داستان تیاری میں باغ کی از میر حسن( شعر 9 تا 16)

داستان تیاری میں باغ کی از میر حسن

( شعر 9 تا 16)

شعر نمبر 9

بنی سنگِ مرمر سے چوپڑ کی نہر

گئی چار سو اس کے پانی کی لہر

مفہوم: باغ میں سنگِ مرمر سے بنی ہوئی چوپڑ کی شکل کی نہریں موجود ہیں جن کی لہریں ہر سمت (چار سو) پھیل کر باغ کو سیراب کر رہی ہیں۔

تشریح: میر حسن اس شعر میں باغ کی تعمیراتی خوبصورتی اور آبپاشی کے مربوط نظام کو بیان کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ کوئی معمولی باغ نہیں بلکہ ایک شاہی نمونہ ہے جہاں نہریں قیمتی پتھر “سنگِ مرمر” سے بنائی گئی ہیں۔ ‘چوپڑ کی نہر’ سے مراد وہ نہریں ہیں جو چاروں سمتوں سے آکر ایک مرکز پر ملتی ہیں یا ایک مرکز سے نکل کر چاروں طرف جاتی ہیں۔ یہ اس دور کے فنِ تعمیر کا کمال ہے کہ پانی کی لہریں نہایت ترتیب کے ساتھ پورے باغ میں گردش کرتی ہیں۔ شاعر نے یہاں لفظ ‘چار سو’ استعمال کر کے یہ واضح کیا ہے کہ باغ کا کوئی بھی گوشہ پانی سے محروم نہیں ہے۔ پانی کی روانی اور سنگِ مرمر کی سفیدی مل کر ایک سحر انگیز منظر تخلیق کر رہی ہیں۔ یہ نہریں نہ صرف پودوں کی زندگی کا سامان ہیں بلکہ باغ کی آرائش میں بھی کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔ میر حسن کی جزئیات نگاری یہاں اپنے عروج پر ہے جہاں وہ پانی کی ہر لہر اور نہر کی بناوٹ کو نمایاں کر رہے ہیں۔

شعر نمبر 10

زمرد کی مانند سبزے کا رنگ

روش کا جواہر ہوا جس کے سنگ

مفہوم: باغ کے سبزے کا رنگ قیمتی پتھر ‘زمرد’ کی طرح گہرا سبز ہے اور اس کی روشیں (راستے) بھی اس سبزے کے ساتھ مل کر جواہرات کی مانند چمک رہی ہیں۔

تشریح: اس شعر میں میر حسن نے صنعتِ تشبیہ کا نہایت عمدہ استعمال کیا ہے۔ وہ باغ کی ہریالی اور گھاس کو ‘زمرد’ (ایک قیمتی سبز پتھر) سے تشبیہ دے رہے ہیں۔ شاعر کے مطابق باغ کا سبزہ اس قدر شاداب، ہموار اور چمکدار ہے کہ دور سے دیکھنے پر یوں محسوس ہوتا ہے گویا زمین پر سبز مخمل کا فرش نہیں بلکہ زمرد کی تہیں بچھی ہوئی ہیں۔ مزید برآں، ‘روش’ یعنی باغ کے پیدل چلنے والے راستے بھی اس قدر صاف ستھرے اور ترتیب یافتہ ہیں کہ وہ اس سبزے کے ساتھ مل کر ایک متناسب اور حسین منظر پیش کر رہے ہیں۔ لفظ ‘سنگ’ کے یہاں دو معنی ہیں: ایک ‘پتھر’ اور دوسرا ‘ساتھ’۔ میر حسن نے اسے رعایتِ لفظی کے طور پر استعمال کیا ہے کہ راستوں کی خوبصورتی سبزے کے ‘ساتھ’ (سنگ) مل کر دوچند ہو گئی ہے۔ یہ منظر کشی قاری کو احساس دلاتی ہے کہ باغ کا ہر ذرہ کسی جوہر کی طرح قیمتی اور تراشا ہوا ہے۔

شعر نمبر 11

روش کی صفائی پہ بے اختیار

گلِ اشرفی نے کیا زر نثار

مفہوم: باغ کے راستے اس قدر صاف ستھرے ہیں کہ زرد رنگ کے ‘گلِ اشرفی’ نے بے اختیار ہو کر ان پر اپنے زردانے (سونا) نچھاور کر دیے ہیں۔

تشریح: میر حسن نے اس شعر میں باغ کی صفائی ستھرائی کی تعریف کے لیے مبالغہ آرائی اور رعایتِ لفظی کا سہارا لیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ باغ کی ‘روشیں’ (راستے) اس قدر شفاف اور گرد و غبار سے پاک ہیں کہ پھولوں کا بادشاہ بھی ان کی قدر کرتا ہے۔ ‘گلِ اشرفی’ ایک زرد رنگ کا پھول ہے جس کی رنگت سونے سے ملتی جلتی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ ان راستوں کی چمک دمک دیکھ کر یہ پھول اس قدر متاثر ہوا کہ اس نے اپنے ‘زر’ (پھول کے زردانے جنہیں شاعر نے سونا قرار دیا ہے) ان راستوں پر قربان کر دیے۔ یہاں ‘زر نثار کرنا’ ایک محاورہ بھی ہے جس کا مطلب ہے صدقے ہونا۔ میر حسن کے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ راستوں کی صفائی اور پھولوں کا ان پر گرنا ایک ایسا منظر پیش کرتا ہے گویا راستوں پر سونا بکھرا ہوا ہے۔ یہ شعر میر حسن کے لکھنوی لب و لہجے اور ظرافت کا آئینہ دار ہے جہاں وہ ایک قدرتی عمل کو شاہانہ انداز عطا کرتے ہیں۔

شعر نمبر 12

چمن سے بھرا باغ، گل سے چمن

کہیں نرگس و گل، کہیں یاسمن

مفہوم: پورا باغ مختلف چمنوں (کتیاریوں) سے بھرا ہوا ہے اور ہر چمن پھولوں سے لدا ہے؛ کہیں نرگس کے پھول ہیں تو کہیں چنبیلی (یاسمن) کی بہار ہے۔

تشریح: اس شعر میں شاعر باغ کی وسعت اور پھولوں کی کثرت کا ذکر کر رہے ہیں۔ میر حسن کہتے ہیں کہ یہ باغ محض ایک قطعہ زمین نہیں بلکہ کئی چھوٹے بڑے چمنوں کا مجموعہ ہے۔ ترتیب یہ ہے کہ باغ چمنوں سے لبریز ہے اور چمن پھولوں سے مہک رہے ہیں۔ یہاں ‘گل’ (پھول)، ‘نرگس’ (آنکھ نما پھول) اور ‘یاسمن’ (سفید چنبیلی) کا ذکر کر کے شاعر نے باغ کی تنوع (Variety) کو واضح کیا ہے۔ میر حسن کی شاعری میں لفظوں کی تکرار (صنعتِ تکرار) جیسے ‘چمن’ اور ‘گل’ ایک خاص نغمگی پیدا کر رہی ہے۔ وہ بتانا چاہتے ہیں کہ باغ کا ہر حصہ مختلف خوشبوؤں اور رنگوں کا امین ہے۔ کہیں نرگس کی حیا آمیز آنکھیں جھانک رہی ہیں تو کہیں یاسمن کی سفیدی دلوں کو لبھا رہی ہے۔ یہ تنوع اس بات کی دلیل ہے کہ باغ کو نہایت ذوق و شوق اور مہارت سے ترتیب دیا گیا ہے۔

شعر نمبر 13

چمبیلی کہیں اور کہیں موتیا

کہیں رائے بیل اور کہیں موگرا

مفہوم: باغ میں مختلف مقامات پر چمبیلی، موتیا، رائے بیل اور موگرا کے خوشبودار پھول اپنی بہار دکھا رہے ہیں۔

تشریح: میر حسن یہاں باغ میں موجود خوشبودار سفید پھولوں کی فہرست پیش کر رہے ہیں۔ وہ چمبیلی، موتیا، رائے بیل اور موگرا جیسے خالص برصغیری پھولوں کا نام لے کر ایک مخصوص معطر فضا تخلیق کرتے ہیں۔ یہ تمام پھول اپنی بھینی بھینی خوشبو اور نفاست کے لیے مشہور ہیں۔ شاعر کے مطابق باغ کے مختلف حصوں میں ان پھولوں کی بیلیں اور پودے اس طرح لگائے گئے ہیں کہ پورا ماحول معطر ہو چکا ہے۔ ‘کہیں’ کا لفظ بار بار استعمال کر کے شاعر یہ تاثر دے رہا ہے کہ آپ جس طرف بھی نگاہ اٹھائیں، آپ کو ایک نیا پھول اور ایک نئی خوشبو میسر آئے گی۔ میر حسن کی یہ خوبی ہے کہ وہ صرف بصری منظر کشی نہیں کرتے بلکہ قاری کے حسِ شامہ (سونگھنے کی حس) کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ یہ اشعار اس دور کے نباتیاتی علم اور باغبانی کے شوق کو بھی ظاہر کرتے ہیں۔

شعر نمبر 14

کھڑے شاخِ شبو کے ہر جا نشاں

مدن بان کی اور ہی آن بان

مفہوم: ہر طرف شبو (رات کی رانی) کے پودے کھڑے ہیں اور مدن بان (بیلے کی ایک قسم) کے پھولوں کی اپنی ہی ایک شاہانہ شان و شوکت ہے۔

تشریح: میر حسن نے اس شعر میں ‘شاخِ شبو’ اور ‘مدن بان’ جیسے مخصوص پھولوں کا تذکرہ کیا ہے۔ ‘شاخِ شبو’ جسے رات کی رانی بھی کہا جاتا ہے، اپنی تیز اور مسحور کن خوشبو کے لیے جانی جاتی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اس کے پودے ہر جگہ مستعد کھڑے ہیں گویا باغ کی پہرے داری کر رہے ہوں۔ دوسری طرف ‘مدن بان’ ہے، جو اپنی بناوٹ اور حسن میں بے مثال ہے۔ ‘آن بان’ سے مراد اس کی وہ شان و شوکت اور انفرادیت ہے جو اسے دوسرے پھولوں سے ممتاز کرتی ہے۔ میر حسن نے پھولوں کو جاندار اشیاء کی طرح پیش کیا ہے، جہاں ہر پھول اپنی جگہ ایک شخصیت رکھتا ہے۔ یہ جزئیات نگاری قاری کو باغ کے اندر موجود ہر پودے کی انفرادی حیثیت سے روشناس کرواتی ہے، جو کہ میر حسن کے قلم کا خاصہ ہے۔

شعر نمبر 15

کہیں ارغواں اور کہیں لالہ زار

جدی اپنے موسم میں سب کی بہار

مفہوم: کہیں ارغوانی (جامنی) رنگ کے پھول کھلے ہیں تو کہیں سرخ پھولوں کا میدان (لالہ زار) ہے؛ ہر پھول اپنے اپنے موسم میں ایک منفرد رونق پیش کرتا ہے۔

تشریح: اس شعر میں رنگوں کے تنوع پر زور دیا گیا ہے۔ ‘ارغواں’ ایک سرخی مائل جامنی رنگ کا پھول ہے جبکہ ‘لالہ زار’ سرخ پھولوں کی کثرت کو کہتے ہیں۔ میر حسن بیان کرتے ہیں کہ باغ میں رنگوں کا ایک سمندر ٹھاٹھیں مار رہا ہے۔ کہیں گہرا جامنی رنگ آنکھوں کو بھلا لگتا ہے تو کہیں سرخ پھولوں کی آگ لگی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ ‘جدی اپنے موسم میں سب کی بہار’ سے شاعر کی مراد یہ ہے کہ ہر پھول کا اپنا ایک وقت اور اپنی ایک شان ہے۔ قدرت نے ہر پودے کو ایک جداگانہ حسن عطا کیا ہے جو اپنے مقررہ وقت پر ظاہر ہوتا ہے۔ یہاں لفظ ‘بہار’ رعایتِ لفظی کے طور پر استعمال ہوا ہے جس کا مطلب ‘موسمِ گل’ بھی ہے اور ‘رونق’ بھی۔ میر حسن یہ نکتہ سمجھا رہے ہیں کہ اختلافِ رنگ و بو ہی سے چمن کی زینت قائم ہے۔

شعر نمبر 16

کہیں جعفری اور گیندا کہیں

سماں شب کو داؤدیوں کا کہیں

مفہوم: باغ میں کہیں جعفری اور کہیں گیندے کے زرد پھول کھلے ہیں، جبکہ رات کے وقت ‘گلِ داؤدی’ کا نظارہ اپنی ہی ایک مسحور کن کیفیت رکھتا ہے۔

تشریح: زیرِ مطالعہ حصے کے آخری شعر میں میر حسن مزید کچھ پھولوں کا اضافہ کرتے ہیں۔ ‘جعفری’ اور ‘گیندا’ اپنے شوخ زرد اور نارنجی رنگوں کی وجہ سے باغ میں نمایاں نظر آتے ہیں۔ یہ پھول عام طور پر دن کے وقت باغ کی رونق بڑھاتے ہیں۔ لیکن شاعر نے خاص طور پر ‘داؤدیوں’ (گلِ داؤدی) کا ذکر ‘شب’ (رات) کے حوالے سے کیا ہے۔ گلِ داؤدی کی بعض اقسام رات کی چاندنی میں ایک عجیب چمک اور سحر پیدا کرتی ہیں۔ میر حسن کی نظر اتنی گہری ہے کہ وہ صرف دن کے مناظر پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ رات کے اندھیرے میں کون سے پھول باغ کے ‘سماں’ (نظارے) کو پرکیف بناتے ہیں۔ یہ شعر میر حسن کی فصاحت اور سادہ بیانی کا عمدہ نمونہ ہے، جہاں وہ آسان لفظوں میں ایک مکمل کائنات سمیٹ دیتے ہیں۔

Leave a Reply