خدا سرسبز رکھے اس چمن کو مہرباں ہوکر

خدا سرسبز رکھے اس چمن کو مہرباں ہوکر

حضرت اکبر الہ آبادی کی یہ خوبصورت نظم فطرت کی عکاسی اور معرفتِ الٰہی کا ایک حسین امتزاج ہے۔ ذیل میں  شاعر کا تعارف اور اشعار کی مفصل تشریح پیش ہے۔

شاعر کا تعارف: اکبر الہ آبادی

اکبر الہ ابادی ہندوستانی زبان اور ہندوستانی تہذیب کے بڑے مضبوط اور دلیر شاعر تھے۔ ان کے کلام میں شمالی ہندوسان میں رہنے بسنے والوں کی تمام ذہنی و اخلاقی قدروں ، تہذیبی کارناموں ، سیاسی تحریکوں ،اور حکومتی کارروائیوں کے بھرپور سراغ ملتے ہیں۔ اکبر کی شاعری زمانہ اور زندگی کا آئینہ ہے۔ ان کا انداز بیان کہیں کہیں قلندرانہ، کہیں شاعرانہ، کہیں تراش خراش کے ساتھ، کہیں سادہ، کہیں روایتی اور کہیں جدت پسندانہ اور انقلابی ہے۔ اکبر روایتی ہوتے ہوئے بھی باغی تھے اور باغی ہوتے ہوئے بھی اصلاحی۔ وہ شاعر تھے ،شور نہیں مچاتے تھے۔ خواص اور عوام دونوں ان کو اپنا شاعر سمجھتے تھے۔ان کی شاعری دونوں کے ذوق کو سیراب کرتی ہے۔ان کا کلام مکمل اردو کا کلام ہے ۔ شمس الرحمٰن فاروقی کے مطابق میر تقی میر کے بعد اکبر الہ ابادی نے اپنے کلام میں اردو  زبان کے سب سے زیادہ الفاظ استعمال کئے ہیں۔ اکبر شاعر پہلے تھے کچھ اور بعد میں۔ انھوں نے اپنے عہد میں نہ مولویوں کو منہ لگایا نہ مغرب کی برکات سے مرعوب ہوئے، نہ انگریز حاکموں کی پروا کی اور نہ لیڈروں کو خاطر میں لائے۔ اس عہد میں کوئی شخص ایسا نہ تھا  جس نے انگریز کا ملازم ہوتے ہوئے اس کی ایسی خبر لی ہو جیسی اکبر نے لی۔

اکبر کی شاعری کو محض مزاحیہ شاعری کے کھاتتے میں ڈال دینا اکبر کے ساتھ ہی نہیں اردو شاعری کے ساتھ بھی نا انصافی ہے۔ غزل قطعہ، رباعی اور نظموں کی شکل میں اکبر نے جتنا عمدہ کلام چھوڑا ویسا جدید دور کے کسی شاعر کے ہاں موجود نہیں ۔انھوں نے غزل کی روائتی صنف میں انقلابی تجربے کئے۔وہ ہیئت کے تجربے قبول کرنے میں اتنے آگے نکل گئے کہ ایک ہی نظم میں مختلف بحور اور اصناف کو یکجا کر دیا۔انھوں نے بلینک ورس (معری نظم) میں بھی طبع آزمائی کی اور اپنے عہد کے دوسرے شاعروں سے بہتر آزاد نظمیں لکھیں۔ اس سلسلہ میں ان کی نظم “ایک کیڑا ” معرکہ کی چیز ہے۔ان کی نظموں میں تنوع اور فنکاری کی جو آمیزش ہے وہ اقبال کے سوا اردو کے  کسی شاعر کے ہاں نہیں ملتی۔ اکبر پہلے شاعر ہیں جنھوں نے زبان کے عام الفاظ اونٹ،گاے،شیخ ،مرزا، انجن وغیرہ کا علامتی استعمال کیا اور اردو میں علامتی شاعری کی راہ ہموار کی۔ ادبی ذوق رکھنے والوں کے لئے ان کے کلام میں خوش فکری،بذلہ سنجی،زبان و خیال پر قدرت،صنائع لفظی و معنوی سبھی کچھ ہے۔غور و فکر کرنے والوں کے لئے انھوں نے معاشرت اور تمدّن کی پیچیدگیوں اور فلسفہ ء جسم و روح کی حقیقتوں سے پردہ اٹھایا ہے اور سیاست دانوں کوتو انھوں نے  ان کا اصل چہرہ دکھایا ہے۔ اکبر پہلے شاعر ہیں جن کے  ہاں عورت کبھی نازنینان فرنگ اورکبھی  تھیٹر والیوں کی شکل میں ،اپنے پورے وجود کے ساتھ خود کو دکھاتی ہوئی نظر آتی ہے اور جو اردو شاعری کی روائتی محبوباؤن سے بالکل مختلف ہے۔ عشق و رومان کے مقابلہ میں  بصری تلذّذ کا جو انداز اکبر کے یہاں ملتا ہے وہ اردو شاعری میں انوکھی چیز اور اپنی مثال آپ ہے۔ اکبر اردو کے پہلے شاعر ہیں جس کا دل تو بہتوں پر آتا ہے (مرا جس پارسی لیڈی پہ دل آیا ہے اے اکبر *** جو سچ پوچھو تو حسن بمبئی ہے اسکی صورت سے) لیکن جس کی اصل محبوبہ اک شادی شدہ عورت ہے جو اسکی اپنی بیوی ہے (اکبر ڈرے نہیں کبھی دشمن کی فوج سے *** لیکن شہید ہو گئے بیگم کی نوج سے) ۔اکبر کے “فرسٹ” کی فہرست کافی طویل ہے۔

سید اکبر حسین الہ ابادی 16 نومبر 1846ء کو ضلع الہ اباد کے قصبہ بارہ میں پیدا ہوئے۔والد تفضل حسین نائب تحصیلدار تھے۔ اکبر کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی۔آٹھ ،نو برس کی عمر میں انھوں نے فارسی اور عربی کی درسی کتابیں پڑھ لیں۔پھر ان کا داخلہ مشن اسکول میں کرایا گیا۔لیکن گھر کے مالی حالات اچھے نہ پہونے کی وجہ سے ان کو اسکول چھوڑ کر پندرہ سال کی ہی عمر میں ملازمت تلاش کرنا پڑی۔ اسی کم عمری میں ان کی شادی بھی خدیجہ خاتون نام کی اک دیہاتی لڑکی سے ہو گئی لیکن بیوی ان کو پسند نہیں آئیں۔ اسی عمر میں انھوں نے الہ اباد کی طوائفوں کے کوٹھون کے چکر لگانے شروع کر دئے۔ الہ اباد کی شاید ہی کوئی خوبصورت اور خوش گلو طوائف ہو جس کے پاس وہ نہ گئے ہوں، انھوں نے اک طوائف بوٹا جان سے شادی بھی کر لی لیکن اس کا جلد ہی انتقال ہو گیا جس کا اکبر کو صدمہ رہا۔۔ اکبر نے کچھ دنوں ریلوے کے اک ٹھیکیدار کے پاس 20 روپے ماہوار پر ملازمت کی پھر کچھ دنوں بعد وہ کام ختم ہو گیا۔ اسی زمانہ میں انھوں نے انگریزی میں کچھ مہارت حاصل کی اور 1867ء میں وکالت کا امتحان پاس کر لیا۔انھوں نے تین سال تک وکالت کی جس کے بعد وہ ھائی کورٹ کے مسل خواں بن گئے۔ اس عرصہ میں انھوں نے ججوں وکیلوں اور عدالت کی کارروائیوں کو گہرائی کے  ساتھ سمجھا۔ 1873 میں انھوں نے ہائی کورٹ کی وکالت کا امتحان پاس کیا۔ اور تھوڑے ہی عرصہ میں ان کا تقرر منصف کے عہدہ پر ہو گیا۔ اسی زمانہ میں ان کو شیعہ گھرانے کی ایک لڑکی  فاطمہ صغری پسند آ گئی جس سے انھوں نے شادی کر لی اور پہلی بیوی کو الگ کر دیا لیکن اس کو معمولی خرچ دیتے رہے۔ پہلی بیوی سے ان کے دو بیٹے تھے لیکن ان کی تعلیم و تربیت کی کوئی پروا نہیں کی۔ اور انھوں نے بڑی عسرت میں زندگی گزاری۔ ایک بیٹا تو باپ سے ملنے کی آرزو لئے دنیا سے چلا گیا لیکن وہ اسے دیکھنے نہیں گئے۔1888ء میں انھوں نے سب آردینیٹ جج اور پھر خفیفہ عدالت کے جج کے عہدہ پر رقی پائی۔اور علی گڑھ سمیت مخلف مقامات پر ان کے تبادلے ہوتے رہے۔ 1905ء میں وہ سیشن ججج کے عہدے سے ریٹائر ہوئے اور باقی زندگی الہ اباد میں گزاری۔ ریٹائرمنٹ کے بعد انکی دوسری بیوی زیادہ دن زندہ نہیں رہیں ۔اکبر اس صدمہ سے سنبھل نہیں پاے تھے کہ دوسرے بیوی کے بطن سے پیدا ہونے والا ان کا جواں سال بیٹا،جس سے ان کو بہت محبت تھی، چل بسا۔ ان صدمات نے ان کو پوری طرح توڑ کر رکھ دیا اور وہ مسلسل بیمار رہنے لگے۔فاطمہ صغری سے اپنے دوسرے بیٹے عشرت حسین کو انھوں نے لندن بھیج کر تعلیم دلائی۔ پہلی بیوی خدیجہ خاتون 1920ء تک زندہ رہیں لیکن ان کو “ؑعشرت منزل” میں قدم رکھنے کی کبھی اجازت نہیں ملی۔ 1907 میں حکومت نے اکبر کو “خان بہادر” کا خطاب دیا اور ان کو الہ باد یونیورٹی کا فیلو بھی بنایا گیا۔ اکبر نے 9 ستمبر 1921ء میں وفات پائی۔

اکبر کو اردو شاعری میں طنز ظرافت کا بادشاہ مانا جاتا ہے۔ان سے پہلے اردو شاعری میں طنز و مزاح ،ریختی یا ہجویات کے سوا،کوئی اہمیت اور تسلسل نہیں حاصل کر سکا تھا۔اکبر نے تیزی سے بدلے ہوے زمانہ کو ہوشیار کرنے کے لئے طنز و مزاح کی نئی وضع اختیار کی۔اکبر کی ظرافت  کا مقصد تفریح نہیں بلکہ اس میں اک خاص مقصد ہے۔اکبر کی دور اندیش نگاہوں نے دیکھا کہ دنیا بڑی تیزی سے بدل رہی ہے اور اس وقت جو طبقہ پیدا ہو رہا ہے اس کو مغرب پرستی بہاے لئے جا رہی ہے اور لوگ اپنی  ہندوستانی اقدار کو حقارت کی نگاہ سے دیکھنے لگے ہیں۔ انھوں نے اپنی شاعری کو ملک و قوم کی خدمت کی طرف موڑتے ہوئے اک نیا انداز اختیار کیا جس میں بظاہر تمسخر اورظرافت ہے لیکن اس کے باطن میں نصیحت اور تنقید ہے۔وہ اپنی شاعری کو جس رخ پر اور جس مقصد کے لئے لے کر چل رہے تھے اس کے لئے ضروری تھا کہ لب و لہجہ نیا ،دلکش اور دلپزیر ہو۔یہ اک ایسے شخص کا کلام ہے جس کے چہرہ پر شگفتگی اور تمسخر کے آثار ہیں مگر آواز میں ایسی آنچ ہے جو ظرافت کو پگھلا کر ،دلنشیں ہونے تک، متانت کا درجہ عطا کر دیتی  ہے۔ اکبر کے طنز کا ہدف کوئی فرد خاص نہیں ہوتا ۔ہر شخص اولا” یہی سمجھتا ہے کہ طنز کسی اور کی طرف ہے لیکن ہنس چکنے کے بعد زرا غور کرنے کے بعد احساس ہوتا ہے کہ اکبر نے ہم سبھوں کو مخاطب کیا تھا۔اور جس کو ہم مذاق سمجھ رہے تھے اس کی تہہ میں تنقید و نصیحت ہے۔بات کو اس نتیجہ تک پہنچانے میں اکبر نے بڑی صناعی سے کام لیا ہے۔ اکبر نے اردو شاعری کے تشنہء اظہار گوشوں کو پُر کیا ، اپنے عہد کے تقاضوں کو پورا کیا اور مستقبل کے شاعروں کے لئے نئی راہیں ہموار کیں۔ان کی  شاعری کی اہمیت ان کی شاعری کی خوبیوں سے بڑھ کر ہے۔

اکبر الہ آبادی کے بارے میں مزید تفصیل سے پڑھنے کے لیے اس لنک کو کھولیں ۔

https://urli.info/1s86b

شعر نمبر 1

بہار آئی ، کھلے گُل، زیب صحن ِبوستاں ہوکر

عنادل نے مچائی دھوم سرگرم فغاں ہوکر

مشکل الفاظ کے معانی:

زیب: زینت، خوبصورتی۔

صحنِ بوستاں: باغ کا آنگن۔

عنادل: عندلیب کی جمع (بلبلیں)۔

سرگرمِ فغاں: نالہ و فریاد یا چہچہانے میں مصروف۔

مفہوم:

باغ میں بہار کی آمد ہو چکی ہے، جس سے پھول کھل کر چمن کی زینت بن گئے ہیں اور بلبلیں اپنی سریلی آوازوں سے ہر طرف رونق مچا رہی ہیں۔

تشریح:

اس شعر میں اکبر الہ آبادی موسمِ بہار کی دلکشی کا نقشہ کھینچتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب خزاں کا دور ختم ہوا اور بہار نے قدم رکھا تو کائنات کا رنگ ہی بدل گیا۔ وہ پھول جو مرجھا چکے تھے، دوبارہ سے کھل اٹھے اور انہوں نے باغ کے آنگن کو اپنی موجودگی سے سجا دیا ہے۔ ہر طرف رنگ بکھر گئے ہیں اور خوشبوؤں کا راج ہے۔ شاعر نے یہاں لفظ “زیب” استعمال کیا ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ پھول محض پودے کا حصہ نہیں بلکہ وہ زمین کا زیور ہیں۔ بہار کی اس چہل پہل نے پرندوں کو بھی خاموش نہیں رہنے دیا۔ بلبلیں، جو بہار کی عاشق کہلاتی ہیں، وہ اس منظر کو دیکھ کر اس قدر مسرور ہیں کہ انہوں نے پورے باغ میں اپنی آوازوں سے ایک شور برپا کر رکھا ہے۔ ان کا یہ “فغاں” یا نالہ و شیون دراصل خوشی کا اظہار ہے، وہ اپنی نغمہ سرائی سے بہار کا استقبال کر رہی ہیں۔ یہ منظر فطرت کی اس تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے جو زندگی میں نئی امید اور جوش پیدا کرتی ہے۔ شاعر کے نزدیک بہار محض ایک موسم نہیں بلکہ رب کی صناعی کا ایک ایسا نمونہ ہے جو انسانی روح کو تازگی بخشتا ہے۔ باغ کا ہر گوشہ اس وقت زندگی کی علامت بن چکا ہے اور پرندوں کی چہچہاہٹ اس بات کا اعلان ہے کہ اب خاموشی اور اداسی کے دن لد گئے ہیں۔

شعر نمبر 2

بلائیں شاخ گل کی لیں نسیم صبحگاہی نے

ہوئیں کلیاں شگفتہ روئے رنگیں تپاں ہوکر

مشکل الفاظ کے معانی:

بلائیں لینا: صدقے جانا، محبت کا اظہار کرنا۔

نسیمِ صبحگاہی: صبح کی ٹھنڈی ہوا، صبا۔

شگفتہ: کھلی ہوئی، مسکراتی ہوئی۔

روئے رنگیں تپاں: تپتا ہوا یا چمکتا ہوا رنگین چہرہ۔

مفہوم:

صبح کی ٹھنڈی ہوا نے پھولوں کی شاخوں سے محبت کا اظہار کیا، جس کے اثر سے کلیاں چمکتے ہوئے چہروں کے ساتھ کھل کر پھول بن گئیں۔

تشریح:

اس شعر میں اکبر الہ آبادی نے بہت ہی لطیف استعارے استعمال کیے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ صبح کے وقت جب ٹھنڈی اور معطر ہوا (نسیم) چلتی ہے، تو وہ اس طرح شاخوں کو چھوتی ہے جیسے کوئی کسی کی بلائیں لے رہا ہو یا اس پر قربان ہو رہا ہو۔ یہ ہوا کا شاخوں سے ٹکرانا ایک فطری عمل ہے لیکن شاعر نے اسے ایک جذباتی اور محبت بھرے انداز میں پیش کیا ہے۔ ہوا کی اس نرم لمس اور محبت نے کلیوں میں جان ڈال دی ہے۔ وہ کلیاں جو رات بھر بند تھیں، صبح کی اس ٹھنڈک اور ہوا کے پیار سے اس طرح کھل اٹھیں جیسے کسی کا چہرہ خوشی سے تمتما اٹھتا ہے۔ “روئے رنگیں تپاں” کی اصطلاح استعمال کر کے شاعر نے پھولوں کی سرخی اور ان کی تابانی کو واضح کیا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے کلیوں کے اندر ایک جوشِ نمو چھپا ہوا تھا جو صبح کی ہوا کا لمس پا کر ظاہر ہو گیا۔ یہ شعر انسانی زندگی پر بھی صادق آتا ہے کہ جب کسی کو محبت اور توجہ ملتی ہے تو اس کی صلاحیتیں پھول کی طرح کھل جاتی ہیں۔ اکبر نے یہاں قدرت کے ایک خاموش عمل کو انسانی جذبات کا پیرایہ دے کر نہایت دلکش بنا دیا ہے، جس سے قاری کی آنکھوں کے سامنے ایک روشن اور مسکراتی ہوئی صبح کا منظر آ جاتا ہے۔

شعر نمبر 3

جوانانِ چمن نے اپنا اپنا رنگ دکھلایا

کسی نے یاسمن ہو کر، کسی نے ارغواں ہوکر

مشکل الفاظ کے معانی:

جوانانِ چمن: باغ کے جوان یعنی تازہ کھلے ہوئے پھول۔

یاسمن: چنبیلی کا پھول (سفید رنگ)۔

ارغواں: ایک سرخ رنگ کا پھول۔

مفہوم:

باغ کے تمام پھولوں نے اپنی اپنی انفرادیت اور خوبصورتی دکھائی؛ کوئی سفید چنبیلی بن کر چمکا تو کوئی سرخ ارغواں بن کر نمایاں ہوا۔

تشریح:

اکبر الہ آبادی اس شعر میں کائنات کی بوقلمونی اور تنوع (Diversity) کا ذکر کر رہے ہیں۔ وہ پھولوں کو “جوانانِ چمن” قرار دیتے ہیں، کیونکہ جوانی میں انسان کا جوش اور حسن عروج پر ہوتا ہے، بالکل اسی طرح بہار میں پھول اپنے پورے جوبن پر ہوتے ہیں۔ شاعر کہتے ہیں کہ ہر پھول نے اپنی بساط اور فطرت کے مطابق باغ کی خوبصورتی میں حصہ ڈالا ہے۔ کوئی پھول یاسمن (چنبیلی) کی صورت میں اپنی سفیدی اور پاکیزگی بکھیر رہا ہے، تو کوئی ارغوان بن کر اپنی سرخی سے دیکھنے والوں کی آنکھوں کو خیرہ کر رہا ہے۔ یہ تنوع ہی دراصل باغ کی اصل خوبصورتی ہے۔ اگر تمام پھول ایک ہی رنگ اور ایک ہی قسم کے ہوتے تو باغ اتنا دلکش نہ ہوتا۔ اس شعر کا ایک گہرا مطلب یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو مختلف صلاحیتیں اور مختلف مزاج عطا کیے ہیں۔ معاشرے کے گلستان میں ہر فرد کی اپنی ایک پہچان ہے، کوئی کسی شعبے میں کمال دکھاتا ہے تو کوئی کسی اور میں۔ جس طرح یاسمن اور ارغواں مل کر باغ بناتے ہیں، اسی طرح مختلف رنگ و نسل اور سوچ کے لوگ مل کر ایک خوبصورت معاشرہ تشکیل دیتے ہیں۔ شاعر ہمیں یہ سبق دے رہے ہیں کہ ہمیں اپنی فطری صلاحیتوں کو پہچان کر اپنا بہترین رنگ دکھانا چاہیے تاکہ دنیا کے اس چمن میں ہماری ایک پہچان بن سکے۔

شعر نمبر 4

کیا پھولوں نے شبنم سے وضو صحن ِگلستاں میں

صدائے نغمہء بلبل اٹھی بانگِ اذاں ہوکر

مشکل الفاظ کے معانی:

شبنم: اوس کے قطرے۔

وضو: نماز سے پہلے ہاتھ منہ دھونا (طہارت)۔

صدائے نغمہ: گیت کی آواز۔

بانگِ اذاں: نماز کے لیے پکار یا اذان کی آواز۔

مفہوم:

باغ کے صحن میں پھولوں نے شبنم کے قطروں سے وضو کیا اور اسی دوران بلبل کے گانے کی آواز اس طرح سنائی دی جیسے اذان ہو رہی ہو۔

تشریح:

یہ اس نظم کا سب سے زیادہ عارفانہ اور روحانی شعر ہے۔ یہاں اکبر الہ آبادی فطرت کے مناظر کو عبادتِ الٰہی کے رنگ میں رنگ دیتے ہیں۔ وہ تخیل کی آنکھ سے دیکھتے ہیں کہ صبح کے وقت پھولوں پر جو شبنم کے قطرے پڑے ہیں، وہ محض پانی کی بوندیں نہیں ہیں بلکہ وہ پھولوں کے لیے “وضو” کا سامان ہیں۔ گویا پھول بارگاہِ الٰہی میں سجدہ ریز ہونے کے لیے خود کو پاک کر رہے ہیں۔ اسی پاکیزہ ماحول میں جب بلبل چہچہاتی ہے، تو شاعر کو وہ محض ایک پرندے کا نغمہ نہیں لگتا، بلکہ وہ اسے “بانگِ اذاں” (اذان کی پکار) محسوس ہوتی ہے جو تمام مخلوقات کو اللہ کی طرف بلا رہی ہے۔ اکبر نے کائنات کے ذرے ذرے کو اللہ کا عبادت گزار دکھایا ہے۔ یہ منظر کشی اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ کائنات کی ہر چیز اپنے اپنے انداز میں اپنے خالق کی تسبیح بیان کرتی ہے۔ صبح کا وقت قبولیت اور عبادت کا وقت ہے، اور باغ کا یہ منظر ایک مسجد کے صحن جیسا تقدس اختیار کر گیا ہے۔ جہاں پھول نمازی ہیں، شبنم کا قطرہ پانی ہے اور بلبل مؤذن ہے۔ یہ شعر پڑھ کر قاری کے دل میں اللہ کی عظمت اور فطرت کے ساتھ ایک روحانی تعلق کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ شاعر نے مادی دنیا کو روحانی دنیا سے نہایت خوبصورتی کے ساتھ جوڑ دیا ہے۔

شعر نمبر 5

ہوائے شوق میں شاخیں جھکیں خالق کے سجدے کو

ہوئی تسبیح میں مصروف ہر پتی زباں ہوکر

مشکل الفاظ کے معانی:

ہوائے شوق: محبت اور اشتیاق کی ہوا یا جذبہ۔

خالق: پیدا کرنے والا (اللہ تعالیٰ)۔

تسبیح: اللہ کی پاکی بیان کرنا۔

مفہوم:

شوقِ بندگی میں درختوں کی شاخیں اپنے پیدا کرنے والے کے سامنے سجدے میں جھک گئیں اور ہر پتی زبان بن کر اللہ کی تسبیح کرنے لگی۔

تشریح:

پچھلے شعر کے تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے اکبر الہ آبادی یہاں مزید گہرائی میں جاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جب ہوا چلتی ہے اور درختوں کی شاخیں جھکتی ہیں، تو یہ محض ہوا کا دباؤ نہیں ہے بلکہ یہ “ہوائے شوق” ہے یعنی اللہ کی محبت کا وہ جذبہ ہے جو ان شاخوں کو اپنے خالق کے سامنے سجدہ ریز ہونے پر مجبور کر رہا ہے۔ شاعر نے فطرت کے ایک طبیعی عمل (ہوا سے شاخوں کا جھکنا) کو “سجدہ” قرار دے کر بندگی کا ایک اعلیٰ تصور پیش کیا ہے۔ مزید یہ کہ درخت کی ہر پتی، جو ہوا کی جنبش سے ہل رہی ہے، وہ گویا ایک “زبان” بن گئی ہے۔ یہ پتی خاموش نہیں ہے بلکہ یہ اللہ کی تسبیح و حمید میں مصروف ہے۔ اکبر الہ آبادی کے نزدیک کائنات کی کوئی بھی چیز بے کار یا بے مقصد نہیں ہے، بلکہ شجر و حجر سب اللہ کی یاد میں مگن ہیں۔ یہ تشریح قرآن پاک کی اس آیت کی ترجمانی کرتی ہے کہ “کائنات کی ہر چیز اللہ کی تسبیح بیان کرتی ہے مگر تم ان کی تسبیح کو سمجھ نہیں پاتے”۔ اس شعر کے ذریعے شاعر انسان کو جھنجھوڑ رہے ہیں کہ جب بے جان نظر آنے والی پتیاں اور شاخیں اپنے خالق کو نہیں بھولتی اور ہر لمحہ سجدے اور تسبیح میں گزارتی ہیں، تو اشرف المخلوقات ہونے کے ناطے انسان کو کس قدر اللہ کا شکر گزار اور عبادت گزار ہونا چاہیے۔

شعر نمبر 6

زبانِ برگ ِ گُل نے کی دعا رنگیں عبارت میں

خدا سرسبز رکھے اس چمن کو مہرباں ہوکر

مشکل الفاظ کے معانی:

برگِ گل: پھول کی پتی۔

رنگیں عبارت: خوبصورت اور پر اثر الفاظ۔

سرسبز: آباد، ہرا بھرا۔

مفہوم:

پھول کی پتیوں نے اپنی خوبصورت زبان میں یہ دعا مانگی کہ اے اللہ! تو اپنی مہربانی سے اس باغ کو ہمیشہ ہرا بھرا اور آباد رکھے۔

تشریح:

اس شعر میں اکبر الہ آبادی دعا کا ایک اچھوتا انداز اختیار کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ پھول کی رنگین پتیاں خود ایک “رنگیں عبارت” یا ایک خوبصورت تحریر کی مانند ہیں۔ ان پتیوں کی زبان سے ایک ہی دعا نکل رہی ہے اور وہ دعا اپنے وطن یا اپنے گلستاں کی بقا اور سلامتی کی ہے۔ پھول یہ دعا کر رہے ہیں کہ باری تعالیٰ اس چمن پر ہمیشہ اپنی رحمت کی بارش کرتا رہے اور اسے کبھی خزاں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ یہاں “چمن” سے مراد صرف باغ نہیں بلکہ شاعر کا ملک اور معاشرہ بھی ہو سکتا ہے۔ اکبر الہ آبادی ایک محبِ وطن شاعر تھے، لہٰذا وہ پھولوں کے واسطے سے یہ تمنا کر رہے ہیں کہ ان کا ملک ہمیشہ ترقی کرے، وہاں خوشحالی ہو اور لوگ بہار کی طرح ہنستے مسکراتے رہیں۔ “خدا مہرباں ہو کر” کے الفاظ ظاہر کرتے ہیں کہ ہماری ہر خوشی اور ہر ہریالی صرف اور صرف اللہ کے فضل و کرم کی مرہونِ منت ہے۔ بغیر اس کی مہربانی کے یہ چمن اجڑ سکتا ہے۔ یہ شعر انسان کو سکھاتا ہے کہ ہمیں نہ صرف اپنی ذات کے لیے بلکہ اپنے اردگرد کے ماحول اور اپنی قوم کی فلاح و بہبود کے لیے بھی دعاگو رہنا چاہیے۔ یہ ایک نہایت مثبت اور امید افزا پیغام ہے جو نظم کے اختتام کی طرف لے جاتا ہے۔

شعر نمبر 7

نگاہیں کاملوں پر پڑہی جاتی ہیں زمانے کی

کہیں چھپتا ہے اکبر پھول پتوں میں نہاں ہوکر

مشکل الفاظ کے معانی:

کاملوں: صاحبِ کمال، ماہر، بڑے لوگ۔

نہاں: چھپا ہوا۔

مفہوم:

دنیا کی نظریں ہمیشہ باصلاحیت اور بڑے لوگوں کو ڈھونڈ لیتی ہیں؛ اکبر خود کو پھولوں اور پتوں میں کتنا ہی کیوں نہ چھپا لے، اس کی پہچان چھپ نہیں سکتی۔

تشریح:

یہ نظم کا مقطع ہے جس میں اکبر الہ آبادی نے اپنا تخلص استعمال کیا ہے۔ یہاں وہ ایک بہت بڑی حقیقت بیان کر رہے ہیں کہ جو لوگ “کامل” ہوتے ہیں یعنی جن کے پاس کوئی علم، ہنر یا کمال ہوتا ہے، زمانہ خود بخود ان کی طرف کھنچا چلا آتا ہے۔ دنیا کی نگاہیں جوہر شناس ہوتی ہیں اور وہ صاحبِ کمال کو ڈھونڈ نکالتی ہیں۔ شاعر عاجزی کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگرچہ میں اس باغ (دنیا یا اس نظم کے مناظر) میں پھولوں اور پتوں کے پیچھے چھپنے کی کوشش کروں، لیکن میرا فن اور میری شخصیت خود کو ظاہر کر ہی دے گی۔ یہاں اکبر نے اپنی شاعری کے کمال کی طرف اشارہ کیا ہے کہ جس طرح پھولوں کی خوشبو پتوں میں نہیں چھپ سکتی، اسی طرح ایک سچے شاعر کا کلام اسے لوگوں میں ممتاز کر دیتا ہے۔ یہ انسانی فطرت ہے کہ وہ اچھائی اور کمال کی قدر کرتی ہے۔ اس شعر میں جہاں ایک طرف خود شناسی کا پہلو ہے، وہیں دوسری طرف یہ سبق بھی ہے کہ انسان کو اپنا آپ منوانے کے لیے کمال حاصل کرنا چاہیے۔ جب آپ کے اندر کوئی خوبی ہوگی تو دنیا خود آپ کو پہچانے گی، آپ کو کسی تشہیر کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ اکبر نے نہایت خوبصورتی سے نظم کا اختتام اپنی ذات اور فن کی سچائی پر کیا ہے۔

Leave a Reply