یوں کہنے کو پیرایۂ اظہار بہت ہے

یوں کہنے کو پیرایۂ اظہار بہت ہے

شعر نمبر 1:

یوں کہنے کو پیرایۂ اظہار بہت ہے

یہ دل، دلِ نادان سہی، خوددار بہت ہے

مفہوم: اگرچہ اپنی بات کہنے کے بہت سے طریقے اور انداز موجود ہیں، لیکن میرا دل اگرچہ نادان ہے مگر اپنی غیرت اور خودداری کی وجہ سے کسی کے سامنے دستِ سوال دراز نہیں کرتا۔

تشریح:

اس شعر میں شاعرہ زہرا نگاہ انسانی فطرت کے ایک اہم پہلو ‘خودداری’ کو بیان کر رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ دنیا میں اپنے دکھوں، تکلیفوں اور جذبوں کے اظہار کے لیے لفظوں، اشاروں اور تحریر کی صورت میں بے شمار طریقے (پیرایۂ اظہار) موجود ہیں۔ انسان چاہے تو اپنی فریاد سے آسمان سر پر اٹھا لے، لیکن ان کا دل اس معاملے میں بہت مختلف ہے۔ شاعرہ اپنے دل کو ‘دلِ نادان’ کہتی ہیں یعنی وہ دل جو معصوم ہے، دنیا داری کی چالوں سے ناواقف ہے اور سادہ ہے۔ مگر اس نادانی کے باوجود اس کی سب سے بڑی صفت اس کی ‘خودداری’ اور ‘عزتِ نفس’ ہے۔ یہ دل ٹوٹ تو سکتا ہے، تڑپ سکتا ہے، لیکن اپنی انا پر سمجھوتہ کر کے کسی کے سامنے اپنی کمزوری ظاہر نہیں کرتا۔ یہ خاموشی اس کی کمزوری نہیں بلکہ اس کے وقار کی علامت ہے۔

بقول شاعر:

چپ چاپ اپنی آگ میں جلتے رہو فراز

دنیا تو عرضِ دل سے بے آبرو کرے [

شعر نمبر 2:

دیوانوں کو اب وسعتِ صحرا نہیں درکار

وحشت کے لیے سایۂ دیوار بہت ہے

مفہوم: عشق و جنون میں مبتلا لوگوں کو اب اپنی بے چینی کے اظہار کے لیے وسیع ریگستانوں کی ضرورت نہیں رہی، بلکہ موجودہ حالات کی گھٹن میں ایک دیوار کا سایہ ہی ان کے لیے کافی ہے ۔

تشریح:

یہ شعر علامتی طور پر دورِ حاضر کی معاشرتی گھٹن اور انسانی تنہائی کی عکاسی کرتا ہے۔ روایتی شاعری میں ‘دیوانہ’ یا ‘مجنوں’ وہ ہوتا تھا جو اپنی وحشت اور جنون کے اظہار کے لیے صحراؤں کا رخ کرتا تھا کیونکہ اسے گھر کی چار دیواری میں سکون نہیں ملتا تھا۔ وہ وسعت اور آزادی کا طلبگار ہوتا تھا۔ مگر زہرا نگاہ کہتی ہیں کہ اب زمانہ بدل چکا ہے۔ اب انسان کی نفسیاتی الجھنیں اور سماجی بندشیں اتنی بڑھ گئی ہیں کہ دیوانوں نے اپنی وحشت کو محدود کر لیا ہے۔ اب انہیں صحراؤں کی تگ و دو کی ضرورت نہیں، بلکہ وہ تنہائی میں ایک دیوار کے سائے تلے بیٹھ کر اپنے دکھ بانٹ لیتے ہیں۔ یہ شعر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ معاشرے میں آزادی اتنی سلب ہو چکی ہے کہ اب انسان کا جنون بھی ایک کونے تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔

بقول شاعر:

کوئی دیوار سے لگ کے بیٹھا رہا

اور بھرتا رہا سسکیاں رات بھر

شعر نمبر 3:

بجتا ہے گلی کوچوں میں نقارۂ الزام

ملزم کی خاموشی کا وفادار بہت ہے

مفہوم: معاشرے میں ہر طرف الزام تراشی کا شور برپا ہے اور ڈھول پیٹ کر کسی کو مجرم ٹھہرایا جا رہا ہے، لیکن جس پر الزام ہے، وہ اپنی خاموشی کا اتنا پکا ہے کہ کوئی صفائی پیش نہیں کر رہا۔

تشریح:

اس شعر میں شاعرہ نے ایک گہرا سماجی مشاہدہ بیان کیا ہے۔ ‘نقارۂ الزام’ سے مراد وہ شور و غل ہے جو معاشرہ کسی شخص کی کردار کشی یا اسے رسوا کرنے کے لیے مچاتا ہے۔ گلی کوچوں میں ہر طرف تہمتوں اور بہتان کا بازار گرم ہے، جیسے ڈھول بجا کر اعلان کیا جا رہا ہو۔ لیکن اس تماشے کے درمیان وہ شخص جس پر الزام لگایا گیا ہے (ملزم)، وہ بالکل خاموش ہے۔ وہ نہ تو کوئی وضاحت دیتا ہے اور نہ ہی احتجاج کرتا ہے۔ اس کی یہ خاموشی دراصل اس کی ثابت قدمی اور استقامت کی علامت ہے۔ وہ اپنی خاموشی سے غداری نہیں کرتا، یعنی وہ سچ کو شور کا حصہ بننے نہیں دیتا۔ بعض اوقات خاموشی اس لیے اختیار کی جاتی ہے کہ سچ سننے والا کوئی نہیں ہوتا، اور کبھی یہ خاموشی خود ایک بہت بڑا احتجاج ہوتی ہے۔

بقول شاعر:

صبر لازم ہے مگر جبر پہ خاموش نہیں رہنا ہے

ہم نے تاریخ کے اوراق میں روپوش نہیں رہنا ہے

شعر نمبر 4:

جب حسنِ تکلم پہ کڑا وقت پڑے تو

اور کچھ بھی نہ باقی ہو تو تکرار بہت ہے

مفہوم: جب بات کرنے کے سلیقے اور گفتگو کی خوبصورتی پر مشکل وقت آ جائے اور اظہار کا کوئی نیا یا مہذب طریقہ باقی نہ رہے، تو ایک ہی بات کو بار بار دہرانا (تکرار) ہی اظہار کا ذریعہ بن جاتا ہے۔

تشریح:

اس شعر میں زہرا نگاہ گفتگو کے فن اور انسانی تعلقات میں آنے والے زوال کو بیان کر رہی ہیں۔ ‘حسنِ تکلم’ سے مراد بات کرنے کی وہ خوبصورتی اور شائستگی ہے جس سے دل جیتے جاتے ہیں۔ شاعرہ کہتی ہیں کہ جب حالات اتنے سخت ہو جائیں کہ انسان کے پاس نئے الفاظ اور موثر اندازِ بیان ختم ہو جائے، یا جب جذبات کی شدت اتنی زیادہ ہو کہ وہ عام لفظوں میں نہ سمائے، تو انسان مجبوراً ایک ہی بات کو بار بار دہرانے لگتا ہے۔ یہ ‘تکرار’ دراصل انسان کی جذباتی گھٹن اور بے بسی کی علامت ہے۔ جب رشتوں میں بات کرنے کا سلیقہ ختم ہو جائے تو بے فائدہ رنجشیں اور پرانی باتوں کا اعادہ ہی باقی رہ جاتا ہے۔ یہ تکرار کسی کمزوری کا نام نہیں بلکہ اس احساس کی شدت ہے جو کسی اور طریقے سے بیان نہیں ہو پا رہی۔ [

بقول شاعر:

یا رب نہ وہ سمجھے ہیں نہ سمجھیں گے میری بات

دے اور دل ان کو جو نہ دے مجھ کو زباں اور

شعر نمبر 5:

خود آئینہ گر آئینہ چھوڑے تو نظر آئے

دہکا ہوا ہر شعلۂ رخسار بہت ہے

مفہوم: اگر حقیقت دکھانے والا (آئیہ گر) سچائی کو ظاہر کرنا چھوڑ دے، تو پھر ہر ظاہری خوبصورتی کے پیچھے چھپی ہوئی تپش اور منفی جذبات شعلے کی طرح نمایاں ہو کر نظر آنے لگتے ہیں۔ [

تشریح:

یہ شعر سچائی اور حقیقت پسندی کی اہمیت پر زور دیتا ہے۔ ‘آئیہ گر’ سے مراد وہ شخص ہے جو معاشرے کو اس کا اصل چہرہ دکھاتا ہے یا سچائی کو واضح کرتا ہے۔ شاعرہ کہتی ہیں کہ اگر وہ شخص جو حقیقت کو بیان کرنے کا ذمہ دار ہے، اپنا کام چھوڑ دے یا سچ کو چھپا لے، تو پھر کیا ہوگا؟ اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ دنیا کی ظاہری چمک دمک اور خوبصورتی کے پیچھے چھپی ہوئی برائیاں، حسد اور منفی جذبات ‘شعلۂ رخسار’ کی صورت میں واضح ہو جائیں گے۔ رخسار یہاں ظاہری کشش کی علامت ہے اور دہکا ہوا شعلہ باطنی تپش اور تلخی کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی جب سچائی کا آئینہ سامنے نہیں رہتا تو ظاہری فریب کے پردے چاک ہو جاتے ہیں اور انسان کی اندرونی تلخی کھل کر سامنے آ جاتی ہے۔ [

بقول شاعر:

فریبِ چشمِ تماشا ہے عکس کی دنیا

حقیقتوں کا جہاں آئینے سے باہر [

شعر نمبر 6

منصف کے لیے اذنِ سماعت پہ ہیں پہرے

اور عدل کی زنجیر میں جھنکار بہت ہے

مفہوم: انصاف کرنے والے ججوں پر مقدمات سننے کے حوالے سے سخت پابندیاں ہیں، جبکہ انصاف کا شور تو بہت ہے مگر حقیقی انصاف کہیں دکھائی نہیں دیتا۔

تشریح:

یہ شعر عدالتی اور سماجی نظام پر ایک بھرپور طنز ہے۔ شاعرہ کہتی ہیں کہ آج کے دور میں منصف (انصاف کرنے والا) خود آزاد نہیں ہے۔ اس کے ‘اذنِ سماعت’ (سننے کی اجازت) پر پہرے لگے ہوئے ہیں، یعنی وہ دباؤ، سیاسی مصلحتوں یا مخصوص قوانین کی وجہ سے ہر سچائی کو سننے یا آزادانہ فیصلہ کرنے سے قاصر ہے۔ دوسرے مصرعے میں ‘عدل کی زنجیر’ کی ‘جھنکار’ سے مراد وہ شور و غل ہے جو انصاف کے نام پر کیا جاتا ہے۔ زنجیرِ عدل کی جھنکار تو بہت سنائی دیتی ہے (جیسے مغل بادشاہ جہانگیر کی زنجیرِ عدل تھی)، مگر یہ صرف ایک کھوکھلی آواز بن کر رہ گئی ہے۔ انصاف کی بیڑیاں تو بجتی ہیں مگر وہ مظلوم کو انصاف دینے کے بجائے شاید اسے مزید جکڑنے کا کام کرتی ہیں۔ یہ شعر نظامِ عدل کی بے حسی اور نمائشی پہلو کو بے نقاب کرتا ہے۔ [

بقول شاعر:

ہم کو شاہوں سے عدالت کی توقع تو نہیں

آپ کہتے ہیں تو زنجیر ہلا دیتے ہیں

 ادبی و فکری تجزیہ 

اسلوب: زہرا نگاہ نے روایتی علامات (آئیہ، زنجیر، صحرا) کو جدید سماجی و سیاسی معنوں میں استعمال کیا ہے۔

فکری جہت: ان اشعار میں انسانی رویوں کے زوال اور سماجی ناانصافی کے خلاف ایک دبی ہوئی مگر طاقتور آواز موجود ہے۔

علامتیں: ‘حسنِ تکلم’ تہذیب کی علامت ہے، جبکہ ‘عدل کی زنجیر’ انصاف کے کھوکھلے پن کی علامت کے طور پر ابھری ہے۔

 مشکل الفاظ و اصطلاحات

حسنِ تکلم: بات کرنے کا سلیقہ، گفتگو کی خوبصورتی۔

تکرار: ایک ہی بات کو بار بار دہرانا۔

آئیہ گر: آئینہ بنانے والا، حقیقت دکھانے والا۔

شعلۂ رخسار: آگ کی طرح چمکتا ہوا چہرہ، پرجوش چہرہ۔

اذنِ سماعت: سننے کی اجازت۔

جھنکار: زنجیروں یا گھنٹیوں کی آواز، یہاں مراد محض دکھاوے کا شور۔

Leave a Reply