یوں کہنے کو پیرایۂ اظہار بہت ہے

یوں کہنے کو پیرایۂ اظہار بہت ہے شعر نمبر 1: یوں کہنے کو پیرایۂ اظہار بہت ہے یہ دل، دلِ نادان سہی، خوددار بہت ہے مفہوم: اگرچہ اپنی بات کہنے کے بہت سے طریقے اور انداز موجود ہیں، لیکن میرا دل اگرچہ نادان ہے مگر اپنی غیرت اور خودداری کی وجہ سے کسی کے سامنے

وغیرہ از انور مسعود

وغیرہ از انور مسعود شعر نمبر 1: ہے آپ کے ہونٹوں پہ جو مسکان وغیرہ قربان گئے اس پہ دل و جان وغیرہ مفہوم: محبوب کے ہونٹوں پر سجی مسکراہٹ اور اس کے دیگر ناز و انداز پر شاعر اپنی جان و دل نثار کرنے کا اظہار کر رہا ہے۔ تشریح: اس شعر میں انور

آدمی نامہ از نظیر اکبر آبادی

آدمی نامہ از نظیر اکبر آبادی بند نمبر 1 دنیا میں بادشاہ ہے سو ہے وہ بھی آدمی اور مفلس و گدا ہے سو ہے وہ بھی آدمی زردار بے نوا ہے سو ہے وہ بھی آدمی نعمت جو کھا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمی ٹکڑے چبا رہا ہے سو ہے وہ بھی

نظم آمد صبح از میر انیس

نظم آمد صبح از میر انیس بند نمبر 1 : پھولا شفق سے چرخ پہ جب لالا زارِ صبح گلزارِ شب خزاں ہوا، آئی بہارِ صبح کرنے لگا فلک زرِ انجم نثارِ صبح سرگرم ہوئے طاعتِ پروردگارِ صبح  تھا چرخِ اخضری پہ یہ رنگ آفتاب کا کھلتا ہے جیسے پھول چمن میں گلاب کا مفہوم:

جگ میں آ کر ادھر دیکھا ادھر دیکھا

جگ میں آکر ادھر دیکھا ادھر دیکھا شعر نمبر 1 ​شعر: جگ میں آ کر ادھر ادھر دیکھا تو ہی نظر آیا جدھر دیکھا ​مفہوم: اس دنیا میں قدم رکھنے کے بعد میں نے جس سمت بھی اپنی نظر دوڑائی، مجھے کائنات کے ہر منظر اور ہر ذرے میں صرف اللہ تعالیٰ کی ذات اور

داستان تیاری میں باغ کی از میر حسن ( شعر 33 تا 39)

داستان تیاری میں باغ کی از میر حسن ( شعر 33 تا 39) شعر نمبر 33 کیا قاعدے سے شروع کلام پڑھانے لگے علم اس کو تمام مفہوم: شہزادے نے باقاعدہ اصول و ضوابط (قاعدے) سے کلام کا آغاز کیا اور اساتذہ اسے تمام ضروری علوم سکھانے لگے۔ تشریح: میر حسن بیان کرتے ہیں کہ

داستان تیاری میں باغ کی از میر حسن ( شعر 25 تا 32)

داستان تیاری میں باغ کی از میر حسن ( شعر 25 تا 32) شعر نمبر 25 سبزہِ کوہ پر سایہِ ابرِ تر گرے مینہ تو موتی جھڑیں فرش پر مفہوم: پہاڑ کے سبزے پر نمناک بادلوں کا سایہ ہے اور جب بارش برستی ہے تو یوں لگتا ہے جیسے فرش پر موتی جھڑ رہے ہوں۔

داستان تیاری میں باغ کی از میر حسن( شعر 17 تا 24)

داستان تیاری میں باغ کی از میر حسن ( شعر 17 تا 24) شعر نمبر 17 عجب چاندنی میں گلوں کی بہار ہر ایک گل سفیدی سے ماہتاب دار مفہوم: چاندنی رات میں پھولوں پر عجیب رونق برسی ہے اور ہر پھول چاندنی کی سفیدی جذب کر کے خود ایک چھوٹا سا چاند بن گیا

داستان تیاری میں باغ کی از میر حسن( شعر 9 تا 16)

داستان تیاری میں باغ کی از میر حسن ( شعر 9 تا 16) شعر نمبر 9 بنی سنگِ مرمر سے چوپڑ کی نہر گئی چار سو اس کے پانی کی لہر مفہوم: باغ میں سنگِ مرمر سے بنی ہوئی چوپڑ کی شکل کی نہریں موجود ہیں جن کی لہریں ہر سمت (چار سو) پھیل کر

( شعر 1 تا 8 )داستان تیاری میں باغ کی از میر حسن

داستان تیاری میں باغ کی از میر حسن شعر نمبر 1 : مئے ارغوانی پلا ساقیا کہ تعمیر کو باغ کی دل چلا تشریح: اس شعر میں میر حسن نے داستان کا آغاز روایتی مثنوی نگاروں کے انداز میں کیا ہے۔ وہ ساقی سے مخاطب ہو کر “مئے ارغوانی” یعنی سرخ و جامنی شراب کا