ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے
ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے تمہیں کہو کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے نہ شعلہ میں یہ کرشمہ نہ برق میں یہ ادا کوئی بتاؤ کہ وہ شوخ تند خو کیا ہے یہ رشک ہے کہ وہ ہوتا
ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے تمہیں کہو کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے نہ شعلہ میں یہ کرشمہ نہ برق میں یہ ادا کوئی بتاؤ کہ وہ شوخ تند خو کیا ہے یہ رشک ہے کہ وہ ہوتا
فقیرانہ آئے صدا کر چلے میر تقی میر اردو شاعری کے وہ آفتاب ہیں جنہیں “خدائے سخن” کہا جاتا ہے۔ ان کی شاعری میں جو سوز و گداز اور سادگی ہے، وہ کسی اور کے ہاں ملنا محال ہے۔ آپ کی فرمائش کے مطابق اس شاہکار غزل کی مکمل تشریح پیشِ خدمت ہے۔ شعر نمبر
فقیرانہ آئے صدا کر چلے فقیرانہ آئے صدا کر چلے کہ میاں خوش رہو ہم دعا کر چلے جو تجھ بن نہ جینے کو کہتے تھے ہم سو اس عہد کو اب وفا کر چلے شفا اپنی تقدیر ہی میں نہ تھی کہ مقدور تک تو دوا کر چلے پڑے ایسے اسباب پایان کار کہ
عشرتِ زیست کہاں غم کے ہنر ہونے تک قابلِ اجمیری کی یہ غزل اردو ادب کے کلاسیکی رنگ اور جدید لب و لہجے کا ایک بہترین امتزاج ہے۔ آپ کی ہدایات کے مطابق، فراہم کردہ اشعار کی مکمل تشریح اور دیگر تفصیلات ذیل میں درج ہیں: شعر نمبر 1 عشرتِ زیست کہاں غم کے ہنر
عشرتِ زیست کہاں غم کے ہنر ہونے تک عشرت زیست کہاں غم کے ہنر ہونے تک پھول بھی ہنس نہ سکے چاک جگر ہونے تک رات کٹ جائے گی چھا جائے گا زنداں پر سکوت شور زنجیر ہے دیوار میں در ہونے تک ظلمت و نور میں تفریق ابھی مشکل ہے رات سو رنگ بدلتی
دوست بن کر بھی نہیں ساتھ نبھانے والا احمد فراز اردو شاعری کا وہ معتبر نام ہیں جن کی غزلوں میں جہاں رومانوی رنگ نمایاں ہے، وہاں زمانے کی تلخیوں اور انسانی رویوں کی عکاسی بھی بڑے خوبصورت انداز میں ملتی ہے۔ آپ کی فرمائش کے مطابق اس غزل کی مکمل تشریح، معانی اور مفہوم
دوست بن کر بھی نہیں ساتھ نبھانے والا دوست بن کر بھی نہیں ساتھ نبھانے والا وہی انداز ہے ظالم کا زمانے والا اب اسے لوگ سمجھتے ہیں گرفتار مرا سخت نادم ہے مجھے دام میں لانے والا صبح دم چھوڑ گیا نکہت گل کی صورت رات کو غنچۂ دل میں سمٹ آنے والا کیا
اب دل ہے مقام بے کسی کا داغ دہلوی کی یہ غزل سہلِ ممتنع (سادہ مگر مشکل) کا بہترین نمونہ ہے۔ داغ اپنی صفائیِ زبان اور محاورہ بندی کے لیے مشہور ہیں، اور اس غزل میں انہوں نے عشق کے نازک جذبات کو بہت ہی دلنشین انداز میں بیان کیا ہے۔ ذیل میں اس غزل
نہ اب دل ہے مقام بے کسی کا اب دل ہے مقام بے کسی کا یوں گھر نہ تباہ ہو کسی کا کس کس کو مزا ہے عاشقی کا تم نام تو لُو بھلا کسی کا پھر دیکھتے عیش آدمی کا بنتا جو فلک مری خوشی کا گلشن میں ترے لبوں نے گویا رس چوس
دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں مرزا غالب کی یہ غزل اردو ادب کے شاہکار پاروں میں سے ایک ہے۔ اس میں انسانی جذبات، فلسفہِ زندگی اور عشق کے نازک پہلوؤں کو جس مہارت سے بیان کیا گیا ہے، وہ صرف غالب کا ہی خاصہ ہے۔ ذیل