( شعر 1 تا 8 )داستان تیاری میں باغ کی از میر حسن

داستان تیاری میں باغ کی از میر حسن

شعر نمبر 1 :

مئے ارغوانی پلا ساقیا

کہ تعمیر کو باغ کی دل چلا

تشریح: اس شعر میں میر حسن نے داستان کا آغاز روایتی مثنوی نگاروں کے انداز میں کیا ہے۔ وہ ساقی سے مخاطب ہو کر “مئے ارغوانی” یعنی سرخ و جامنی شراب کا تقاضا کر رہے ہیں۔ علمی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو یہاں شراب سے مراد وہ وجدانی کیفیت اور تخلیقی جوش ہے جو ایک فنکار کو عظیم تخلیق کے لیے درکار ہوتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اے ساقی! مجھے ایسی توانائی اور سرور عطا کر کہ میرا دل اب ایک ایسے عظیم الشان باغ کی تعمیر (بیان) کی طرف مائل ہو رہا ہے جو دنیا نے پہلے کبھی نہ دیکھا ہو۔ یہ شعر نواب آصف الدولہ کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے جس میں وہ ایک بے مثال شاہی باغ بنانا چاہتے تھے۔ شاعر نے یہاں “دل چلا” کی ترکیب استعمال کر کے انسانی خواہش اور تخلیقی امنگ کو بڑی خوبصورتی سے واضح کیا ہے، جو کسی بھی بڑے منصوبے کا نقطہ آغاز ہوتی ہے۔ [01:34]

شعر نمبر 2:

دیا شہ نے ترتیب اک خانہ باغ

ہوا رشک سے جس کے لالا کو داغ

تشریح: اس شعر میں شاعر باغ کی بے مثال ترتیب اور نفاست کا ذکر کر رہا ہے۔ بادشاہ (نواب آصف الدولہ) نے باغ کے ایک ایک گوشے کو اس قدر سلیقے اور منظم انداز سے ترتیب دیا ہے کہ فطرت کے اپنے شاہکار بھی اس کے سامنے ماند پڑ گئے ہیں۔ میر حسن نے یہاں صنعتِ حسنِ تعلیل کا استعمال کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ لالا کے پھول کے دل میں جو سیاہ داغ ہوتا ہے، وہ دراصل اس باغ کی حسنِ ترتیب کو دیکھ کر پیدا ہونے والا “رشک و حسد” کا داغ ہے۔ یعنی لالا کا پھول، جو خود اپنی خوبصورتی کے لیے مشہور ہے، وہ بھی اس باغ کی منصوبہ بندی اور شاہی ذوق کو دیکھ کر شرمندہ ہے۔ یہ مبالغہ آرائی لکھنوی دبستانِ شاعری کی خاص پہچان ہے، جہاں انسانی فن کو فطرت پر فوقیت دے کر پیش کیا جاتا ہے۔

شعر نمبر 3:

عمارت کی خوبی دروں کی وہ شان

لگے جس میں زربخت کے سائبان

تشریح: میر حسن یہاں باغ کے اندر تعمیر ہونے والی شاہی عمارت کی عظمت بیان کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس عمارت کے دروازے (دروں) کی شان و شوکت ایسی ہے کہ شاہی محل بھی اس کے سامنے ہیچ لگیں۔ عمارت کی چھتوں اور برآمدوں پر “زربخت” یعنی سونے کے تاروں سے بنے ہوئے قیمتی کپڑے کے سائبان لگے ہوئے ہیں۔ یہ منظر لکھنؤ کے نوابوں کی عیش و عشرت اور ان کے بلند ذوق کی عکاسی کرتا ہے۔ علمی اعتبار سے یہ شعر جزیات نگاری کا بہترین نمونہ ہے، جہاں شاعر صرف عمارت کا تذکرہ نہیں کرتا بلکہ اس کے اندر استعمال ہونے والے قیمتی مواد (سونے کے تار والے کپڑے) کا ذکر کر کے قاری کی آنکھوں میں ایک جیتا جاگتا سنہری منظر سجا دیتا ہے۔

شعر نمبر 4:

چکیں اور پردے بندھے زرنگار

دروں پر کھڑی دست بستہ بہار

تشریح: اس شعر میں شاعر نے نہایت لطیف پیرائے میں عمارت کی اندرونی سجاوٹ کا ذکر کیا ہے۔ دروازوں اور کھڑکیوں پر جو چکیں (سرکنڈوں کے پردے) اور کپڑے کے پردے لٹک رہے ہیں، وہ سونے کے کام سے مزین (زرنگار) ہیں۔ سب سے خوبصورت نکتہ دوسرے مصرعے میں ہے: “دروں پر کھڑی دست بستہ بہار”۔ یہاں شاعر نے بہار کو ایک جیتے جاگتے انسان کے روپ میں پیش کیا ہے (Personification)۔ وہ کہتے ہیں کہ باغ کی خوبصورتی اور عمارت کی سجاوٹ ایسی ہے کہ خود موسمِ بہار ایک خادم کی طرح ہاتھ باندھے دروازے پر کھڑی ہے کہ کب اسے اندر داخل ہونے کی اجازت ملے۔ یہ تخیل کی بلندی ہے کہ بہار خود اس باغ میں داخل ہونے کے لیے بے تاب ہے، مگر شاہی رعب و دبدبے کی وجہ سے باادب کھڑی ہے۔

شعر نمبر 5:

دیے چار سو آئینے جو لگا

تو چوگنا لطف اس میں سما

تشریح: میر حسن نے یہاں باغ کی وسعت اور بصری جمال کو بڑھانے کی ایک تکنیک بیان کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ عمارت اور باغ کے اردگرد ہر سمت (چار سو) بڑے بڑے آئینے نصب کر دیے گئے ہیں۔ ان ائینوں کا فائدہ یہ ہوا کہ باغ کا ہر پھول اور ہر درخت ان میں منعکس ہونے لگا، جس سے باغ کا نظارہ اور اس کی دلکشی چار گنا بڑھ گئی۔ یہ ایک سائنسی حقیقت بھی ہے کہ آئینے جگہ کی وسعت کا احساس دلاتے ہیں۔ شاعر یہاں یہ پیغام دینا چاہ رہا ہے کہ انسانی فن (آئینہ سازی) نے فطرت کے حسن (پھول پودوں) کو دوچند کر دیا ہے۔ جب ائینوں میں رنگ برنگے پھولوں کا عکس پڑتا ہے تو ایک سحر انگیز فضا پیدا ہو جاتی ہے جو دیکھنے والے کو ورطہِ حیرت میں ڈال دیتی ہے۔

شعر نمبر 6:

مخمل کا فرش اس میں ستھرا کہ بس

بڑھے جس کے آگے نہ پائے ہوس

تشریح: اس شعر میں باغ کی زمین اور وہاں بچھے فرش کی نفاست کا ذکر ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ باغ میں اس قدر نرم، ملائم اور صاف ستھرا مخملی فرش بچھایا گیا ہے کہ انسانی خواہش (ہوس) کے پاؤں بھی وہیں رک جاتے ہیں۔ یعنی انسان اس سے بہتر کسی چیز کی تمنا کر ہی نہیں سکتا۔ یہاں “مخمل کے فرش” سے مراد دو چیزیں ہو سکتی ہیں: ایک تو وہ قیمتی کالین جو عمارت کے اندر بچھے ہیں، اور دوسرا وہ ہری بھری نرم گھاس (سبزہ) جو پورے باغ میں کسی مخملی چادر کی طرح بچھی ہوئی ہے۔ شاعر کا مقصد یہ بتانا ہے کہ یہ جگہ سکون اور اطمینان کا وہ مقام ہے جہاں پہنچ کر انسان کی تمام مادی خواہشات دم توڑ دیتی ہیں اور وہ صرف اس حسن میں کھو کر رہ جاتا ہے۔

شعر نمبر 7:

زمین پر تھی اس طور اس کی جھلک

ستاروں کی جیسے فلک پر چمک

تشریح: میر حسن نے یہاں زمین کو آسمان سے تشبیہ دی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ زمین پر اس باغ اور اس کی عمارتوں کی چمک دمک اور رنگینی بالکل ویسی ہی ہے جیسے اندھیری رات میں آسمان (فلک) پر ستارے چمک رہے ہوں۔ جس طرح آسمان ستاروں کی وجہ سے پرنور اور جاذبِ نظر ہوتا ہے، اسی طرح یہ باغ اپنے رنگ برنگے پھولوں، روشن ائینوں اور سنہری کام والی عمارتوں کی وجہ سے زمین پر ایک کہکشاں کا منظر پیش کر رہا ہے۔ یہ تشبیہ باغ کی پاکیزگی اور بلندیِ مرتبہ کو ظاہر کرتی ہے کہ یہ کوئی عام زمینی باغ نہیں بلکہ زمین پر اترا ہوا ایک آسمانی ٹکڑا معلوم ہوتا ہے۔

شعر نمبر 8:

زمیں کا کروں وہاں کی کیا میں بیان

کہ صندل کا ایک پارچہ تھا عیاں

تشریح: اس شعر میں شاعر باغ کی مٹی اور اس کی مہک کی تعریف کرتے ہوئے عاجزی کا اظہار کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اس مقام کی زمین کی خوبی بیان کرنا میرے بس سے باہر ہے۔ وہ زمین دیکھنے میں ایسی لگتی ہے جیسے صندل کی لکڑی کا ایک بہت بڑا ٹکڑا (پارچہ) وہاں بچھا دیا گیا ہو۔ صندل اپنی خوشبو اور ٹھنڈک کے لیے مشہور ہے۔ شاعر کا اشارہ اس طرف ہے کہ باغ کی زمین نہ صرف دیکھنے میں صندل جیسی خوبصورت اور ملائم ہے بلکہ وہاں کی مٹی سے صندل جیسی بھینی بھینی خوشبو بھی آتی ہے۔ یہ مبالغہ آرائی اس بات کو ثابت کرنے کے لیے ہے کہ نواب نے باغ کی تیاری میں کسی قسم کی کسر نہیں چھوڑی، یہاں تک کہ اس کی مٹی کو بھی معطر کر دیا گیا ہے۔

Leave a Reply