آدمی نامہ از نظیر اکبر آبادی

آدمی نامہ از نظیر اکبر آبادی

بند نمبر 1

دنیا میں بادشاہ ہے سو ہے وہ بھی آدمی

اور مفلس و گدا ہے سو ہے وہ بھی آدمی

زردار بے نوا ہے سو ہے وہ بھی آدمی

نعمت جو کھا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمی

ٹکڑے چبا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمی

تشریح:

اس بند میں نظیر اکبر آبادی نے انسانی زندگی کے دو نظیر اکبر آبادی اردو شاعری کے افق پر ایک ایسے منفرد اور درخشندہ ستارے ہیں جنہیں “عوامی شاعر” کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ انہوں نے اردو شاعری کو درباروں اور اشرافیہ کی محدود محفلوں سے نکال کر عام آدمی کی زندگی، میلوں ٹھیلوں، رسم و رواج اور زمینی حقائق سے روشناس کرایا۔ ان کی نظم “آدمی نامہ” انسانی نفسیات، معاشرتی طبقات اور انسانی وجود کے تضادات کی ایک مکمل دستاویز ہے۔ یہ نظم اپنی ساخت کے اعتبار سے “مخمس” (پانچ مصرعوں والا بند) ہے، جس میں شاعر نے کائنات کے ہر رنگ میں چھپے ہوئے “آدمی” کو بے نقاب کیا ہے۔ یہ نظم نہ صرف دسویں جماعت کے نصاب کا حصہ ہے بلکہ اردو ادب میں بشریات (Anthropology) کے مطالعے کا بہترین نمونہ بھی ہے۔

اس بند میں نظیر اکبر آبادی نے انسانی زندگی کے دو متضاد معاشی طبقات کا موازنہ کرتے ہوئے انسانیت کی وحدت کا درس دیا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اگر ہم اقتدار کے ایوانوں پر نظر ڈالیں، جہاں ایک شخص تختِ شاہی پر متمکن ہے اور پوری ریاست اس کے اشارے پر چل رہی ہے، تو وہ بھی دراصل ہڈی اور گوشت کا بنا ہوا ایک انسان ہی ہے۔ دوسری طرف وہ مفلس اور قلاش بھکاری جو گلی کوچوں میں دستِ سوال دراز کیے ہوئے ہے، اس کی حقیقت بھی ایک انسان سے زیادہ کچھ نہیں۔ نظیر یہاں “صنعتِ تضاد” کا خوبصورت استعمال کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ وہ صاحبِ ثروت جس کے پاس دولت کے انبار ہیں (زردار) اور وہ بے بس انسان جس کے پاس تن ڈھانپنے کو کپڑا نہیں (بے نوا)، دونوں ایک ہی تخلیقی عمل کا حصہ ہیں۔ جو شخص دسترخوان پر انواع و اقسام کی نعمتوں سے لطف اندوز ہو رہا ہے اور وہ بدنصیب جو بھوک مٹانے کے لیے سوکھی روٹی کے ٹکڑے چبانے پر مجبور ہے، ان کی بنیادی شناخت صرف اور صرف “آدمی” ہونا ہے۔ شاعر کا اصل مقصد معاشرتی اونچ نیچ کی نفی کرنا ہے اور یہ بتانا ہے کہ موت اور فطرت کے سامنے امیر و غریب کی کوئی تمیز نہیں۔ یہ بند ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ مادی اشیاء انسان کی قدر و قیمت کا تعین نہیں کرتیں بلکہ انسانیت کی اصل جوہر سب میں برابر ہے۔

بند نمبر 2

فرعون نے کیا تھا جو دعویٰ خدائی کا

شداد بھی بہشت بنا کر ہوا خدا

نمرود بھی خدا ہی کہلاتا تھا برملا

یہ بات ہے سمجھنے کی آگے کہوں میں کیا

یہاں تک جو ہو چکا ہے سو ہے وہ بھی آدمی

تشریح:

اس بند میں نظیر اکبر آبادی نے “صنعتِ تلمیح” کا سہارا لیتے ہوئے تاریخ کے ان بڑے بڑے جابروں اور متکبر حکمرانوں کا ذکر کیا ہے جنہوں نے طاقت کے نشے میں چور ہو کر انسانیت کی حدود کو پار کرنے کی کوشش کی۔ شاعر کہتا ہے کہ فرعون جیسا طاقتور بادشاہ، جس نے بنی اسرائیل پر مظالم ڈھائے اور خود کو رب کہلوایا، وہ بھی آخر کار ایک فانی انسان ہی تھا جسے موت کی لہروں نے نگل لیا۔ اسی طرح شداد جس نے زمین پر مصنوعی جنت (ارَم) تعمیر کی تاکہ لوگ اسے معبود مانیں، وہ بھی اپنی بنائی ہوئی جنت کا ایک قدم بھی نہ دیکھ سکا کیونکہ وہ بھی ایک مجبور آدمی تھا۔ نمرود جیسا سرکش بادشاہ جس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے خلاف آگ دہکائی اور کھلے عام خدائی کا دعویٰ کیا، اسے ایک معمولی مچھر نے عبرت کا نشان بنا دیا۔ نظیر ان تاریخی کرداروں کے ذریعے یہ نکتہ واضح کرتے ہیں کہ انسان چاہے کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو جائے، وہ خدا نہیں بن سکتا۔ وہ اپنی اصل میں ایک کمزور اور محدود وجود ہے جسے ایک دن اپنے خالق کے سامنے پیش ہونا ہے۔ “آگے کہوں میں کیا” کہہ کر شاعر نے قاری کو خود غور کرنے کی دعوت دی ہے کہ ان جابروں کا عبرتناک انجام اس بات کی دلیل ہے کہ تکبر انسان کو زیب نہیں دیتا، کیونکہ وہ بہرصورت ایک “آدمی” ہی رہتا ہے جو وقت کے تھپیڑوں کا محتاج ہے۔

بند نمبر 3

مسجد بھی آدمی نے بنائی ہے ہاں میاں

بنتے ہیں آدمی ہی امام اور خطبہ خواں

پڑھتے ہیں آدمی ہی قرآن اور نمازِ یاں

اور آدمی ہی ان کی چراتے ہیں جوتیاں

جو ان کو تاڑتا ہے سو ہے وہ بھی آدمی

تشریح:

اس بند میں نظیر اکبر آبادی نے انسانی فطرت کے تضادات اور معاشرتی رویوں پر گہرا طنز کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اللہ کا گھر یعنی مسجد، جو تقدس اور پاکیزگی کی علامت ہے، اسے بنانے والا بھی ایک آدمی ہی ہے۔ اسی مسجد کے منبر و محراب پر بیٹھ کر جو لوگ امامت کے فرائض سرانجام دیتے ہیں اور وعظ و نصیحت (خطبہ) کرتے ہیں، وہ بھی انسان ہیں۔ یہاں تک کہ اللہ کی کتاب قرآنِ مجید کی تلاوت کرنے والے اور باجماعت نماز ادا کرنے والے بھی اسی آدم کی اولاد ہیں۔ لیکن اسی پاکیزہ ماحول میں انسانی فطرت کا دوسرا تاریک رخ بھی سامنے آتا ہے کہ وہ شخص جو عبادت گزاروں کی جوتیاں چرانے کی نیت سے مسجد میں داخل ہوتا ہے، وہ بھی کوئی شیطان نہیں بلکہ ایک آدمی ہی ہے۔ اور پھر وہ شخص جو ان جوتیوں کی حفاظت کرتا ہے یا چور پر نظر (تاڑنا) رکھتا ہے، اس کی حقیقت بھی ایک انسان کی ہی ہے۔ نظیر یہاں نہایت لطیف انداز میں سمجھا رہے ہیں کہ نیکی اور بدی، شرافت اور رذالت، امانت اور خیانت سب انسانی وجود ہی کے مختلف پہلو ہیں۔ ایک ہی انسان فرشتہ صفت بھی ہو سکتا ہے اور وہی انسان پستی کی انتہا پر بھی جا سکتا ہے۔ یہ بند ہمیں اپنی اصلاح کرنے اور انسانی نفسیات کے ان تضادات کو سمجھنے کی دعوت دیتا ہے ۔

 مشکل الفاظ معانی و اصطلاحات

مفلس و گدا: غریب اور بھکاری (مرکبِ عطفی)۔

زردار: صاحبِ دولت، امیر۔

بے نوا: بے بس، خاموش، فقیر۔

تلمیح: وہ کلام جس میں کسی تاریخی، مذہبی یا افسانوی واقعے کی طرف اشارہ ہو۔

برملا: کھلے عام، ظاہر طور پر۔

تاڑنا: غور سے دیکھنا، بھانپ لینا، نگرانی کرنا۔

بند)

بند نمبر 4

یاں آدمی ہی جان پہ وارے ہے آدمی

اور آدمی ہی تیغ سے مارے ہے آدمی

پگڑی بھی آدمی کی اتارے ہے آدمی

چلا کے آدمی کو پکارے ہے آدمی

اور سن کے دوڑتا ہے سو ہے وہ بھی آدمی

مفہوم:

اس دنیا میں ایک انسان دوسرے انسان کے لیے اپنی جان قربان کر دیتا ہے، جبکہ دوسرا وہی انسان ہے جو تلوار سے دوسرے کا گلا کاٹتا ہے۔ کوئی کسی کی عزت اچھالتا ہے تو کوئی مشکل میں مدد کے لیے پکارتا ہے، اور پکار سن کر مدد کو آنے والا بھی ایک انسان ہی ہے۔

تشریح:

نظیر اکبر آبادی اس بند میں انسانی جبلت کے دو انتہا پسندانہ پہلوؤں کو بے نقاب کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ دنیا تضادات کا مجموعہ ہے۔ ایک طرف وہ “آدمی” ہے جو ایثار اور قربانی کی اعلیٰ مثال قائم کرتا ہے اور دوسروں کی زندگی بچانے کے لیے اپنی جان تک کی پروا نہیں کرتا (جان وارنا)۔ یہ انسانیت کا وہ روشن رخ ہے جو اسے ‘اشرف المخلوقات’ کے درجے پر فائز کرتا ہے۔ لیکن دوسری ہی طرف وہ درندہ صفت “آدمی” بھی موجود ہے جو معمولی مفاد یا نفرت کی خاطر دوسرے انسان کا خون بہانے (تیغ سے مارنا) سے گریز نہیں کرتا۔ یہاں نظیر نے “پگڑی اتارنے” کا محاورہ استعمال کر کے سماجی بے عزتی اور تذلیل کی طرف اشارہ کیا ہے کہ انسان ہی انسان کی عزت کا دشمن بن جاتا ہے۔ مگر انسانیت کا جوہر پھر بھی باقی ہے، کیونکہ جب کوئی مجبور انسان مصیبت میں “چلا کر” پکارتا ہے، تو اس کی پکار پر لبیک کہنے والا اور اس کے دکھ درد بانٹنے کے لیے دوڑ کر آنے والا بھی کوئی ماورائی مخلوق نہیں بلکہ ایک “آدمی” ہی ہوتا ہے۔ نظیر کا استدلال یہ ہے کہ خیر اور شر کی یہ جنگ کسی بیرونی دنیا میں نہیں بلکہ خود انسان کے اندر اور انسانی معاشرے کے درمیان جاری ہے، جہاں ہر کردار کا محرک انسان خود ہے۔

بند نمبر 5

اشراف اور کمینے سے شاہ تا بہ وزیر

یہ آدمی ہی کرتے ہیں سب کام دل پذیر

یاں آدمی مرید ہے اور آدمی ہی پیر

اچھا بھی آدمی ہی کہاتا ہے اے نظیر

اور سب میں جو برا ہے سو ہے وہ بھی آدمی

مفہوم:

شریف ہوں یا کمینے، بادشاہ ہوں یا وزیر، سب دل پسند کام کرنے والے انسان ہی ہیں۔ یہاں مریدی کا رشتہ ہو یا پیری کا مرتبہ، دونوں طرف انسان ہی ہیں۔ نظیر! دنیا میں جو سب سے اچھا ہے وہ بھی آدمی ہے اور جو بدترین ہے وہ بھی آدمی ہی ہے۔

تشریح:

اس بند میں نظیر اکبر آبادی معاشرتی مراتب اور اخلاقی اقدار کا موازنہ کرتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ معاشرے میں طبقاتی تقسیم چاہے کتنی ہی گہری کیوں نہ ہو، “آدمی” ہونے کا لیبل سب پر یکساں لگتا ہے۔ وہ “اشراف” (شریف کی جمع) جو اپنی شرافت اور اخلاق کے لیے مشہور ہیں اور وہ جنہیں معاشرہ “کمینہ” کہتا ہے، دونوں اسی مٹی کے بنے ہوئے ہیں۔ اقتدار کی کرسی پر بیٹھا “شاہ” اور اس کی تدبیریں کرنے والا “وزیر” سب اپنی اپنی جگہ انسانی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ نظیر مذہبی اور روحانی رشتے کی مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ جو عقیدت سے سر جھکاتا ہے (مرید) اور وہ جو رہنمائی کی مسند پر بیٹھتا ہے (پیر)، دونوں بشری تقاضوں سے آزاد نہیں ہیں۔ کلام کا کلائمیکس شاعر نے آخری دو مصرعوں میں رکھا ہے، جہاں وہ خود کو مخاطب کر کے کہتے ہیں کہ اے نظیر! اگر تم دنیا میں کسی ایسے شخص کو دیکھو جو اپنے اخلاق، تقویٰ اور خدمتِ خلق کی وجہ سے “اچھا” کہلاتا ہے، تو وہ بھی ایک انسان ہے جس نے اپنی جبلت پر قابو پایا۔ اور اگر کسی ایسے شخص سے واسطہ پڑے جو شرارت، فساد اور برائی کا مجسمہ ہو، تو اس کی حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ وہ بھی ایک “آدمی” ہی ہے۔ یہ بند انسان کو خود احتسابی کا درس دیتا ہے کہ وہ اچھائی یا برائی کے کس درجے پر فائز ہونا چاہتا ہے۔

بند نمبر 6

بیٹھا ہے آدمی ہی دکانیں لگا کے یاں

اور آدمی ہی پھرتا ہے رکھ کر سروں پہ خوان

کہتا ہے آدمی ہی جو ہے کچھ کہ ہے بیان

اور سن کے آدمی ہی اسے مانتا ہے جان

دنیا میں جو ہو رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمی

مفہوم:

دنیا کے بازاروں میں دکانیں سجا کر بیٹھنے والا بھی آدمی ہے اور گلی کوچوں میں سر پر خوانچہ (ٹرے) رکھ کر مال بیچنے والا بھی آدمی ہے۔ جو فصاحت و بلاغت سے گفتگو کرتا ہے وہ بھی انسان ہے اور جو اس گفتگو سے متاثر ہو کر اسے تسلیم کرتا ہے وہ بھی انسان ہے۔ دنیا کا ہر تماشہ انسان ہی کے دم سے ہے۔

تشریح:

اس بند میں نظیر اکبر آبادی انسانی زندگی کے معاشی اور ابلاغی پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ کائنات کا معاشی پہیہ انسان ہی گھما رہا ہے۔ وہ تاجر جو بڑی بڑی دکانیں سجا کر ٹھاٹ باٹ سے بیٹھا ہے، وہ بھی ایک آدمی ہے جو رزق کی تلاش میں ہے۔ دوسری طرف وہ محنت کش جو “خوان” (ٹوکرے یا ریڑھیاں) اپنے سروں پر اٹھائے گلی گلی صدا لگا رہا ہے، وہ بھی اپنی محنت سے عظمت پانے والا ایک آدمی ہی ہے۔ یہاں نظیر امیر تاجر اور غریب محنت کش کو ایک ہی صف میں کھڑا کر دیتے ہیں۔ مزید برآں، وہ انسانی ابلاغ (Communication) کا تذکرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جو شخص منبر، اسٹیج یا محفل میں کھڑے ہو کر تقریر کرتا ہے یا بیان جاری کرتا ہے، وہ اپنی ذہانت کا لوہا منوانے والا ایک آدمی ہے۔ اس کے سامنے بیٹھ کر اس کی باتوں کو غور سے سننے والا، اس پر ایمان لانے والا اور اسے دل و جان سے تسلیم کرنے والا مجمع بھی آدمیوں ہی پر مشتمل ہے۔ مختصراً یہ کہ دنیا کے اس رنگ مٹی کے اسٹیج پر جتنے بھی کھیل تماشے، ہنگامے، رونقیں اور افسوسناک واقعات رونما ہو رہے ہیں، ان سب کا مرکز و محور صرف اور صرف “آدمی” ہے۔ نظیر کی یہ عالمگیریت انہیں ایک بڑا فلسفی شاعر بناتی ہے جو انسان کو اس کی ہمہ گیریت کے آئینے میں دکھاتا ہے۔

 ادبی و فکری تجزیہ

ادبی و فکری تجزیہ

اسلوب: نظیر کی زبان سادہ، رواں اور عوامی ہے۔ انہوں نے مشکل فارسی و عربی تراکیب کے بجائے وہ زبان استعمال کی جو گلی کوچوں میں بولی جاتی تھی۔

صنائع بدائع: نظم میں صنعتِ تضاد (امیر و غریب، نیک و بد) اور صنعتِ تلمیح (فرعون، نمرود، شداد) کا بہترین استعمال کیا گیا ہے۔

ہیئت: یہ نظم “مخمس” کی صورت میں ہے، جس کا ہر بند پانچ مصرعوں پر مشتمل ہے اور ہر بند کا آخری مصرع (ٹیپ کا مصرع) “سو ہے وہ بھی آدمی” پر ختم ہوتا ہے جو مرکزی خیال کی تکرار کر کے اثر پیدا کرتا ہے۔

پیغام: نظیر کا پیغام آفاقی ہے؛ وہ انسان کو اس کی اوقات یاد دلاتے ہیں اور مساواتِ محمدی ﷺ کا عملی نمونہ پیش کرتے ہیں ۔

عوامی اسلوب: نظیر نے “یاں”، “وارے”، “تیغ”، “خوان” جیسے الفاظ استعمال کر کے شاعری کو عوام کے فہم کے قریب کر دیا۔

فلسفہِ وحدت: پوری نظم میں “تنوع میں وحدت” کا فلسفہ کارفرما ہے کہ کردار بدلتے ہیں لیکن انسانیت کی اصل نہیں بدلتی۔

صنائع بدائع: نظم میں صنعتِ تضاد (شاہ و وزیر، مرید و پیر، اچھا و برا) کا کثرت سے استعمال کیا گیا ہے جو انسانی زندگی کے تضادات کو اجاگر کرتا ہے۔

سماجی شعور: نظیر نے محنت کشوں (خوان لگانے والے) اور اشرافیہ (شاہ و وزیر) کو ایک ہی کینوس پر پینٹ کر کے مساوات کا درس دیا ہے۔

 مشکل الفاظ و اصطلاحات

وارے ہے: قربان کرتا ہے۔

تیغ: تلوار۔

پگڑی اتارنا: ذلیل کرنا، عزت اچھالنا۔

اشراف: شریف لوگ (شریف کی جمع)۔

دل پذیر: دل کو پسند آنے والا، دلکش۔

خوان: بڑی ٹرے یا ٹوکرا جس میں سامانِ تجارت رکھ کر بیچا جائے۔

Leave a Reply