ہونٹوں پہ کبھی ان کے مرا نام ہی آئے

اردو ادب کی مایہ ناز شاعرہ اداؔ جعفری کی یہ غزل تغزل، حزن اور وفاداری کی خوبصورت مثال ہے۔ ذیل میں ان کا تعارف اور غزل کی مکمل تشریح پیش ہے۔
تعارفِ شاعرہ: اداؔ جعفری
اداؔ جعفری (1924–2012) اردو ادب کی پہلی معتبر اور مستند شاعرہ تسلیم کی جاتی ہیں، جنہیں “اردو شاعری کی خاتونِ اول” کا خطاب دیا گیا۔ ان کا اصل نام عزیز جہاں تھا۔ انہوں نے ایک ایسے دور میں شاعری شروع کی جب خواتین کے لیے ادبی محفلوں میں اپنی آواز بلند کرنا آسان نہ تھا۔ ان کے کلام میں نسائی احساسات، گھریلو زندگی کی اقدار اور انسانی نفسیات کی گہری عکاسی ملتی ہے۔ ان کا اسلوب سادہ مگر پر اثر ہے، جس میں کلاسیکی رنگ کے ساتھ ساتھ جدیدیت کا توازن بھی موجود ہے۔ ان کے مشہور شعری مجموعوں میں “میں ساز ڈھونڈتی رہی”، “شہرِ درد” اور “غزالاں تم تو واقف ہو” شامل ہیں۔
ادا جعفری کے بارے میں مزید تفصیل سے پڑھنے کے لیے اس لنک کو ملاحظہ فرمائیں ۔
https://tinyurl.com/2evnwbf5
غزل کی تشریح
شعر نمبر 1
ہونٹوں پہ کبھی ان کے مرا نام ہی آئے
آئے تو سہی بر سرِ الزام ہی آئے
مشکل الفاظ کے معانی:
بر سرِ الزام: کسی جرم یا الزام کے تحت، شکایت کے طور پر۔
مفہوم:
شاعرہ تمنا کرتی ہیں کہ محبوب کی زبان پر ان کا ذکر ہو، چاہے وہ ذکر محبت کا نہ ہو بلکہ گلے شکوے یا الزام کی صورت میں ہی کیوں نہ ہو۔
تشریح:
اس شعر میں اداؔ جعفری نے عشق کی اس نفسیاتی کیفیت کو بیان کیا ہے جہاں عاشق کے لیے محبوب کی خاموشی اور بے رخی ناقابلِ برداشت ہو جاتی ہے۔ انسانی فطرت ہے کہ وہ جس سے محبت کرتا ہے، اس کی توجہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔ شاعرہ کہتی ہیں کہ مجھے یہ تمنا نہیں کہ میرا محبوب میری تعریف کرے یا مجھ سے اظہارِ محبت کرے، بلکہ میری تڑپ صرف اتنی ہے کہ اس کے لبوں پر میرا نام تو آئے۔ اگر وہ مجھے برا بھلا کہنا چاہتا ہے یا مجھ پر کوئی الزام لگانا چاہتا ہے، تو مجھے وہ بھی قبول ہے کیونکہ اس بہانے کم از کم اس کی توجہ میری طرف تو ہوگی۔ خاموشی سے بہتر ہے کہ وہ مجھ سے مخاطب ہو، چاہے وہ مخاطبت غصے میں ہی کیوں نہ ہو۔ یہ شعر محبوب کی بے نیازی کے خلاف ایک احتجاج ہے جہاں عاشق اپنی ہستی کا احساس دلانے کے لیے الزام سہنے کو بھی تیار ہے۔
بقولِ شاعر:
گالی سہی، ادا سہی، لغزش سہی، مگر
کچھ تو ہو التفات کہ جی بہل جائے
شعر نمبر 2
حیران ہیں لب بستہ ہیں دلگیر ہیں غنچے
خوشبو کی زبانی ترا پیغام ہی آئے
مشکل الفاظ کے معانی:
لب بستہ: خاموش، بند ہونٹ۔
دلگیر: اداس، غمگین۔
خوشبو کی زبانی: استعارہ ہے لطیف پیغام رسانی کا۔
مفہوم:
گلشن کے تمام پھول محبوب کے انتظار میں خاموش اور اداس ہیں، کاش خوشبو کے جھونکے محبوب کا کوئی پیغام لے آئیں۔
تشریح:
اس شعر میں شاعرہ نے فطرت کے مناظر کو انسانی جذبات کا ترجمان بنایا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ محبوب کے فراق میں صرف میں ہی اداس نہیں ہوں بلکہ باغ کے غنچے بھی حیرانی اور پریشانی کی کیفیت میں ہیں۔ وہ کھلنے سے قاصر ہیں اور یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ کسی خوشخبری کے منتظر ہوں۔ یہاں “لب بستہ” ہونا ان کی خاموشی اور انتظار کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔ شاعرہ کی خواہش ہے کہ اگر محبوب خود نہیں آ سکتا یا براہِ راست کوئی پیغام نہیں بھیج سکتا، تو کم از کم بادِ صبا یا خوشبو کے ذریعے اپنی خیریت یا یاد کا کوئی لطیف اشارہ ہی بھیج دے۔ یہ شعر اس عالمِ یاس کو ظاہر کرتا ہے جہاں انسان فطرت کی ہر شے سے اپنے محبوب کا پتہ پوچھتا ہے۔ خوشبو کو پیغام رساں بنانا اردو شاعری کی ایک خوبصورت روایت ہے جسے اداؔ جعفری نے مہارت سے استعمال کیا ہے۔
بقولِ شاعر:
پھول تو کھلتے رہیں گے گلشن میں مگر
تیری یاد کی خوشبو کا پیغام الگ ہے
شعر نمبر 3
لمحاتِ مسرت ہیں تصور سے گریزاں
یاد آئے ہیں جب بھی غم و آلام ہی آئے
مشکل الفاظ کے معانی:
لمحاتِ مسرت: خوشی کے پل۔
تصور سے گریزاں: خیال میں بھی نہ آنا، دور بھاگنا۔
غم و آلام: دکھ اور تکلیفیں۔
مفہوم:
میری زندگی میں خوشی کے لمحات تو خیالوں میں بھی نہیں آتے، جب بھی یادوں کا دفتر کھلتا ہے تو صرف دکھ ہی سامنے آتے ہیں۔
تشریح:
زندگی میں غم اور خوشی کا ساتھ چولی دامن کا ہے، لیکن زیرِ تشریح شعر میں شاعرہ اپنی زندگی کی اس محرومی کا ذکر کر رہی ہیں جہاں غموں کا غلبہ ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ اب تو عالم یہ ہے کہ اگر میں چاہوں کہ کچھ دیر کے لیے خوشی کا تصور کروں، تو وہ مسرت کے لمحات میرے خیال کی گرفت میں بھی نہیں آتے۔ خوشی جیسے مجھ سے روٹھ گئی ہے اور میرے ذہن سے اس کی تصویر تک مٹ گئی ہے۔ اس کے برعکس، میری یادوں میں صرف دکھوں، تکلیفوں اور پریشانیوں کا ہجوم رہتا ہے۔ جب بھی میں اپنی ماضی کی طرف دیکھتی ہوں یا اپنی زندگی کا حساب کرتی ہوں، تو غم و آلام کی ایک طویل فہرست سامنے آ جاتی ہے۔ یہ شعر انسانی زندگی کے اس المیے کی عکاسی کرتا ہے جہاں انسان مسلسل دکھوں سے لڑتے لڑتے خوشی کے احساس سے ہی ناآشنا ہو جاتا ہے۔
بقولِ شاعر:
غمِ دنیا بھی غمِ یار میں شامل کر لو
نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو ملا لی جائیں
شعر نمبر 4
تاروں سے سجا لیں گے رہِ شہرِ تمنا
مقدور نہیں صبح چلو شام ہی آئے
مشکل الفاظ کے معانی:
رہِ شہرِ تمنا: خواہشات کے شہر کا راستہ۔
مقدور: بس میں ہونا، قدرت رکھنا۔
مفہوم:
اگر ہماری قسمت میں مکمل کامیابی یا روشنی (صبح) نہیں ہے، تو ہم شام کی تاریکی میں ستاروں سے اپنے راستے سجا لیں گے۔
تشریح:
یہ شعر مایوسی کے اندھیروں میں امید کی ایک کرن ہے۔ شاعرہ کہتی ہیں کہ اگر ہماری قسمت اتنی یاوری نہیں کرتی کہ ہمیں مکمل کامیابی یا “صبحِ مسرت” دیکھنا نصیب ہو، تو ہمیں اس پر واویلا کرنے کی ضرورت نہیں۔ اگر ہمارے نصیب میں شام کی سیاہی لکھی ہے، تو ہم اسی شام کو تاروں کی روشنی سے منور کر لیں گے۔ یہاں “صبح” سے مراد منزل کا مل جانا ہے اور “تارے” ان چھوٹی چھوٹی امیدوں یا یادوں کی علامت ہیں جو انسان کو زندہ رکھتی ہیں۔ یہ شعر ایک بہادرانہ رویے کی عکاسی کرتا ہے کہ حالات جیسے بھی ہوں، انسان کو ان میں جینے کا ڈھنگ ڈھونڈنا چاہیے۔ اگر بڑی خوشیاں مقدر میں نہیں ہیں، تو چھوٹی چھوٹی خوشیوں اور یادوں کے سہارے زندگی کا راستہ طے کیا جا سکتا ہے۔
بقولِ شاعر:
چراغِ طور تو روشن ہے ہر سو
مگر اپنی نظر اپنی نظر ہے
شعر نمبر 5
کیا راہ بدلنے کا گلہ ہم سفروں سے
جس رہ سے چلے تیرے در و بام ہی آئے
مشکل الفاظ کے معانی:
گلہ: شکایت۔
در و بام: دروازے اور دیواریں (گھر)۔
مفہوم:
میں اپنے ساتھ چلنے والوں سے راستہ بدل لینے کی شکایت کیوں کروں؟ میں جس راستے پر بھی چلوں، میری منزل تو تیری گلی ہی ہے۔
تشریح:
اس شعر میں عشق کی استقامت اور مرکزیت کو بیان کیا گیا ہے۔ شاعرہ کہتی ہیں کہ سفرِ زندگی میں بہت سے لوگ ساتھ چلے لیکن حالات کی سختی دیکھ کر انہوں نے اپنے راستے بدل لیے۔ مجھے ان ہم سفروں سے کوئی شکایت نہیں ہے کیونکہ ان کی منزل شاید کچھ اور تھی۔ لیکن میرا معاملہ مختلف ہے، میں نے جس سمت بھی قدم اٹھایا اور جس راستے کو بھی اپنایا، وہ راستہ گھوم پھر کر تیرے ہی در و دیوار تک لے آیا۔ یعنی میری زندگی کے تمام راستوں کا محور اور مرکز صرف تیری ذات ہے۔ جب انسان کسی کی محبت میں فنا ہو جاتا ہے تو اس کے لیے کائنات کے تمام راستے محبوب کی گلی کی طرف ہی مڑ جاتے ہیں۔ یہ شعر وفاداری کے اس درجے کو ظاہر کرتا ہے جہاں انسان بھٹکنے کے بعد بھی وہیں پہنچتا ہے جہاں اسے پہنچنا چاہیے۔
بقولِ شاعر:
یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصح
کوئی چارہ ساز ہوتا، کوئی غم گسار ہوتا
شعر نمبر 6
تھک ہار کے بیٹھے ہیں سرِ کوئے تمنا
کام آئے تو پھر جذبۂ ناکام ہی آئے
مشکل الفاظ کے معانی:
سرِ کوئے تمنا: خواہش کی گلی کے موڑ پر۔
جذبۂ ناکام: وہ جذبہ جس میں کامیابی حاصل نہ ہوئی ہو۔
مفہوم:
ہم خواہشوں کی گلی میں تھک کر بیٹھ گئے ہیں، اب اس موڑ پر ہماری ناکامی کا دکھ ہی ہمارا سہارا بنے گا۔
تشریح:
اس شعر میں انسانی بے بسی اور عشق میں ملنے والی شکست کا تذکرہ ہے۔ شاعرہ کہتی ہیں کہ ہم نے زندگی بھر اپنی خواہشات کے پیچھے دوڑ لگائی اور محبوب کو پانے کی ہر ممکن کوشش کی، لیکن اب تھکن ہمارے وجود میں اتر چکی ہے۔ اب ہم اس تمنا کی گلی میں ہمت ہار کر بیٹھ گئے ہیں۔ جب انسان ہر طرف سے مایوس ہو جاتا ہے، تو اس کی “ناکامی” ہی اس کا کل اثاثہ بن جاتی ہے۔ یعنی وہ درد جو اسے اس راہ میں ملا، وہی اب اسے سکون فراہم کرے گا۔ کبھی کبھی ناکامی بھی انسان کو ایک عجیب قسم کا استغنا اور سکون بخش دیتی ہے کہ اب پانے کے لیے کچھ باقی نہیں رہا۔ یہاں “جذبۂ ناکام” کو کام آنے والا قرار دینا اس بات کی علامت ہے کہ سچی محبت میں ناکامی بھی ایک قیمتی تجربہ ہوتی ہے جو انسان کی شخصیت کو وقار بخشتی ہے۔
بقولِ شاعر:
کبھی کبھی تو یہ لگتا ہے کچھ نہیں باقی
کبھی کبھی تو ہر اک شے کمال لگتی ہے
شعر نمبر 7
باقی نہ رہے ساکھ اداؔ دشتِ جنوں کی
دل میں اگر اندیشۂ انجام ہی آئے
مشکل الفاظ کے معانی:
ساکھ: عزت، اعتبار۔
دشتِ جنوں: پاگل پن یا عشق کا صحرا۔
اندیشۂ انجام: انجام کا ڈر، نتیجے کا خوف۔
مفہوم:
اے اداؔ! اگر عشق کی راہ میں انسان انجام کے بارے میں سوچنے لگے، تو پھر عشق (جنون) کی ساکھ اور وقار ختم ہو جاتا ہے۔
تشریح:
یہ غزل کا مقطع ہے جس میں اداؔ جعفری نے عشق اور جنون کے فلسفے کو بیان کیا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ عشق کا دوسرا نام بے باکی اور بے خوفی ہے۔ اگر کوئی شخص عشق کی راہ پر چلتے ہوئے یہ سوچے کہ اس کا انجام کیا ہوگا، اسے کیا ملے گا اور وہ کہاں برباد ہوگا، تو پھر وہ عاشق نہیں بلکہ ایک تاجر ہے۔ جنون کی یہ شرط ہے کہ انسان انجام سے بے نیاز ہو کر کود پڑے۔ اگر دل میں ذرا سا بھی خوف یا انجام کا خیال آ جائے، تو وہ “جنون” نہیں رہتا بلکہ مصلحت پسندی بن جاتی ہے۔ عشق کے صحرا کی لاج اسی وقت رہتی ہے جب عاشق اپنی ہستی کو مٹا دینے کا حوصلہ رکھتا ہو۔ یہ شعر ہمیں سکھاتا ہے کہ بڑے مقاصد اور سچی محبت کے لیے نفع و نقصان کی فکر چھوڑنی پڑتی ہے۔
بقولِ شاعر:
بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق
عقل ہے محوِ تماشائے لبِ بام ابھی