نئی نسل کا نوحہ (امجد اسلام امجد)

نئی نسل کا نوحہ (امجد اسلام امجد) بند نمبر 1 میں سوچتا ہوں لکھا ہے جو کچھ، پڑھا ہے جو کچھ وہ کس لیے تھا؟ کہاں سے پوچھوں، کسے بتاؤں؟ تشریح: شاعر امجد اسلام امجد نظم کی ابتدا ایک استفہامیہ (سوالیہ) انداز سے کرتے ہیں۔ وہ نئی نسل کے نمائندے کے طور پر خود کلامی

انسانِ کامل (ﷺ) کی برکات( شعر 21 تا 36)

انسانِ کامل (ﷺ) کی برکات( شعر 21 تا 36) نظم: انسانِ کامل ﷺ کی برکات (حفیظ جالندھری) اشعار 21 تا 36: تفصیلی و علمی تشریح شعر نمبر 21 یہاں سرمایہ و محنت سے غائب تھی حدِ فاصل کہ جس کا نام سرمایہ ہے، محنت ہی کو تھا حاصل مفہوم: اسلامی معاشرے میں دولت اور مزدوری

انسانِ کامل (ﷺ) کی برکات( شعر 1 تا 20)

انسانِ کامل (ﷺ) کی برکات پہلا شعر یہاں روح الامیں، خیر الانام (ﷺ) کے در پہ حاضر تھا یہاں رحمت سرگرمِ عمل تھی، اللہ ناظر  تھا مشکل الفاظ کے معانی روح الامیں: حضرت جبرائیل علیہ السلام، وحی لانے والے فرشتہ خیر الانام (ﷺ): تمام انسانوں میں سب سے بہتر، نبی کریم ﷺ در پہ حاضر

نثار میں تیری گلیوں کے اے وطن

نثار میں تیری گلیوں کے اے وطن بند نمبر 1 :  نثار میں تیری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے جو کوئی چاہنے والا طواف کو نکلے نذر چرا کے چلے، جسم و جاں بچا کے چلے ہے اہلِ دل کے لیے اب یہ نظمِ

نثار میں تیری گلیوں کے اے وطن

  نثار میں تری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے جو کوئی چاہنے والا طواف کو نکلے نظر چرا کے چلے جسم و جاں بچا کے چلے ہے اہل دل کے لیے اب یہ نظم بست و کشاد کہ سنگ و خشت مقید ہیں اور

مجھ سے مت کر یار کچھ گفتار، میں روزے سے ہوں

نظم: مجھ سے مت کر یار کچھ گفتار، میں روزے سے ہوں شاعر: سید ضمیر جعفری شعر نمبر 1 :  مجھ سے مت کر یار کچھ گفتار، میں روزے سے ہوں ہو نہ جائے تجھ سے بھی تکرار، میں روزے سے ہوں تشریح: اس شعر میں سید ضمیر جعفری، جو کہ اردو کے ایک مانے

مجھ سے مت کر یار کچھ گفتار، میں روزے سے ہوں

مجھ سے مت کر یار کچھ گفتار، میں روزے سے ہوں   مجھ سے مت کر یار کچھ گفتار، میں روزے سے ہوں ہو نہ جائے تجھ سے بھی تکرار، میں روزے سے ہوں ہر اک شے سے کرب کا اظہار، میں روزے سے ہوں دو کسی اخبار کو یہ تار، میں روزے سے ہوں

پیام لطیف از شاہ عبدالطیف بھٹائی

پیام لطیف از شاہ عبدالطیف بھٹائی شعر نمبر 1 : بے اعتدالیوں سے نحیف و نزار ہیں خود سر ہیں اور چارہ گری کے شکار ہیں تشریح : نظم پیام لطیف کے اس شعر میں شاعر شاہ عبداللطیف بھٹائی کہتا ہے کہ انسان بے اعتدالیوں کی وجہ سے کمزور اور ناتواں ہو گیا ہے۔ بے

کرکٹ اور مشاعرہ از دلاور فگار

کرکٹ اور مشاعرہ از دلاور فگار شعر نمبر 1 : مشاعرہ کا بھی تفریح ایم ہوتا ہے مشاعرہ میں بھی کرکٹ کا گیم ہوتا ہے تشریح : مزاحیہ شاعری کی دنیا میں جسے ‘شہنشاہ ظرافت’ اور ‘اکبر ثانی’ کے طور پر پہچانا جاتا ہے، اس کو دلاور فگار کہتے ہیں۔ اردو کی مزاحیہ شاعری کے

دلوں کے ساتھ جبینیں جو خم نہیں کرتے

دلوں کے ساتھ جبینیں جو خم نہیں کرتے   نعت از افتخار عارف   دلوں کے ساتھ جبینیں جو خم نہیں کرتے وہ پاس مدحت خیرالامم نہیں کرتے دعا بغیر اجازت بغیر اذن بغیر ہم ایک لفظ سپرد قلم نہیں کرتے کتاب حق نے جنہیں مصطفیٰ قرار دیا جز ان کے اور کوئی ذکر ہم