعر سوال کرتے ہیں کہ میں اسے کعبہ یا بت خانوں میں کیوں تلاش کروں؟ جبکہ اس نے خود فرمایا ہے کہ میں ٹوٹے ہوئے دلوں میں رہتا ہوں۔ “ٹوٹا ہوا دل” اس بندے کا دل ہے جو انا اور تکبر سے پاک ہو، جو اپنی عاجزی کا اعتراف کرے اور اللہ کے سامنے جھک جائے۔ جب انسان دنیا کے تمام سہاروں سے مایوس ہو کر اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے تو اسے اپنے اندر ایک سکون محسوس ہوتا ہے، یہی اللہ کا قرب ہے۔ اللہ تعالیٰ کی تجلیات کا اصل مرکز انسانی قلب ہے۔ اگر دل میں اللہ کی محبت موجود نہیں تو ظاہری عبادتیں محض ایک رسم رہ جاتی ہیں۔ مولانا ظفر علی خان یہاں یہ سبق دے رہے ہیں کہ انسانوں کے دل نہ دکھاؤ کیونکہ اللہ وہاں بستا ہے۔ اللہ کی تلاش کا راستہ خدمتِ خلق اور اپنے باطن کی صفائی سے گزرتا ہے۔ جب دل آئینے کی طرح صاف ہو جاتا ہے تو اس میں اللہ کا نور نظر آنے لگتا ہے۔
شعر نمبر 5
مری افتاد کی بھی میرے حق میں اس کی رحمت تھی
کہ گرتے گرتے بھی میں نے لیا دامن ہے تھام اس کا
مشکل الفاظ کے معانی:
افتاد: مصیبت، مشکل، زوال
حق میں: بھلائی میں
دامن تھامنا: سہارا لینا، پناہ لینا
مفہوم:
میری زندگی میں آنے والی مشکلات دراصل اللہ کی رحمت تھیں، کیونکہ ان ہی مصائب کی وجہ سے میں نے گرتے گرتے اللہ کا دامن پکڑ لیا اور اس کی طرف مائل ہوا۔
تشریح:
اس شعر میں شاعر نے مصائب اور مشکلات کے ایک مثبت پہلو کو اجاگر کیا ہے۔ عام طور پر انسان مصیبت آنے پر پریشان ہو جاتا ہے، لیکن مولانا ظفر علی خان کہتے ہیں کہ میری “افتاد” یعنی میری ناکامی یا میرا زوال دراصل میرے لیے اللہ کی رحمت ثابت ہوا۔ انسان جب خوش حالی میں ہوتا ہے تو اکثر اللہ کو بھول جاتا ہے اور غفلت کا شکار ہو جاتا ہے۔ لیکن جب اس پر کوئی مشکل گھڑی آتی ہے اور اسے دنیاوی سہارے ٹوٹتے نظر آتے ہیں، تو وہ بے اختیار اللہ کو پکارتا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ جب میں گناہوں کی وجہ سے یا دنیاوی حالات کی وجہ سے تباہی کے دہانے پر تھا اور گرنے والا تھا، تو اسی مشکل نے مجھے مجبور کیا کہ میں اللہ کے دامنِ رحمت کو مضبوطی سے تھام لوں۔ اگر وہ مصیبت نہ آتی تو شاید میں کبھی اللہ کی طرف رجوع نہ کرتا۔ یہ اللہ کا کرم ہے کہ وہ اپنے بندے کو بھٹکنے سے بچانے کے لیے کبھی کبھی اس پر سختی کرتا ہے تاکہ بندہ پلٹ کر اپنے خالق کے پاس آ جائے۔ اس طرح وہ مصیبت ظاہراً تکلیف دہ تھی لیکن باطن میں وہ ایک بہت بڑی نعمت بن گئی کیونکہ اس نے مجھے اللہ کے قریب کر دیا۔
شعر نمبر 6
وہ خود بھی بے نشاں ہے زخم بھی ہیں بے نشاں اس کے
دیا ہے اس نے جو چرکا نہیں ہے التیام اس کا
مشکل الفاظ کے معانی:
بے نشاں: جس کا کوئی ظاہری نشان نہ ہو
چرکا: زخم، کٹ
التیام: زخم کا بھرنا، ٹھیک ہونا
مفہوم:
اللہ کی ذات ظاہری آنکھ سے اوجھل ہے اور اس کی محبت کا زخم بھی پوشیدہ ہے۔ اس کی محبت میں جو تڑپ ملتی ہے، وہ کبھی ختم ہونے والی نہیں ہے۔
تشریح:
شاعر کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات دکھائی نہیں دیتی، وہ “بے نشاں” ہے، لیکن اس کی نشانیاں کائنات میں ہر جگہ موجود ہیں۔ اسی طرح جو لوگ اللہ سے سچی محبت کرتے ہیں، ان کے دلوں پر اللہ کی محبت کا ایک ایسا زخم ہوتا ہے جو کسی کو نظر نہیں آتا۔ یہ “چرکا” یا زخم دراصل عشقِ الہیٰ کی تڑپ اور جستجو ہے۔ دنیاوی زخم تو مرہم لگانے سے ٹھیک ہو جاتے ہیں اور ان کا “التیام” (بھرنا) ممکن ہے، لیکن اللہ کی محبت کا جو زخم دل پر لگتا ہے، وہ کبھی نہیں بھرتا بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ اس کی مٹھاس اور تڑپ بڑھتی جاتی ہے۔ ایک سچا عاشقِ الہیٰ کبھی نہیں چاہتا کہ اس کے دل سے اللہ کی یاد کا یہ درد ختم ہو، کیونکہ یہی درد اس کی زندگی کا اصل سرمایہ ہے۔ یہ زخم مادی نہیں بلکہ روحانی ہے، اس لیے اس کا علاج بھی دنیاوی دواؤں میں نہیں بلکہ اللہ کے ذکر اور اس کے قرب میں ہے۔ شاعر نے یہاں اللہ اور بندے کے درمیان محبت کے اس لطیف تعلق کو بیان کیا ہے جو خاموشی سے انسان کی کایا پلٹ دیتا ہے۔
شعر نمبر 7
نہ جا اس کے تحمل پر کہ ہے اب ڈھب گرفت اس کی
ڈر اس کی دیر گیری سے کہ ہے سخت انتقام اس کا
مشکل الفاظ کے معانی:
تحمل: صبر، بردباری
ان ڈھب: انوکھا، بے مثال، سخت
گرفت: پکڑ
دیر گیری: دیر سے پکڑنا (مہلت دینا)
مفہوم:
اللہ کے صبر کو دیکھ کر دھوکا نہ کھاؤ، کیونکہ جب وہ پکڑتا ہے تو اس کی پکڑ بہت سخت ہوتی ہے۔ وہ مہلت ضرور دیتا ہے لیکن جب سزا دیتا ہے تو کوئی بچ نہیں سکتا۔
تشریح:
حمد کے آخری شعر میں مولانا ظفر علی خان اللہ تعالیٰ کی صفتِ قہاریت اور اس کے عدل و انصاف کا ذکر کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ بہت صابر اور حلیم ہے، وہ گناہگاروں کو فوراً سزا نہیں دیتا بلکہ انہیں توبہ کی مہلت دیتا ہے۔ لیکن انسان کو اللہ کے اس “تحمل” (صبر) سے غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے اور اسے اللہ کی کمزوری یا غفلت نہیں سمجھنا چاہیے۔ شاعر خبردار کرتے ہیں کہ اللہ کی “گرفت” یعنی اس کی پکڑ کا انداز بہت انوکھا اور سخت ہے۔ جب وہ پکڑنے پر آتا ہے تو پھر کوئی زور اور کوئی سفارش کام نہیں آتی۔ اللہ کی “دیر گیری” کا مطلب یہ ہے کہ وہ رسی دراز رکھتا ہے تاکہ انسان سنبھل جائے، لیکن اگر انسان حد سے گزر جائے تو پھر اللہ کا “سخت انتقام” شروع ہوتا ہے۔ یہ انتقام اس کے عدل کا تقاضا ہے۔ تاریخ ایسی قوموں کی داستانوں سے بھری پڑی ہے جنہیں اللہ نے مہلت دی لیکن جب انہوں نے سرکشی کی تو وہ عبرت کا نشان بنا دی گئیں۔ اس لیے انسان کو ہر وقت اللہ سے ڈرتے رہنا چاہیے اور اس کی دی ہوئی مہلت سے فائدہ اٹھا کر نیکی کی طرف آنا چاہیے۔